سعودی اقامہ رکھنے والے وفاقی کابینہ کے ارکان میں احسن اقبال کا بھی نام شامل ہونے کے بعد پاناما گیٹ کے بعد ایک اور اسکینڈل نے سراٹھالیا ہے۔

واضح رہے کہ حکمراں جماعت کے وزیر احسن اقبال 54 ارب ڈالر مالیت کے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کی نگرانی کررہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق احسن اقبال غیر ملکی کام کی اجازت رکھنے والے کابینہ کے چوتھے رکن ہیں، احسن اقبال کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار متحدہ عرب امارات کا اقامہ رکھنے والے دیگر اراکین ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے مدینہ کی ایک کمپنی سے اقامہ حاصل کیا۔

اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے احسن اقبال سے رابطے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔

تاہم میڈیا اطلاعات کے مطابق وہ اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ انہوں نے دو سال کے لیے سعودی عرب میں کام اور رہائش کا اجازت نامہ حاصل کیے رکھا۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘میں نے 06-2004 میں مدینہ منورہ میں ملازمت کی، جس کے بعد اقامہ برقرار رکھا لیکن اس پر کوئی معاوضہ یا تنخواہ وصول نہیں کی لہذا یہ کوئی غیرقانونی اقدام نہیں’۔

SHARE

LEAVE A REPLY