پانامہ کیس عالمی اخبارتازہ ترین۔ صدر آئینی ذمیداری پوری کریں۔عدالت

0
195

سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کا پانچ رکنی
لارجر بینچ فیصلہ سنائے گا۔

تا ہم کاروائی نصف گھنٹی تاخیر سے بارہ بجے پاکستانی وقت کے مطابق شروع ہوئی

اطلاعات کے مطابق تمام جج کورٹ روم میں پہنچ چکے ہیں

عالمی اخبار کی تازہ ترین اطلاعات

اس فیصلے کو بیس اپریل کے فیصلے کا تسلسل کہا گیا ہے

جسٹس اعجاز افضل فیصلہ پڑھ رہے ہیں

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔

فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ جسٹس اعجاز افضل پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

پہلا حکم نیب دو ہفتے کے اندر ریفرنس دائر کرے

پانامہ کیس عالمی اخبارتازہ ترین۔ وزیراعظم نواز شریف نا اہل قرار دے دیا گیا

جے آئی ٹی کے ارکان کا قانونی تحفظ کیا جائے

اس سے قبل وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہمارے لیے اچھی خبر ہوگی، باقیوں کا اُن سے پوچھیں۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے،جس طرح عدالت نے سپورٹ کرنے کے لیے کہا، کیا گیا۔
ن لیگی رہنمانے کہا کہ وزیر اعظم نے پاناما پر سپریم کورٹ کو خود خط لکھا تھا۔

ایک صحافی کے جانب سے پوچھے گئے سوال پرمریم اورنگزیب نے کہا کہ ہمارے لیے اچھی خبر ہوگی، باقیوں کا اُن سے پوچھیں

واضح رہے کہ 3 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز کا معاملہ صحافیو ں کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے اٹھایا تھا۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے ) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام شامل تھے۔
ڈیٹا کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین نواز کئی آف شورکمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے۔ ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا، اس حوالے سے وزیر اعظم نوازشریف نے دوبار قوم سے خطاب کیا اور ایک بار پارلیمنٹ میں بھی خطاب کیا۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں تحقیقات کیلئے ٹی اوآرز بنانے کیلئے کوشش کرتی رہیں لیکن حکومت کا اصرار تھا کہ احتساب کا عمل سب سے شروع ہونا چاہیے جبکہ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ صرف وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کا پہلے احتساب ہونا چاہیے۔

بعدازاں اس حوالے سے عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید احمد سمیت دیگر افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔ اس پر اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جما لی کی سربراہی میں پہلی مر تبہ یکم نومبر 2016 کو پاناما کیس کی سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیا گیا، کچھ روز سماعت کے بعد سابق چیف جسٹس کی ریٹائر منٹ کی وجہ سے یہ بینچ ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد نئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا جس نے کیس کی سماعت کی اور سماعت مکمل کر نے کے بعد 20 اپریل 2017 کو اپنا فیصلہ سنایا۔ پانچ رکنی بینچ کے تین ججوں نے پاناما پیپرز کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ سنایا جبکہ دو ججو ں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو صادق اور امین قرارنہ دیتے ہوئے نا اہل قرار دیا۔

تین رکنی بینچ نے ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی واجد ضیا کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی۔ اس میں نیب، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، آئی ایس آئی، ایم آئی کے نمائندے شامل تھے۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈٖار، چیئرمین نیب، صدر نیشنل بینک، اس وقت کے چیئرمین ایس ای سی پی کو طلب کر کے ان کے بیانات ریکارڈ کیے تھے۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کو 6 بار جبکہ حسن نواز کو 3 بارطلب کیا تھا۔ وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی طلب کیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی نے 63 روز میں تحقیقات مکمل کر کے 10جولائی کو رپورٹ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو پیش کی تھی۔ جے آئی ٹی نے 10 جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائی۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ پر جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فریقین کے اعتراضات 17 جولائی سے سنے اور پانچ روز مسلسل سماعت کے بعد 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY