سوشل میڈیا جہاں لوگوں کے رابطوں کو آسان بنارہا ہے وہیں نوجوانوں پر ذہنی دباؤ مرتب کر کے نفسیاتی مریض بھی بنارہا ہے۔
رائل کالج فار پبلک ہیلتھ کی حالیہ تحقیق کے مطابق موبائل، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر کا زیادہ استعمال نوجوان کے پر ذہنی دباؤ مرتب کر رہا ہے۔ اس ذہنی دباؤ کی وجہ سے نوجوان نسل نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہی ہے۔
تحقیق میں 14 سے 24 برس کے ایک ہزار 500 سے زائد نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا، جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نوجوانوں میں نیند کی کمی میں اضافہ ہورہا ہے جو ان کی ذہنی صلاحیتوں کو کم کر رہا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس میں کی گئی حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسمارٹ فون قریب رکھنے سے (خواہ بند ہی کیوں نہ ہو) دماغ کمزور ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جس کمرے میں اسمارٹ فون ہو، اس کمرے میں موجود افراد کی ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہمارے دماغ کا ایک حصہ مستقل طور پر اسمارٹ فون کے بارے میں سوچتا ہے جس کی وجہ سے فون ہمارے لیے ’’برین ڈرین‘‘ کے طور پر کام کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جس کمرے میں اسمارٹ فون موجود ہو وہاں لوگوں کو آسان کام سرانجام دینے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی تمام تر توجہ اپنے کام پر ہے لیکن درحقیقت سمارٹ فون غیر محسوس طریقے سے ان کے دماغ کے کام کرنے کے عمل کو محدود کر دیتا ہے













