بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاہے کہ نہ گالی سے اور نہ گولی سے، کشمیر کا مسئلہ ہر کشمیری کو گلے لگانے سے حل ہو گا، دہشت گردی کے خلاف بہت سے ملک ہماری مدد کررہے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت کے 70ویں یوم آزادی پر دہلی کے تاریخی لال قلعہ میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہمیں کشمیر کے معاملے پر مل کر کام کرنا ہو گاتاکہ کشمیر کی جنت کو ہم دوبارہ محسوس کر سکیں اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کا نام لیے بغیردعویٰ کیا کہ ‘جب سرجیکل اسٹرائیک ہوئیں تو دنیا نے ہماری طاقت کو تسلیم کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملک ہماری مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیا بھارت جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ تک محدود نہیں۔ نئے بھارت کی جمہوریت ایسی ہو گی جس میں نظام کے بجائے عوام سے ملک چلے گا۔
نریندر مودی نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی،ہم ٹیکنالوجی کے ساتھ شفافیت لانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔
ملک میں نوٹ بندی کے معاملے پر انہوں نے کہاکہ نوٹ بندی سے ہم نے کالے دھن کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تقریباً تین لاکھ کروڑ روپیہ بینکاری نظام میں واپس آیا۔
بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ‘عقیدے کے نام پر تشدد کو بھارت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ ملک امن، اتحاد اور خیر سگالی سے چلتا ہے، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہماری تہذیب اور ثقافت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت بھارت چھوڑو کا نعرہ تھا اور آج بھارت جوڑو کا نعرہ ہے۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر نرمی برتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بھارتی وزیراعظم نے تین طلاق کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف لڑنے والی خواتین کی مدد کی جائے گی۔
اپنے خطاب کی ابتدا میں ہی انھوں نے گورکھپور کے ایک ہسپتال میں درجنوں بچوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY