چلی ہیں دوست ہوائیں یقیں نہیں آتا۔از۔ محمود شام

0
102

چلی ہیں دوست ہوائیں یقیں نہیں آتا
گزر گئ ہیں خزائیں یقیں نہیں آتا
وہی زمین کی گردش وہی مزاج فلک
بدل گی ہیں فضاءیں یقیں نہیں آتا
وہی غرور وہی طرز بے رخی ان کی…
کریں گے اب نہ جفائیں یقین نہیں آتا
عدالتوں میں کھلیں گے صداقتوں کے پھول
وکیل مان بھی جائیں یقیں نہیں آتا
وہی رعونت اشرافیہ وہی تیور
وی اپنے آپ میں آءیں یقین نہیں آتا
زمین مال غنیمت ہے بن لڑے جن کی
وہ اس سے پاتھ ہٹائیں یقین نہیں آتا
سبھی کو زر کی ہوس ہے تو کیا بدل لیں گے
سب اپنی اپنی اداءیں یقیں نہیں آتا

SHARE

LEAVE A REPLY