ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کو تحفظ فراہم کرنا ان کی نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔

حسن روحانی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ’ وزیرخارجہ کا بنیادی فرض ہے کہ وہ معاہدے کے ساتھ کھڑے ہو اور امریکا اور دیگر دشمنوں کو کامیاب نہ ہونے دے’۔

کابینہ کے انتخاب کے حوالے سے جاری بحث کے آخری روز حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ‘جے سی پی او کے لیے کھڑے ہونے کا مطلب ایران کے دشمنوں کے مقابلے میں کھڑا ہونا ہے’۔
خیال رہے کہ حسن روحانی نے ایک ہفتہ قبل عندیہ دیا تھا کہ اگر امریکا نے نئی پابندیاں لگانے کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ جوہری معاہدے سے دست بردار ہوں گے۔

ایران کی جانب سے جوہری میزائل کے تجربے کے بعد امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کی تھیں جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تاہم حسن روحانی نے معاہدے کو آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ایرانی معاشی جدوجہد اور روزگا ر کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

ایرانی صدر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ‘وزیرخارجہ کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے اور اس سے بیرونی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی دلچسپی میں مدد ملنی چاہیے’۔

حسن روحانی نے رواں سال مئی میں اپنی صدارت کے دوسرے دور کے لیے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور گزشتہ ماہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا یا تھا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات پر ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی تھی جب ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY