وقتی وزیرِ اعظم ،گشتی کابینہ یہ ہے سیاسی منظر ۔اور ہم حیرت کے سمندر میں غرق ہیں کہ جب نہ پارٹی رہی نہ پارٹی لیڈر رہا پھر کیسا انتخاب اور کیسا وزیرِ اعظم لیکن ہمارے ملک میں شاید سب کچھ ہو سکتا ہے ہم نے ابھی تک انتظار کیا تھا کہ شاید کوئی اس پر بولے مگر کسی کی زبان میں طاقت نہیں ہے شاید اور ہم بھی قانون نہیں جانتے لیکن جو کچھ آج تک سُنا اور دیکھا ہے اُس سے تو صاف ظاہر تھا کہ الیکشن کمیشن کو پارٹی رُکنیت فورا! ختم کرنی چاہئے تھی ۔لیکن اتنا نرم گوشہ کیوں ؟ اور یہ کیوں ؟ اکثر ہمارے سامنے بہت بڑا عفریت بَن کر کھڑا ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا جواب ہمیں نہیں ملتا ۔
ایک مرحلہ طے ہوا کہ وزیرِ اعظم کُرسی پر براجمان ہوئے مگر عندیہ یہ دیا ہے کہ کھڑے رہینگے کیونکہ کرسی گرم رکھنے کا اُن کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ہمیں خوشی ہوئی اور ایک اینکر کے اس جملے نے کہ وقتی وزیرِ اعظم آگئے ہیں ہمیں موضوع مہیا کر دیا ۔ حالات دیکھ کر ہم نے سوچا کہ وزیرِ اعظم وقتی ہیں اور حالات کہہ رہے ہیں کہ کابینہ گشتی ہو گی جو مری کی پُرٍفضا ہواؤں کا لطف لیتی ہوئی گشت کرتی رہے گی کبھی پارلیمنٹ میں اور کبھی مری میں کہ اس کے بغیر وہ چل نہ سکے گی ۔

ہم نے اپنا موضوع بہت سوچ سمجھ کر لکھا ہے ۔یہ وہ حقیقت ہے جسے اگر سمجھ کر پڑھا جائے تو ہم خوش ہونگے کہ ہماری عورتیں فرشتہ بھی ہیں اور زیادہ تر ہیں شاید ۔۔ ہم میانہ روی کے قائل ہیں اس لئے خود کو درمیان میں رکھتے ہیں ۔

ہم کہاں تک بے وقوف بنینگے اور کہاں تک ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگائینگے ہمیں نہیں پتہ مگر ایک بات ضرور جانتے ہیں کہ ہم نے اقدار کا جنازہ اس شان سے نکالا ہے کہ بس۔ ۔۔ہمارے ملک میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں اردو سَرِ فہرست ہے اور قومی زبان بھی ہے اس لئے سب ہی اردو بولنا چاہتے ہیں لیکن جن کی یہ زبان نہیں ہے وہ جب اسے بولتے ہیں تو بہت ساری غلطیاں بھی کرتے ہیں اُن کا لہجہ بھی وہ نہیں ہوتا کیونکہ ہر حال میں اُن کا لہجہ اُنکی زبان کے لئے ہوتا ہے ۔اس لئے ایک لیڈر کو صرف ایسی اردو بولنے پر ہم نے اُس کی ہر بات کو گالی جیسا لفظ دے دیا جو کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔ جب کہ اگر دیکھا جائے تو یہ برے الفاظ سب سے پہلے سیاست میں شاید محترم بھٹو صاحب نے زورِ تقریر ادا کئے ۔پھر محترمہ کیونکہ اردو نہ بول پاتی تھیں اُن سے بھی سہو ہوتے تھے گو برے الفاظ نہیں تھے مگر اکثر برے لگتے تھے انہیں معافی دی جاتی تھی ہر سننے والے کی طرف سے ،کہ یہ ٹھیک اردو نہیں بول پاتیں ۔لیکن ہمارے تمام ہی لیڈر جن کی بھی تقریر اُٹھا لیں زبان کے معاملے میں کوئی بھی بری الذمہ نہیں ہے ۔اس لئے کسی ایک کو صرف اس بات پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا کہ وہ الفاظ ٹھیک نہیں بولتا ،جو بات غلط ہے غلط ہے بے شک خیال رکھنا چاہئے لیکن یہ جو ہم نے سارا الزام ہی ایک اُس شخص کے سر ڈال دیا جسے کتنا بھی برا کہو تمہیں شعور دے رہا ہے ہمت بڑھا رہا ہے کہہ رہا ہے کہ بناؤ پاکستان نہ بگاڑو پاکستان ۔ہم اُس کی سوچ کے حمایتی ہیں لیکن اُس کی کسی بھی غلط بات کی نہ طرفداری کرتے ہیں نہ بری بات کو اچھا کہہ سکتے ہیں لیکن جہاں اس قدر گند ہے کہ کوئی نہ سچ سنتا ہے نہ بولتا ہے ہر چیز کو پیسہ تول رہا ہے چاہے عذت ہو یا غیرت تو ہم حیران ہیں کہ کوئی ایک کیسے تضحیک کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔آج جو عورت کی ھُرمت کی باتیں کر رہے ہیں زرا سا پیچھے جا کر اپنے سابقہ لیڈر کی گوہر افشانیاں سُن لیں بے نظیر محترمہ کی ذات کے لئے ۔ہم اور کچھ نہیں کہیں گے ۔

سابقہ نون ہمیشہ کی طرح پھر اوچھے اور گندے ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ہے ۔ہمیں بہت دُکھ ہے کہ خواتین سب سے پہلے شکار ہوتی ہیں ان سیاسی بازی گروں کا ۔یہ صرف ایک پارٹی تھی جس میں ہم نے عورتوں کی ایک کثیر تعداد دیکھی اور ہمیں تقویت ملی کہ نہیں اب خواتین بھی اپنا رول نبھا سکیں گی ۔ سب سے زیادہ ہمیں اُن خواتین کو دیکھ کر تقویت ہوتی تھی جو اُن علاقعوں سے ہیں جہاں کی عورت کو گھر کے علاوہ کوئی کہیں بھی دیکھنا نہیں چاہتا ۔وہ خواتین جو کسی سے بھی کسی صورت نہ کم ہیں نہ پیچھے کسی بھی مرحلے میں ۔اُن خواتین کو جگہ ملی تھی ایک سیاسی پارٹی میں۔ پی پی پی کے بے نظیر کے زمانے کے بعد ۔کیونکہ بے نظیر نے بھی بڑی ٹیلینٹڈ اور اچھی خواتین ورکرز کا انتخاب کیا تھا جو کم از کم کبھی کسی اسکینڈل کا حصہ نہیں بنیں نہ خود کو بننے دیا ۔ سیاسی اختلافات کے باعث پارٹیاں چھوڑنا پکڑنا یہ حق ہے کہ اکثر ہمیں بعد میں خیال اآتا ہے کہ پارٹی ہمارے لیے کچھ نہیں کر رہی اور یہ بات زیادہ تر وہ لوگ جو شارٹ کٹ پر بھروسہ کرتے ہیں پھیلاتے یا استعمال کرتے نظر اآتے ہیں ۔لیکں افسوس کہ خواتین بہت کمزور ثابت ہوئیں جو صرف اس بات پر کہ انہیں آگے نہیں لایا جارہا پیچھے ہٹ رہی ہیں اُس کاز سے جس کا نام پاکستان کے لئے کام کرنا ہے ۔جب آپ کا کوئی متمعئہ نظر ہوتا ہے تو آپ صرف اور صرف اُس کی کامیابی کو دیکھتے ہیں اُس کے فائدے کو نہیں ۔فائدہ اُس کا پورے ملک کے لئے ہونا چاہئے آپ کسی بھی عہدے کسی بھی تمغے کے طلبگار نہیں ہوتے جب آپ خلوص اور مُحبت کے ساتھ کسی کام کا تہیہ کرتے ہیں ۔جب آپ سب ہی پاکستان کی بات کرتے ہیں پھر پاکستان کے علاوہ کوئی بھی فائدہ کیسا ۔پھر تو صرف اور صرف پاکستان مدِ نظر ہونا چاہئے ۔

عورت کمزور ہے کبھی بھائی کے ہاتھوں ۔کبھی باپ کے ہاتھوں کبھی شوہر کے ہاتھوں اپنا آپ بھی داؤ پر لگا دیتی ہے ۔جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ۔لیکن افسوس یہ ہے کہ تمام عورتوں کی تزلیل ہے جو کہیں بھی کسی بھی پارٹی میں ہیں کہیں فرشتے نہیں ہیں ۔کسی ایک کو شیظان ثابت کرنے سے آپ محفوظ نہیں ہونگی آپ محفوظ ہونگی میسیج ملتے ہی طمانچہ مارنے سے ۔آپ محفوظ ہونگی اُسی وقت سب کے سامنے بات لانے سے ۔آپ محفوظ ہونگی اپنی طاقت سے ۔عورت جہاں نازک ہے شیشے سے بھی زیادہ وہیں طاقتور ہے لوہے سے بھی زیادہ ۔توڑ دیتی ہے کوئی بھی اُٹھنے والا ہاتھ اپنی طرف ۔لیکن سالوں چھپا کر اب جو کچھ سامنے لا رہی ہو اپنی دُشمن خود بن رہی ہو بلکہ تم نے تو ساری لڑکیوں کی راہ مار دی ۔

خدارا اپنا بھلا برا خود سوچو ۔اگر نکلنے کو موقعہ ملا ہے تو اپنی حفآظت خود کرو ۔کوئی مرد کبھی بھی اآگے نہیں بڑھ سکتا جب تک تم جگہ نہ دو !!!!!

ہمارے تجربے نے ہمیں پہلے دن ہی یہ باور کرایا تھا کہ خاتون خود کچھ بھی نہیں کہہ رہی ،اُس کا چہرہ اُس کی باتوں کا ساتھ نہیں دے رہا تھا یا تو بہت زیادہ پُر اعتماد تھی کہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں یا پھر کسی بے شمار دباؤ میں تھی ۔ہم اب اُس عمر میں ہیں جہاں بہت سی باتیں جلد سمجھ میں اآجاتی ہیں ۔حد سے زیادہ خود اعتمادی کبھی کبھی منہ کے بل گرادیتی ہے ۔یا پیسہ اپنی چھَب دکھا کر بے ضمیر کر دیتا ہے ۔اور اپنے مُحسِن کی پہچان بھی نہیں رہتی ۔جس قسم کے انٹرویو دئے جارہے ہیں وہ کسی بھی خاتون کے لئے کچھ اچھا تائثر نہیں چھوڑ رہے ۔

شاید محترم بیٹی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جس ٹرائب سے نکل کر آئی ہے ۔وہاں کی خواتین اور باقی اُن خواتین کے لئے کیسا گڑھا کھود رہی ہے جو کبھی بھی اپنی کسی نا انصافی پر بولنے کی ہمت کرینگی تو یہ مثال دے دی جائیگی ۔اعتبار اُٹھ جائیگا ۔پارٹیاں سوچینگی ہزار بار خواتین کے بارے میں ۔ہم بہت افسردہ ہیں ہمیں بہت تکلیف ہے کہ ہم خود اپنی خواتین کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں ۔کاش ہمت کرو اور ان رمام باتوں کے پیچھے چھپے چہرے سامنے لے آؤ کہ جان جائیں سب کہ کیا سچ ہے کیا جھوٹ اور اگر یہ لیڈر ایسا ہے تو چھوڑ دیں تمام خواتین یہ پارٹی کیونکہ کوئی بھی عورت ایسے ماحول میں نہیں رہ سکتی جہاں اُس کی عزت نہ ہو ۔لیکن ہمیں گلا لئی کی باتیں خود موقعہ فراہم کر رہی ہیں کہ ہم اُسکی باتوں کا یقین نہ کریں ۔ہم صرف عرض کرینگے خدا را اگر رستے کُھل رہے ہیں تو بند مت کرو ۔اگر عزت مل رہی ہوتو ظاہری فائدے مت دیکھو ۔گند مت اُچھالو کہ ۔

جو مارو کیچڑ میں پتھر تو چھینٹے خود پہ آتے ہیں ۔۔۔۔۔ نہ خود اپنے پرخچے یوں اُڑاؤ کاش تم سنبھلو

اللہ میرے ملک کی تمام خواتین کی حفاظت فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY