ماہِ رمضان شروع ہوچکا ہے سب کو رمضان بہت بہت مبارک کہ ایک بار پھر اپنے گناہوں کی معافی اور اپنی کوتاہیوں پر توبہ کا ایک موقعہ نصیب ہو ا ہے ،اللہ سے دعا ہے کہ سب کی عبادات کو قبول فرمائے۔ خلوصِ نیت سے روزے رکھنے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ملک میں امن و امان رہے آمین
ہمارا بھی دل نہیں چاہتا کہ ہم اپنے لوگوں کو برا کہیں یا اُن پر ایسی تنقید کریں جو زیب نہ دیتی ہو ۔یہ بات ہم اپنے بہت سے کالموں میں لکھ بھی چکے ہیں ۔لیکن وائے قسمت کہ ہمیں ان دہائیوں میں کوئی بھی ایسا موقعہ نہیں ملا کہ ہم تعریفوں کے پُل باندھ دیتے یا اُن ترقیوں پر کچھ لکھ سکتے جو حکومت کی طرف سے ہوئی ہوتیں ۔لیکن ہم حیران ہیں کہ ہمیں یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ میمو گیٹ کے باوجود پچھلی حکومت نے ہمارا سر شرم سے اتنا نہیں جھکایا تھا جتنا اس دور میں ہم اپنے سر کو اُٹھانے کے لئے بے شمار زور لگاتے ہیں اور ایک ہی بیان ہمیں پھر نیچے پٹخ دیتا ہے ۔اور اُس وقت تو ہم شرمندگی کی تمام حدود سے گزر جاتے ہیں جب ہمارے وزیرِ اعظم اُن باتوں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں جن کا دفاع خود کہنے والا انٹرویو دینے والا چھپوانے والا نہیں کرتا بلکہ دھڑلے سے اپنی بات پر اپنے انٹرویو پر قائم رہتا ہے ۔اب ہم انہیں ڈرون وزیرِ اعظم نہ کہیں تو کیا کہیں کہ ڈرون بھی نہیں دیکھتا کہ کب کہاں حملہ کر رہا ہے اور یہ بھی نہیں دیکھتا کہ اُس کے حملے سے بے گناہ تو نہیں مارے جائینگے اسی طرح ہمارے ڈرون وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی بھی پارلیمنٹ میں آکر وہ بیان کرتے ہیں جو کسی صورت بھی جائز نہیں ہے کہ ۔ نا اہل صاحب کہہ رہے ہیں میں نے جو کچھ کہا اُس پر قائم ہوں لیکن یہ کہتے ہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ۔وہ بیان جسے خود نا اہل صاحب نے پڑھ کر سنایا وہ کیسے توڑا مروڑا گیا اس پر بھی روشنی ڈال دیتے تو بہت اچھا ہوتا ۔
ہمیں نہیں پتہ تھا کہ امن کی آشا میں ہم اس قدر دور تک نکل جائینگے کہ ملک کہیں نظر نہیں آئیگا ۔صرف اور صرف اپنے مفاد کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کی روایت بھی بڑی ہی انوکھی ہے ۔ہم نے ملک کی خاطر جانیں قربان کرتے اپنے جوان فوجی پولیس کے اہلکار اور عام آدمی دیکھے ہیں ۔وہ جوان جو سرحدوں پر اُسی دشمن کا نشانہ بن رہے ہیں جس کا چورن ہم بیچ رہے ہیں ۔اور وہ جوان جن کی وجہ سے ہم اپنے گھروں میں محفوظ ہیں ،جن کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں وہ ہی ہمارا حدف بن رہے ہیں اس سے زیادہ زیادتی کیا ہوگی ،ہم کبھی کسی بھی ملک میں فوجیوں اور ملک کی حفاظت کرنے والوں کی اتنی نا قدری نہیں دیکھی جتنی ان پانچ سالوں میں ہوئی ہے ۔
ہم سمجھ نہیں پاتے کہ بغض اور عناد کا نعرہ لگانے والے خود اس عمل میں کتنے آگے نکل گئے ہیں ۔وہ ملک جس نے انہیں اتنی عزت اور دولت دی ۔اتنی شان اور شوکت دی جس کے یہ اہل نہیں تھے ۔اُس ملک کو بھی انہوں نے کچھ نہ دیا سوائے زلت اور رسوائی کے ۔لیکن جادو سر چڑھ کر جب ہی بولتا ہے جب کرنے والے کو چھوٹ ملے اور ہم یہ دیکھ دیکھ کر حیران ہیں کہ ایک ایسے شخص کو جسے نا اہل قرار دیا گیا ۔اسے کس طرح شان کے ساتھ نیب عدالت میں لایا جاتا ہے کس طرح پرٹو کول دیا جاتاہے ۔ہمارے ڈرون وزیرِ اعظم ایسے شخص کے لئے ہر دم ایک ہی راگ الاپتے ہیں کہ وہ ہی میرا وزیر اعظم ہے تو کیا ان تمام حلف سے رو کردانی کرنے والوں کے لئے ملک کا کوئی قانون نہیں ہے ؟
کاش نوازشریف نے اُسی دن استعفیٰ دے دیا ہوتا جس دن ان پر عدالت سے نااہلی کا فیصلہ آیا تھا ۔تو شاید اتنی زلت اور رسوائی ان کے حصے میں نہ آتی اور ملک بھی انکی ہر زہ سرائی کا نشانہ نہ بنتا ۔لیکن جب ہم چھوٹ ہی دئے جائینگے تو ہمیں تو اب کسی کا بھی قصور نظر نہیں آتا ،جب تک ہم ان قوانیں کو جو ملک کے خلاف بات کرنے والوں اہم اداروں کو بے توقیر کر نے والوں اور ملک کو لوٹنے والوں کو تختئہ دار تک نہیں لے جائینگے کچھ بھی نہیں بدلے گا ؟؟؟ہم حیران صرف اس بات پر ہیں کہ کسی بھی غلط بات کو کس طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے ۔یہ سارے حلف لینے والے جس طرح نواز کی حمایت کرتے انکی باتوں کو بیانات کو صحیح قرار دیتے نظرآتے ہیں وہ ہمیں دکھ دیتا ہے ۔شاید یہ صرف اس حلف کی پاسدار ی کرتے ہیں جو یہ پارٹی کو دیتے ہیں ۔۔ وہاں ملک نہیں ہوتا صرف اور صرف شخصیت ہوتی ہے جس کے گرد انکی وفاداریاں گھومتی ہیں ۔
جس طرف دیکھیں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ساری دنیا نفرت اور انتقام کی لپیٹ میں آئی ہوئی ہے جو خود انسانوں نے پھیلائی ہے ۔نہ اسکول محفوظ ہیں نہ عبادت گاہیں نہ اسٹیڈیم محفوظ ہیں نہ راستے ۔کیونکہ انسانیت کو ہم نے روند ڈالا ہے ۔ا پاکستان ہو یا افغانستان ،امریکہ ہو یا سیریا ،عراق ہو یا لیبیا سب ہی اس دھشت اور وحشت کی لپیٹ میں ہیں ۔کہیں معصوم طالبعلم اپنے ہی ساتھی کی گولیوں کا شکار ہیں کہیں عام آدمی کسی دھشت گرد کے دھماکوں کا نشانہ ہیں ۔صرف نفرت کام کر رہی ہے اختلاف جانیں لے رہا ہے ۔ اصلحہ عام ہے خاص کر امیریکہ میں کچھ عرصے سے جو فائرنگ ہو رہی ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ اٹھارہ بیس سال کے جوان جانیں لے رہے ہیں اسکول کے بچوں کی ۔ہمیں ہر اُس بچے سے اور معصوم سے ہمدردی ہے جو ایسے واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور خوف کا شکار ہوتے ہیں ۔انکی زندگیوں پر ان حادثات کے کیا اثرات ہوں گے یہ شاید کوئی بھی نہیں
سوچتا ،ایک پاکستانی بچی بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوںی ۔ہم ان تمام ماؤں کے دکھ میں شریک ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کے لاشے اٹھائے ۔ بچے دنیا کے کسی بھی ملک کے ہوں سب کے ساجھے ہیں ۔
ساری دنیا کو اب سوچنا چاہئے پاکستان نے جس جوانمردی سے ان دھشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے دہائیوں سے وہ قابل تعریف بھی ہے اور ہمت اور شجاعت کی مثال بھی ،دنیا کچھ بھی کہے ہمارے جوانوں نے ان دھشت گردوں کے آگے بند باندھے ہیں ،یہ اور بات ہے کہ ہمیں اپنے ان جوانوں کو سراہنے اور انکی تعریف کرنے کی توفیق نہیں ہوتی لیکن وہ اللہ کے حضور اور دنیا میں بھی سرخرو ہیں ہمارے وہ تمام شھید جو ملک اور قوم پر قربان ہوتے ہیں دوسروں کو بچانے کے لئے ۔اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کے لئے وہ ہمارا فخر ہیں ،ہمیں ان پر ناز ہے ۔کہ ایسے نڈر جیالے شاید ہی کہیں ہوں ۔
آگے کیا ہونے والا ہے ہمیں نہیں معلوم ،بس اتنی التجا ہے سب ہم وطنوں سے کہ ملک کو سب سے پہلے رکھو پھر اپنی پسند اور نا پسند کی بات کرو ملک ہے تو ہم سب بھی ہیں ملک ہے تو ہماری شناخت بھی ہے اور ہماری پہچان بھی یہ وہ نعمت ہے جس کا بدل ساری دنیا میں کہیں نہیں زرا ان سے پو چھو جن کو یہ نعمت نصیب نہیں ۔اس لئے قانون کی پاسداری کرو چاہے کتنا ہی عزیز ہو کتنا ہی قریب ہو اگر وطن دشمن ہے تو چھوٹ مت دو ۔سزائیں دو تاکہ ملک بچے اور ہم سب واقعئی آزاد ہونے کا نعرہ لگا سکیں ۔
نواز صاحب اور انکے رُفقاکا صرف ایک ایجنڈا ہے کہ کرپشن میں نہ سزا ہو اسی لئے وہ جو کچھ کر رہے ہیں سب کو نظر آرہا ہے کہ یہ دو ہزار اٹھارہ ہے ۔لیکن جتنی چھوٹ دی جارہی ہے وہ سمجھ سے باہر بھی ہے اور شاید آنے والے وقت میں خطرناک بھی ۔کیونکہ یہ سوال نامے ہم نے پہلے کسی کو دئے جاتے نہیں دیکھے قانون سب کے لئے ایک ہونا چاہئے یہ تفریق نقصان دہ ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ آگے بھی بڑے بڑے نام قانون کی گرفت میں آنے والے ہیں جیساکہ خبروں سے پتہ چل رہا ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY