چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ ملک کی معیشت دگرگوں ہے مگر سب میری گھڑی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

ویڈیو لنک خطاب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ میری ذاتی گھڑی ہے، بیچوں یا کچھ بھی کروں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جبکہ قرضے بڑھتے جا رہے ہیں، ڈالر کم ہوتے جا رہے ہیں تو پھر ہم قرضے کیسے ادا کریں گے۔ آج کیوں اس پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم کو سمجھنا چاہیے کہ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، جس طرف ملک جا رہا ہے قوم کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں، قوم کو سمجھنا چاہیے کہ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان نے اپنے فرنٹ مین اسحاق ڈار کی مدد سے منی لانڈنگ کی، چوری کے پیسے سے باہر بڑی بڑی پراپرٹیز بنائی گئیں، اگر ملک ڈیفالٹ کر گیا تو ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک اگر ڈیفالٹ کی طرف چلا گیا تو یہ ہم سب کیلئے بہت نقصان ہوگا، ڈیفالٹ ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا۔

دسمبر تک اسمبلیوں سے باہر نکل آئیں گے

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری بھی جلد انتخابات نہیں چاہتے اور وہ اس عمل میں مزید تاخیر چاہتے ہیں۔ ہم اپنے پلان کے تحت دسمبر تک اسمبلیوں سے باہر نکل آئیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ملک میں یہ حکومت رہے گی تو ملک میں معاشی بحران رہے گا۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت انتخابات میں تاخیر کرنا چاہتی ہے تا کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے اور کسی طرح اس کے خلاف کیسز ڈھونڈے جائیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنا بندہ لا کر بٹھا دیا ہے اور ایف آئی اے اور الیکشن کمیشن میں بھی اپنے بندے بٹھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں ایک بددیانت شخص ہے جو ہمارے خلاف فیصلے سناتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو ملک پر تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ تھا، کورونا نے بھارت اور ایران کی معیشت کو تباہ کیا جب ہماری حکومت کو ہٹایا گیا تب شرح نمو 6 فیصد تھی، ن لیگ نے کوئی ڈیم نہیں بنایا،ہم نے 6ڈیمز پر کام شروع کیا، ہم پر چوروں کا ٹولہ مسلط کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY