پی ٹی آئی رہنما، سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ملک معاشی بدحالی کا شکار ہے، لوگوں نے پاکستان سے پیسے نکالے ہیں، یہاں پیسے آ نہیں رہے، جا رہے ہیں، لوگ 17 ملین ڈالرز لے کر ملک سے چلے گئے ہیں۔

لاہور میں جمشید اقبال چیمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سے آج لوگوں نے پیسے نکال لیے ہیں، کوویڈ کے باوجود پی ٹی آئی حکومت نے 2 سال میں ریکارڈ پرفارمنس دی، 17 سال میں سب سے زیادہ گروتھ ہمارے دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں ڈالر آنا کم ہو گئے ہیں، ایل سیز روکی ہوئی ہیں، اربوں ڈالرز کی ایل سیز کھولی نہیں جا رہیں، آج انکم لیول گر رہا ہے، بزنس بند ہو رہے ہیں، مہنگائی کو جواز بنا کر ہماری حکومت کو گرایا گیا، یہ اگلے چند ہفتوں میں بھاگ جائیں گے، یہ جس کونے میں بھی جائیں گے عوام اور ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے 6 ماہ میں 6.5 ٹریلین کا قرض لیا ہے، ہم نے 4 سال میں 19 ٹریلین قرض لیا تھا، اس پر یہ شور مچا رہے تھے، 5 ہزار 700 کنٹینرز پورٹ پر کھڑے ہیں، انہیں کلیئر نہیں کیا جا رہا، اسٹیٹ بینک کے ریزرو 4.4 بلین ڈالرز پر آ گئے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پیسوں کی ایمرجنسی لگا کر انتخابات کو لٹکانا غیر آئینی ہو گا، سعودی فائنانس منسٹر نے قرضہ مشروط کر دیا ہے، ورلڈ بینک نے 1.1 ارب ڈالرز بھی روک لیے، سب کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کا پروگرام سائن کریں، یہ آئی ایم ایف کا پروگرام سائن نہیں کر پا رہے، وجہ یہ ہے کہ ان کا ریونیو کم ہو گیا ہے اور خرچہ بڑھ گیا ہے، آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول نہ کریں۔

SHARE

LEAVE A REPLY