دفتر کے اوقات میں ہی کیوں نیند آتی ہے؟

0
57

سوال یہ ہے کہ آخر دفتر کے اوقات میں ہی کیوں نیند آتی ہے؟بھارتی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی کے ایک جنرل ڈاکٹر ہریش ٹولیانے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انسانی جسم کی اپنی ایک گھڑی ہے جو دن اور رات کے درمیان فرق سے آگاہ کرتی ہے، ایسے افراد جو اپنی رات کی نیند پوری نہیں کرتے یعنی دیر سے سوتے ہیں ، انہیںدفتر کے اوقات میں نیند کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں،دفتر میں نیند آنا جسم کی بے آرامی اور توانائی میں کمی کی نشانی ہے ۔

ماہر کا بتانا ہے کہ نیند کی کمی سے کام پر صحیح طرح توجہ نہیں ہو پاتی جس سے کام میں غلطی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ، چڑچڑاہٹ ہوتی ہے، کام میں دل نہیں لگتا اور بے سکونی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ کام کے حوالے سے اپنے آفس کےساتھی سے بھی بلا وجہ تکرار ہو جاتی ہے۔

دفتر میں نیند سے چھٹکارا کیسے پائیں؟
انہوں نے کہا کہ یہاں یہ سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہی ہو تا ہے تو اس پر فوری عملکی ضرورت ہے تاکہ آپ کے کام کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔

دفتر میں نیند سے نجات کا طریقہ:

ماہر ین کے مطابق کوشش کریں کہ رات کو بھر پور نیند لیں جس کے لئے جلدی سوئیں تاکہ پورے آٹھ گھنٹے کی نیند لے سکیں۔ایک امریکی جرنل میں شائع کئے گئے مطالعے میں کہا گیا ہے کہ نا مکمل نیند دل کی بیماری یا اسٹروک کے امکانات کو دوگنا کر دیتی ہے۔

رات کو پرسکون نیند کے لئے ٹپس:

لیپ ٹاپ اور موبائل فون کو اپنے بستر سے دور رکھیں تاکہ موبوئل کی آواز سے نیند میں خلل نہ آئے، سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ وقت گزاری بھی نیند میں کمی کا سبب ہے۔

دفتر میں نیند سے چھٹکارا کیسے پائیں؟
رات گئےکسی بھی بھاری جسمانی سرگرمی سے اجتناب برتیں، رات کو بتی گل کر کر یا دھیمی کر رکے سوئیں تاکہ راشنی سے نیند پر فرق نہ پڑے۔

خیال رہے روز آپ کے سونے اور جاگنے کے اوقات ایک جیسے ہو نے چاہئے یعنی وقت پر سوئیں، وقت پر جاگیں۔

رات کو بستر پر جانے سے قبل چند اہم کام:

غسل لینا، مراقبہ کرنا، موسیقی سننا، رات کو بستر پر جانے سے پہلے یہ چند اہم کام کرنے سے پر سکون نیند آتی ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کو سونے سے پہلے کوئی بھاری غذا نہ لیں جو ہضم نہ ہو سکے اور رات کے کھانے اور سونے میں کم ازکم دو سے تین گھنٹے کا وقفہ ہونا ضروری ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY