پانچ اگست 1962ءنیلسن منڈیلا کو 1990تک جیل بھیج دیا گیا

0
101

امریکہ نے 1991ء میں اپنی سرکاری فہرست سے نیلسن منڈیلا کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کیا تھا۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب لندن میں پارلیمنٹ اور ویسٹ منسٹر ایبے کے قریب نیلسن منڈیلا مجسمہ نصب کیا گیا۔ یاد رہے کہ اسی میدان میں سرونسٹن چرچل کا بت بھی نصب ہے، گوکہ نیلسن منڈیلا کا مجسمہ چرچل کے مجسمے کے مقابلے میں چھوٹا ہے، لیکن اگر ان کی جدوجہد کے حوالے سے دیکھا جائے تو پھر منڈیلا کی ایک ایسی انفرادیت نظر آئے گی، جو انہیں ہرایک سے ممتاز کرتی ہے۔

1964ء میں جیل جانے کے بعد نیلسن منڈیلا دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کے ایک علامت بن گئے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نسل پرستی کے خلاف ان کی مخالفت اس سے کئی سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔

نسل پرستی کی جڑیں جنوبی افریقہ میں یورپی حکومت کے ابتدائی دنوں سے ہی موجود تھیں، لیکن 1948ء میں نیشنل پارٹی کی پہلی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نسل پرستی کو قانونی درجہ دے دیا گیا۔ اس انتخاب میں صرف گوری رنگت والی نسل کے لوگوں نے ہی ووٹ ڈالے تھے ۔

سیاہ فام لوگوں کے حقوق کے لیے افریقن نیشنل کانگریس 1912ء میں قائم ہو گئی تھی۔ نیلسن منڈیلا اس سے 1942ء میں منسلک ہوئے۔

نوجوانوں کے گروپ کے ساتھ مل کر منڈیلا نے آہستہ آہستہ اس جماعت کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ نیشنل پارٹی کی حکومت کے اقدامات پر افریقن نیشنل پارٹی کا جواب سمجھوتہ سے انکار تھا۔ 1949 میں سفید فام قوموں کے قبضہ کو ختم کرنے کے لیے بائیکاٹ، ہڑتال، سول نافرمانی اور عدم تعاون کا اعلان کیا گیا ۔

اسی وقت افریقن نیشنل کانگریس میں نئی قیادت اُبھر کر سامنے آئی۔ اسی دوران منڈیلا پارٹی کی قومی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہوئے ۔

گزشتہ صدی کے پانچویں دہائی کی ابتداء میں نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس کی ایک مہم کے تحت ملک بھر کا دورہ کیا۔ اس سفر پر حکومت نے ”کمیونزم مخالف قانون“ کا استعمال کرتے ہوئے منڈیلا کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی۔ اس کے بعد ان کی عوامی جلسوں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ اس دوران انہیں چھ ماہ کے لیے جوہانسبرگ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کے لیے ایک نئی منصوبہ بندی تیار کی جسے ایم پلان کا نام دیا گیا۔ اس منصوبہ کےذریعے اے این سی کو زیر زمین گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

سال 1955 میں منڈیلا نےافریقن نیشنل کانگریس کا ”فریڈم چارٹر“ لکھا۔ جس میں انہوں نے قرار دیا کہ ”جنوبی افریقہ ان تمام کا افراد ہے جو یہاں رہتے ہیں۔ سیاہ فام اور سفید ۔ اور کوئی بھی حکومت اقتدارکے حق کا اس وقت تک دعویٰ نہیں کر سکتی جب تک وہ جنوبی افریقہ کے تمام لوگوں کی مرضی سے تشکیل نہ دی گئی ہو ۔“

اگلے سال 156 سیاسی کارکنوں سمیت منڈیلا پر فریڈم چارٹر کی حمایت کرنے کے لیے غداری کا کیس بنا کر گرفتار کر لیا گیا ۔ لیکن ایک طویل مقدمے کے بعد تمام ملزمان کو 1961 ءمیں رہا کر دیا گیا تھا۔

حکمران نیشنل پارٹی نے 1958ء میں ایک قانون نافذ کر دیا جو مخلوط نسل اور سیاہ فام لوگوں کو کچھ جگہوں پر جانے سے روکتا تھا ۔

دو سال بعد اس قانون کے خلاف ایک مظاہرے کے دوران لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں، جس سے 69 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ ‘شارپولے قتل ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس واقعہ کے نو دن بعد جنوبی افریقہ کی حکومت نے افریقن نیشنل کانگریس پر پابندی لگاتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اورنیلسن منڈیلا سمیت ہزاروں سیاسی کارکنوں کو بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیج دیا گیا ۔

جیل سے باہر آنے کے بعد نیلسن منڈیلا نے پيٹرمارزبرگ میں اعلان کیا کہ جب تک حکومت جمہوری مستقبل کے لئے مذاکرات پر راضی نہیں ہوتی ، ملک میں عام ہڑتال رہے گی ۔ حکومت کی جانب سے سخت ردّعمل اور ہڑتال کے اعلان کو کم حمایت ملنے کے بعد منڈیلا روپوش ہو گئے۔

حکومت اہلکاروں سے بچنے کے لیے منڈیلا کبھی ڈرائیور کے تو کبھی مالی کا بھیس بدلے رہتے۔ اس دوران وہ حمایت حاصل کرنے کے لیے ملک کے باہر بھی گئے لیکن انہیں 1962ء میں گرفتار کر کے پانچ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا ۔

دو سال بعد منڈیلا کو توڑپھوڑ کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انہیں روبین جیل بھیج دیا گیا ۔ ان حالات میں دور دور تک تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے ۔ لیکن 1970 کی دہائی میں سیاہ فام میں شعور کی بیداری کی تحریک کے آغاز اور اس تحریک کے بانیوں میں سے طالبعلم کارکن سٹیو بكو کی حکومتی حراست میں موت نے منڈیلا اور افریقن نیشنل کانگریس کی جانب لوگوں کی توجہ دوبارہ مبذول کروا دی۔

جنوبی افریقہ میں سیاہ فام قصبوں میں مخالفانہ تحریک شروع ہو گئی۔ دنیا بھر میں نسل پرستی مخالف تحریک کے لیے حمایت بڑھتی جا رہی تھی اور ساتھ ہی منڈیلا کی رہائی کے لیے بھی دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا ۔

جیل سے منڈیلا نے واضح کر دیا کہ وہ ایسے جنوبی افریقہ پر یقین رکھتے ہیں جس میں مختلف نسلوں کے لوگ مل کر رہ سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سیاسی نظم و ضبط کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔

آہستہ آہستہ جنوبی افریقہ کی حکومت الگ تھلگ ہوتی چلی گئی، تاجروں اور بینکوں نے اس ملک کاروبار کرنے سے انکار کر دیا اور تبدیلی کے لیے شور بڑھنے لگا ۔ فروری 1990ء میں نیلسن منڈیلا کو جنوبی افریقہ کی حکومت نے ستائیس سال بعد جیل سے رہا کر دیا ۔

اس سے پہلے ہی حکومت نے نسل پرستانہ قوانین میں نرمی شروع کر دی تھی اور منڈیلا کی رہائی کے بعد وہ مذاکرات کے لیے تیار ہو گئی۔

اور بالآخر وہ تاریخی موقع بھی آیا جب 1994ء میں منڈیلا جنوبی افریقہ کے صدر بنے، تب نسل پرستی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ آج قانون کی نظر میں جنوبی افریقہ کے تمام لوگ برابر ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں ۔

وہ لوگ جنہوں نے نیلسن مینڈیلا کو جیل میں قید رکھا، انہیں اذیتیں دیں، انہوں نے ان کے لیے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔

وہ ہمیشہ خوش مزاج نظر آئے اور ان کی شخصیت اور زندگی کی داستان نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ پانچ سال صدر کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد 1999ء میں انہوں نے اقتدار چھوڑدیا اور جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ بااثر سفارتکار ثابت ہوئے ۔

انہوں نے ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف مہم شروع کی اور 2010ء میں فٹ بال عالمی کپ کی جنوبی افریقہ کے لیے میزبانی حاصل کرنے میں بھی ان کی کردار شامل رہا۔

منڈیلا افریقہ کے کئی ممالک میں بحالیٔ امن کے عمل میں بھی شامل رہے۔

سال 2001ء میں معلوم ہوا انہیں پروسٹیٹ کینسر ہے اور 2004 میں انہوں نے عوامی سرگرمیوں سے یہ کہہ کر ریٹائرمنٹ لے لی کہ وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا کرنا چاہتے ہیں ۔

منڈیلا کی پیدائش 1918ء میں جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی تھی۔ وہ مديبا قبیلے سے تھے اور جنوبی افریقہ میں انہیں اکثر ان کے قبیلے کے نام یعنی مدیبا کہہ کر بلایا جاتا تھا ۔ ان کے قبیلے نے ان کا نام ”رولہلاہلا دالب ہگا“ رکھا تھا لیکن ان کے اسکول کے ایک ٹیچر نے ان کا انگریزی نام نیلسن رکھا ۔ ان کے والد تھیبو راج خاندان میں مشیر تھے اور جب ان کی وفات ہوئی تو نیلسن منڈیلا نو سال کے تھے ۔ ان کا بچپن تھیبو قبیلے کے سربراہ جوگنتابا دلنديابو کی نگرانی میں گزرا ۔

ان کی پہلی شادی 1944ء میں ہوئی تھی، اور اس سے ان کی تین اولادیں ہوئیں، تیرہ برس کے بعد ان کی علیحدگی ہوگئی۔

انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور 1952ء میں جوهانسبرگ میں اپنے دوست اولیور ٹیبو کے ساتھ وکالت شروع کی۔ ان دونوں نے نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف مہم چلائی ۔

اپنی 89 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے ایلڈرز نامی تنظیم تشکیل دی جس میں بڑی اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے اور سہارا دینے کے لیے دنیا کے بڑے بڑے لیڈر شامل ہوئے۔

نیلسن مینڈیلا کہتے تھے کہ ”میرے ذہن میں ایک ایسے جمہوری اور آزاد معاشرے کا تصورہے جہاں تمام لوگ پُرامن طریقے سے رہیں اور اُنہیں برابری کا موقع ملے۔ یہ وہ سوچ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے میں جینا چاہتا ہوں ، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس کے لیے میں مرنے کو بھی تیار ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY