حکومت اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد آئل ٹینکر مالکان نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بحال کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ہڑتال ختم کردی۔
ملک میں جاری پیٹرول بحران شدید ہوجانے کے بعد بدھ کے روز حکومت اور آئل ٹینکرز مالکان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جس میں حکومت کی جانب سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافے سمیت دیگر جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کے بحران کا خدشہ ختم ہوگیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز حکومت اور آئل ٹینکر مالکان کے درمیان ہونے والے مذاکرات بغیر نتیجہ ختم ہوگئے تھے تاہم آج دونوں فریقین نے لچک کا مظاہرہ کیا۔
مذاکرات میں وزارت پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پی ایس او سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں نے شرکت کی اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کو یقین دہانی کرائی کے حکومت کی جانب سے ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئل ٹینکر مالکان کے دیگر مطالبات دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کی سربراہی سیکریٹری پیٹرولیم سکندر سلطان کریں گے، جس کے بعد آئل ٹینکر مالکان 3 روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
یہ کمیٹی آئل ٹینکرز کے دیگر مطالبات پر مذاکرات کے ذریعے حل نکالے گی۔
واضح رہے کہ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مطالبات میں نیشنل لوجیسٹک سیل (این ایل سی) کی ترسیل کو ختم کرنے، آئل ٹینکرز کے لیے کوہاٹ ٹنل کھولنے، ریل کے ذریعے آئل کی ترسیل کو ختم کرنے کے مطالبات شامل تھے۔












