اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں جن شخصیات سے ملاقات کے تاثر کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہ ہو سکا، دلیپ کمار ان میں سے ایک ہیں۔

دلیپ کماراپنی اہلیہ سائرہ بانو کے ساتھ تعطیلات گزارنے کے لیے لندن آئے تھے اور شہر کے ایک خوبصورت علاقے میں اپنے فلیٹ میں مقیم تھے۔ میں اور ہندی سروس کے ہمارے ایک ساتھی شو کانت ان سے انٹرویو کرنے ان کی قیام گاہ پر گئے تو مجھے تو کم از کم بلکل یقین نہیں آرہا تھا۔ ان سے ملنے کی بے چینی میں ہم وقت سے پہلے ہی ان کے فلیٹ پر پہنچ گئے۔

عین وقت مقررہ پر دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھلا اور ہمارے سامنے سائرہ بانو کھڑی تھیں۔ پردہ سمیمں پر حسین نظر آنے والی سائرہ بانو حقیقی زندگی میں بھی اتنی ہی خوبصورت ہیں۔ تب ہی تو دلیپ صاحب مرمٹے، میں نے دل میں سوچا۔ انھیں ہمارے آنے کا علم تھا۔ سلام علیک ہوئی، بولیں، صاحب تو ابھی تیار نہیں ہیں۔

خیر خاصے انتظار کے بعد سادہ سفید کرتا اور سفید تہمند زیب تن کیے دلیپ کمار کمرے سے باہر آئے اور آتے ہی دیر سے نکلنے پر معذرت کی۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ان سے ملنے کے شوق میں اس انتظار کی بھلا کسے پرواہ تھی، مغل اعظم کا شہزادہ سیلم ہمارے سامنے کھڑاتھا۔ میری تو بلکل وہ کیفیت تھی ، ’ان کو دیکھیں کہ ان سے بات کریں۔‘daleep dave das

کئی روں تک فلمی افق پر چمکنے والے درخشاں ستارے کے رو برو، اس سے بات کرنا بس ایک حسین سا خواب ہی توتھا۔

میں سمجھتی ہوں کہ دلیپ کمار کو محض ایک عہد ساز اداکار کہنا کافی نہیں ہوگا وہ خود میں ایک یونیورسٹی ہیں۔ ان کی انتہائی کامیاب فلموں کی یوں تو ایک طویل فہرست ہے، مگر چند ایک فلمیں مثلاً مغل اعظم، گنگا جمنا، دیوداس، انداز ، رام اور شیام ایسی فلمیں ہیں جن کے کرداروں میں وہ امر ہو گئے اور بعد میں آنے والے اداکار ان سے متاثر نظر آئے۔

بالی وڈ کی ایک بہت خوبصورت اور صف اول کی اداکارہ وحیدہ رحمان کہتی ہیں کہ دلیپ کمار کے ساتھ اداکاری کرنا ان کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا کہ وہ ان کی موجودگی میں کس طرح شایقین کو اپنی جانب متوجہ کریں، کیونکہ کسی بھی سین میں پردے پر اگر دلیپ صاحب موجود ہیں تو یہ طے ہوتا ہے کہ فلمی شایقین کی نظریں صرف دلیپ صاحب پر ٹکی ہوتی ہیں۔

دلیپ کمار کی فلمیں دیکھ کر بلکل یوں لگتا ہے جیسے فن اداکاری انھیں ودیعت ہوا ہے، مگراس فن کو انھوں نے کس قدر جاں سوزی اور سنجیدگی سے نبھایا ہے، اس کا اظہار خود انھوں نے اپنی گفتگو میں کیا۔ انھوں نے اپنی ایک کامیاب فلم ’کوہ نور‘ کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس فلم میں ان پر ایک ایسی قوالی فلمبند ہوئی تھی جو کلاسیکی انگ میں گائی گئی تھی۔ اس کی فلمبندی کے دوران چہرے کے تاثرات میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے وہ ایک ماہ تک کلاسیکی گائیکی کے اسرار و رموز سمجھتے رہے اور پریکٹس کرتے رہے۔ تب کہیں جا کر اس قوالی کی فلمبندی مکمل ہوئی۔

وہ کہتے ہیں اداکاری عشق ہے، جنو ن ہے، ایک تہذیب ہے، جس کے لیے روح کی بالیدگی، بہترین تخلیقی ادب و ثقافت لازمی شرط ہے۔ مگر افسوس اب ہم بظاہر ترقی کر رہے ہیں۔ گولہ بارود تو بنا رہے ہیں مگر اندر سے کھوکھلے ہوتے جارہے ہیں۔ اسی لیے آج کی فلمیں بس اچھل کود ہو کر رہ گئی ہیں۔

شستہ اردو میں ان کی گفتگو سنتے ہوئے کئی مرتبہ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میں کسی اداکار سے نہیں کسی دانشور سے بات کررہی ہوں۔ مگر فن کی بلندیوں پر پہنچے ہوئے تخلیق کار کا کہنا تھا
’ لگتا ہے ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY