کن افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

0
2237

ہارٹ اٹیک یا دل کا دورہ اکثر جان لیوا ہوتا ہے اور اگر جان بچ بھی جائے تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ اس کے دوسرے اٹیک کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

اب ماہرین طب نے بتایا ہے کہ جن لوگوں کے جسم جینیاتی طور پر کیلشیئم کا زیادہ ذخیرہ کرتے ہیں، ان میں اس جان لیوا مرض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ کیلشیئم جسم کے لیے بہت اہم ہے جو کہ جسم میں خون گاڑھا ہونے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بھی کرتا ہے، تاہم اس کی زیادہ مقدار خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جسم میں کیلشیئم کی زیادہ مقدار اور امراض قلب کے درمیان تعلق موجود ہے۔

اس تحقیق کے دوران لگ بھگ دو لاکھ افراد میں مختلف جینز کا جائزہ لیا گیا جو کہ کیلشیئم کے لیول سے جڑے ہوتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جینیاتی طور پر کیلشیئم کی زیادہ مقدار اکھٹا کرنے والے افراد میں امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ کیلشیئم کی سطح میں اضافہ مختلف جان لیوا امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY