ابوظہبی میں ’عقابوں‘ کا ایک منفرد اسپتال

0
787

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں جرمن ماہر حیوانات کے زیرانتظام چلنے والا ’عقابوں‘ کاایک اسپتال بنایا گیا ہے۔

اس اسپتال کی سربراہ ایک جرمن ماہر حیوانات مارگِٹ میولر ہیں۔

وہ ایسے پرندوں کا خیال رکھتی ہیں جو عرب ممالک کے مردوں کا بہترین مشغلہ اور تفریح کا ذریعہ ہیں

 ایک اماراتی شیخ کے 80عقابوں کے لگژری انداز میں ہوائی جہاز میں سفر کرنے کی تصاویر سامنے آئیں تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اب ان عقابوں کی لگژری زندگی کی ایک اور ایسی تصویر سامنے آ گئی ہے کہ آپ گزشتہ خبر کو بھول جائیں گے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی تصویر عقابوں کے لیے بنائے گئے ایک ہسپتال کی ہے۔ یہ ہسپتال ابوظہبی میں موجود ہے جہاں عقابوں کے علاج کے لیے دنیا کی جدید ترین مشینری میسر ہے۔ اس ہسپتال میں عقابوں کو علاج کی جو سہولیات دستیاب ہیں وہ دنیا کے اربوں انسانوں کو نہیں ہوں گی۔ 1999ءمیں قائم ہونے والا یہ ہسپتال دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور جدید ہسپتال ہے جہاں تمام عرب ممالک سے عقابوں کو علاج کے لیے لایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان عقابوں کو لگژری کاروں میں اس ہسپتال میں لایا جاتا ہے جہاں ایک عقاب کے علاج پر اوسطاً 8ہزار پاﺅنڈ (تقریباً ساڑھے 10لاکھ روپے) خرچ آتا ہے۔ ہسپتال کی منظرعام پر آنے والی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی عقاب مخصوص طرح کے بنچوں پر بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹران میں سے ایک عقاب کو اپنے ہاتھ پر بٹھاکر اندر لیجا رہا ہے، جس کی شاید باری آ چکی ہو گی۔رپورٹ کے مطابق اس ہسپتال میں سالانہ اوسطاً 11ہزار 200عقابوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ان عقابوں کی قیمت بھی حیران کن حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق اچھی نسل کے عقاب کی قیمت 10لاکھ پاﺅنڈ(تقریباً 13کروڑ 26لاکھ روپے) تک ہوتی ہے۔ عرب دنیا میں عقاب پالنا ایک قدیم مشغلہ ہے اور اسے خطہ عرب کی ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اکثر ایئرلائنز نے عقابوں کے سفر کے لیے قانون وضع کر رکھے ہیں اور ان کے ٹکٹ کی قیمتیں بھی مخصوص کر رکھی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY