انڈین میڈٰیا کے مطابق معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور نیشنل انویسٹی گیشن (این آئی اے) نے ان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کاعمل شروع کر دیا ہے۔

این آئی اے نے گزشتہ ہفتے ڈاکٹر نائیک کو مفرور قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔ بھارتی تفتیشی اداروں کا الزام ہے کہ ڈاکٹر نائیک نے اپنی تقاریر کے ذریعے مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پھیلائی اور نوجوانوں کو انتہاء پسند سرگرمیوں میں ملوث کیا۔ بنگلا دیش میں ایک دہشتگردانہ حملہ کے ملزم کے بارے میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ وہ ڈاکٹر نائیک کی تقاریر سے متاثر تھا۔

رواں سال اپریل میں ان کیخلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ کیس درج کرنے کے ایک روز بعد حکومت نے ان کی تنظیم اسلامک ریسرچ فاونڈیشن(آئی آر ایف) پر پابندی عائد کر دی۔ این آئی اے نے ان کے خلاف 18 نومبر 2016ء کو غیر قانونی اور ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کیس درج کیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر نائیک ملک واپس نہیں لوٹے ہیں اور ان پر اشتعال انگیزی کرنے اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک سے رقم حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے این آئی اے نے عدالت میں نائیک کو بھگوڑا قرار دینے کی عرضی داخل کی تھی اور خصوصی عدالت سے ان کی پراپرٹی سیل کرنے کے لئے بھی اجازت طلب کی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY