پندرہ اگست 1947ء جمہوریہ بھارت کا یوم آزادی ہے

0
802

بھارت کا یوم آزادی 15 اگست کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو درج ذیل ناموں سے یاد کیا جاتا ہے،
سوتنترتا دوس (ہندی) : ہندی زبان بولنے والی ریاستوں میں۔
یوم آزادی (اردو) : خاص طور پر اردو طبقہ میں۔

ریاستی زبانوں میں : لسانی بنیاد پر بنی ریاستوں میں صوبائی زبانوں میں الگ الگ ناموں سے (مفہوم ایک مگر زبان الگ الگ) پکارا

جاتا ہے۔
جھنڈے کی عید : دہقانی علاقوں میں، اور تحتانوی وسطانوی جماعتوں کے متعلم اکثر اس نام سے پکارتے دیکھے جاسکتا ہے۔

بر صغیر کے دو بڑے ممالک بھارت اور پاکستان، جو برطانوی حکومت کے دوران میں ایک ہی ملک “بھارت“ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ایک وسیع ملک آزاد ہو کر دو ملکوں میں تقسیم ہوا۔

بھارت بھارت آزادی ایکٹ جو ایک پارلیمانی دفعہ تھا، اس کے تحت برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ یہ ایک ملک نہیں بلکہ برطانیہ کے زیر اقتدار کئی ممالک تھے جو متفرق تاریخوں میں آزاد ہوئے۔ لیکن 1947ء میں بھارت اور پاکستان دو ممالک آزادی کے بعد قائم کیے گئے۔ برطانوی زیر اقتدار ممالک کو کامن ویلتھ اقوام بھی کہتے ہیں

اہم اور خاص یوم جمہوریہ تقریبات نئی دہلی میں منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن بھارتی صدر جمہوریہ کی زیر صدارت اور موجودگی میں یہ تقریبات اور اجلاس بڑے ہی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔ ان تقریبات کا اہم مقصد بھارت کو خراج پیش کرنا ہوتا ہے۔

بھارت کے دار الحکومت نئی دہلی میں واقع رئسینا ہلز اور راشٹراپتی بھون کے قریب یہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اسی علاقہ میں راج پتھ (شاہراہ) اور انڈیا گیٹ باب ہند بھی واقع ہےاس تقریب کی شروع میں وزیر اعظم گلدستوں سے باب ہند کے پاس، گمنام شہید فوجیوں کو خراج پیش کرتے ہیں اور فوجیوں کی شہادت کو یاد کیا اور خراج پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد صدر ہند اس تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔

یہ تقریب اس وقت منعقد ہوتی ہے جب دفتری طور پر یوم جمہوریہ تقریبات کا اختتام ہو جاتا ہے۔ یہ تقریب 29 جنوری کو منعقد کی جاتی ہے، جو یوم جمہوریہ کا تیسرا دن ہوتا ہے۔ اس تقریب میں بھارت کی فوجی طاقتیں بھارتی فوج، بھارتی بحریہ اور فضائیہ کے بینڈ (باجے اور ساز) پیش کیے جاتے ہیں۔ اس تقریب کا انعقاد رئیسینا ہلز اور اس کے نزدیک واقع وجے چوک پر ہوتا ہے۔

اس اجلاس کی صدارت بھارت کے صدر کرتے ہیں۔ جیسے ہی صدر صاحب اس مقام پر پہنچتے ہیں، قومی سلامی دی جاتی ہے اور جن گن من گایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملیٹری بینڈ بجائے جاتے ہیں، جن میں مختلف اقسام کے طاش، نقارے، ساز، باجے، ٹرمپیٹ شامل ہیں۔

اس ترانے کے علاوہ مہاتما گاندھی کا گیت گایاجاتا ہے اور آخر میں ہندی ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا گایا جاتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY