اسلامی طرزِزندگی(21)شمس جیلانی

0
727

آج ہم آپ کو ایک ایسے موضوع کی طرف متوجہ کر رہے ہیں جو کہ کبھی مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھا؟مگر اب وہ اسے بھول بیٹھے ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلمان آپس کی جوتم پھٹول میں مبتلا ہیں انہیں آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔ مسلم ممالک گنتی میں کہنے کو ستاون ہیں اور ان کو بے انتہا دولت اور ذرائع سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نوازا ہو ابھی ہے۔جس کو کہنے کو تو وہ معبودِ واحد اللہ سبحانہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں اس کے رسول محمدﷺپر جان دینے کو تیار ہیں مگر بات دونوں کی نہیں مانتے ہیں؟ اس کا ثبوت خود یہ آپس کے جھگڑے ہیں۔جبکہ اللہ تعالیٰ قر آن میں مسلمان کی صفت میں یہ فرما رہا ہے کہ “یہ آپس میں دوست اور مہربان ہوتے ہیں ً مگر عملی صورت ِ حال یہ ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سےلڑتے ہوئے حسد کرتے ہوئے ملیں گے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ملیں گے اس کے برعکس غیروں کے دوست اور غیروں کے بہی خواں ملیں گے۔یہ سب کچھ اس لیئے ہے کہ مسلمانوں نے اللہ اور رسول ﷺ کی بات ماننا چھوڑدی ہے۔جبکہ اس کا حل قرآن میں یہ موجود ہے کہ اگر تم میں کسی بات پرتنازع ہوجا ئے تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے رجوع کرو؟جس کے معنی تمام علما ئے اسلام اور مفسرین یہ ہی لیتے ہیں۔قرآن اور سنت سے رجوع کرو؟مگر ہم کرتے کیا ہیں۔کہ بات بات پر ان عدالتوں میں چلے جاتے جو خود فیصلے دوسرے قوانین کے تحت کرتی ہیں؟ بات بنے تو بنے کیسے؟ سمائی ہمارے اندر ہے ہی نہیں۔جسے عربی میں صبر کہتے ہیں قرآن میں جس کی بڑی تعریف آئی ہے۔معاف کرنے میں اور درگزر میں بہت بڑا ثواب ہے۔ اس کو تو ہم نے بھلاہی دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم کچھ آیتیں اور احادیث کر رہے ہیں۔ تاکہ مسلمان ذمہ داریاں پوری کرکے پھر ویسے ہی بن جا ئیں جیسے اللہ انہیں دیکھنا چاہتا ہے
(1)کیاتم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کردے اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے(الن22)
(2)سورہ احزاب (21) تمہارے رسول زندگی میں تمہارے لیئے بہترین نمونہ ہے ً یہاں ہم صرف حضورﷺ کے عفواور درگزر کے چند نمونے پیش کرتے ہیں تو بھی اس کے لیئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہوگی۔
جس سے امتی سب واقف ہیں لہذا انہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں ﷺ اللہ سبحانہ نے ایک آیت میں تلقین کی کہ آپ ﷺ دشمنو! کو معاف کرکے دیکھو وہ تمہارے دوست بن جا ئیں حضورﷺ معاف کرنے کا وہ نمونہ پیش کیا کہ اس میں بھی ان ﷺ کوئی ثانی نہیں ہے اگرصرف اس صفت میں ہی ہم بطور امتی انﷺ کا اتبا ع کرنے لگیں تو مسلمانوں ثانی کوئی دنیا میں نہیں ہو گا۔ حالانکہ اسلام میں بدلہ لینے کی اجازت ہے لیکن انہوں ﷺاپنی پوری زندگی کہیں بھی اسے استعمال نہیں کیا اور نتیجہ تاریخ گواہ ہے یہ کہ نکلا انﷺکے بد ترین دشمن بہترین دوست اور جانثار ثابت ہوئے کیا ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے؟
(3)اگر بدلہ چاہے تو اسلام میں اتنا ہی بدلہ ہے زیادہ لینا ظلم ہے اگر معاف کردے تو اس کا ثواب اللہ کے پاس ہے۔الشوریٰ آیت40)
(4حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن فرشتہ اعلان کریگا کہ جس کاثواب اللہ کے ذمہ ہے وہ کھڑا ہوجا ئے تو کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔ فرشتہ پھر اعلان کریگا کہ جنہوں نے لوگوں معاف کیا ہے کھڑے ہو جائیں تو ہزاروں کھڑے ہوجا ئیں گے۔اللہ تعالی فر ما ئے گا ان کو جنت میں داخل کردو(الطبرانی) دیکھئے معاف کرناکتنا بڑا شرف ہے کہ وہ بے حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ آئیے دعا کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا کردے۔آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY