اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جائیداد قرق کرنے کا حکم جاری کردیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان اور طاہر القادری کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران دونوں رہنماؤں کی مسلسل غیر حاضری پر جائیداد کی قرقی کا حکم جاری کیا گیا۔

اے ٹی سی اسپیشل کورٹ کے جج نے دونوں اشتہاری ملزمان کی جائیدادوں کی قرقی کے لیے متعلقہ تھانوں اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کو نوٹسز جاری کیے جبکہ آئندہ پیشی کی تاریخ 20 جولائی مقرر کردی۔

واضح رہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں توڑ پھوڑ اورسرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر حملے سیمت سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اسلام آباد کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔

2014 میں اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے یکم ستمبر کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کردیا تھا، جس کی وجہ سے پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی ورلڈ کی نشریات کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئی تھیں.

حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام کے تحت انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY