انتیس جولائی 1969ء ممتاز شاعر عندلیب شادانی انتقال کرگئے

0
237

ڈاکٹر عندلیب شادانی ٭29 جولائی 1969ء کو اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ محقق اور مترجم ڈاکٹر عندلیب شادانی نے ڈھاکا میں وفات پائی اور ڈھاکا ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی یکم مارچ 1904ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا مجموعہ کلام ’’نشاط رفتہ اردو‘‘ کے اہم شعری مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں نقش بدیع‘ تحقیق کی روشنی میں‘ نوش و نیش‘ سچی کہانیاں‘ شرح رباعیات‘ بابا طاہر اور دور حاضر اور اردو غزل گوئی کے نام شامل ہیں۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی ڈھاکا یونیورسٹی میں شعبہ اردو اور فارسی کے سربراہ اور آرٹس فیکلٹی کے ڈین کے منصب پر فائز رہے تھے اور اسی سال 30 جون کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عندلیب شادانی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔ جناب عندلیب شادانی کے دو اشعار ملاحظہ ہوں: جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو …… گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں انہی کی یاد میں میری زندگی ہے

دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا، ویسے ہم گھبرائے تو

شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول

اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو

چاہت کے بدلے میں ہم نے بیچ دی اپنی مرضی تک

کوئی ملے تو دل کا گاہک، کوئی ہمیں اپنائے تو

کیوں یہ مہر انگیز تبسم، مدِنظر جب کچھ بھی نہیں

ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آجائے تو

سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے

پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو

جھوٹ ہے سب، تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے

اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو

نادانی اور مجبوری میں کچھ تو یاروں فرق کرو

اک بے بس انسان کرے کیا ٹوٹ کے دل آجائے تو

(عندلیب شادانی)

SHARE

LEAVE A REPLY