زرد پتوں پہ لب کشائی ۔ آفتاب احمد کراچی

0
331

کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق اور پھر اُسے صوتی ،بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین ،ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے صحافت، صحافت پیشہ اختیار کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں ۔گو تکنیکی لحاظ سے شعبہِ صحافت کے معنی کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو با خبر رکھنے کا ہے ۔حکومتی اداروں ،تجارت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے علاوہ صحافت کسی بھی معاشرے کے کلچر ثقافتی تاریخ کو بھی اُجاگر کرتی ہے ۔جس میں فنونِ لطیفہ ،کھیل اور تفریح کے اجزاء شامل ہیں ۔شعبہ صحافت سے منسلک کاموں میں ادارات ،تصویری صحافت،فیچر اور ڈاکو منڑی وغیرہ بنیادی کام ہیں ۔

زرد صحافت کی پست ترین شکل جس میں کسی خبر کے سنسنی خیز پہلو پر زور دینے کے اصل خبر کی شکل اِتنی مسخ کردی جاتی ہے کہ اُس کا اہم پہلو قاری کی نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے ۔یہ اصطلاح اُنیسویں صدی کی آخری دہائی میں واضع ہوئی ۔جب نیویارک کے رپورٹر اپنے اخبار کی اشعات بڑھانے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ چڑ ھ کر وہشت ناک اور ہیجان انگیز رپورٹنگ اُس وقت عروج پہ پہنچی جب اشاعتی کرتے تھے ۔یہ اشاعتی جنگ بعض اخبارات نے کیوبا میں ہسپانوی فوجوں کے مظالم کی داستانیں نمک مرچ لگا کر شائع کیں ،اور امریکی رائے عامہ کو اسپین کے خلاف اِس قدر بر انگیختہ کردیا کہ امریکہ اور اسپین کی جنگ تقریباََ نا گزیر ہوگئی ۔زرد صحافت اصطلاح دراصل اس سنسنی خیز کامک سیریل سے ماخوز ہے ۔جو کہ امریکی اخبار میں شایع ہوتا تھا ۔آج کے اِس جدید دور کی صحافت اور پہلے دور کی صحافت میں فرق جاننے کے لئے مجھے ایک کہانی کا سہارا لینا پڑے گا ۔کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا جو ایک آنکھ سے کانا اور ایک ٹانگ سے لنگڑا تھا اُس کے دل میں شوخ سمایا کیوں نا اپنی ایک تصویر بنوائے جس میں اُس کے یہ جسمانی عیوب ظاہر نہ ہوں کیونکہ وہ فوٹو گرافی اورفوٹو شاپ کا زمانہ نہیں تھا اِس لئے بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو بلا کر اپنی فرمائش اِس شرط کے ساتھ آگے رکھی کہ اُس کے جسمانی عیب تصویر میں نظر نہ آنے چاہیے۔لیکن سب مصوروں نے سوائے ایک کے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ حقیقت کے برعکس تصویر نہیں بنا سکتے ۔بادشاہ کو غصہ تو بہت آیا تاہم اجتمائی انکارکی نفی کرنے والے مصورکو اپنی تصویر بنانے کا حکم دیا ۔تصویر تیار ہوگئی اور اُسے خوبصورتی اور آرٹ میں بہترین شاہکار قرار دیا گیا ۔تصویر میں مصور نے رنگ بازی کرتے ہوئے بادشاہ کو جسمانی عیوب سے پاک ایک شکاری کے روپ میں دکھایا گیا تھا ۔آج کے دور میں صورتحال اِسکے برعکس ہے کانے اور لنگڑے بادشاہ کی بے عیب تصویر بنانے والے تو لا تعداد ملیں گے اور اِنکار کرنے والا شائد ایک ہی مل سکے ۔

کسی بھی قوم یا معاشرے کی رہنمای کا فریضہ اہلِ قلم ہی ادا کرتے ہیں ۔یہ صاحبان علم و دانش ہوتے ہیں جو عام افراد کی زہنوں کی آبیاری کرتے ہیں ۔اور اِس طرح قیادت کرتے ہیں جیسے وہ میرِ کارواں ہوں۔کسی بھی قوم کی حالت اور کردار کا جائزہ اُس قوم کے ادیبوں ،دانشوروں ،شاعروں ،صحافیوں،گانے والے گلو کار ،کھلاڑی اور دوسرے اہلِ قلم کے نظریات اور کردار سے لگایا جاسکتا ہے اگر کسی قوم کے اہلِ قلم لالچ ،خوف ،دباؤ یا کسی بھی غرض کی پروا نہ کرتے ہوئے حق اور سچ کی آواز بلند کر رہے ہوں تو اُس قوم کو کوئی مرعوب نہیں کرسکتا ۔اور نہ ہی وہ قوم زبوں حالی کا شکار ہوتی ہے ۔لیکن اگر کسی قوم اور ملک کے دانشور مالی مفادات ،مراعات،لالچ میں آکر قصیدہ گوئی سرکار کی کرنے لگیں تو سمجھ لیں خوشامد کا راستہ اُنہوں نے بنا لیا ہے ۔خوف اور دباؤ میں آکر حق کی بات نہ لکھ پائیں تو وہ صحافی نہیں دلال ہے پرانے وقتوں کے بادشاہ اپنے وقت کے پڑھے لکھے لوگوں کو دربار میں جگہ دیتے مراعاتیں دیتے اور اُن سے فرمائیش کرتے ہماری شان میں کچھ لکھو ہمارے اجداد کی بہادری کے قصے لکھو ،لکھنے والے لکھتے تھے۔یہ اُس دور کی زرد صحافت تھی جو بغاوت کرتا بادشاہ اُس کا سر قلم کرادیتے کبھی وہ بادشاہوں کی مسکراہٹ پر لکھتے ،کبھی حسن و عشق کے فسانے لکھ کر محفلوں میں واہ واہ کی صدائیں سنتے ۔خلقِ خدا بھوکی تنگ دست ہاتھ پھیلائے منتظر یہ تھا اُس وقت کے لکھیاری کا مزاج کسی طریقے سے دربار تک رسائی مل جائے تاکہ وظیفہ بحال ہوجائے چند دیوانے ہوتے تھے ہر دور میں جو ظلم کو ظلم لکھتے تھے ۔سر تن سے جدا بھی ہوئے مگر وہ باز نہ آئے ۔

جدید دور میں صحافت مکمل طور پر نیا رخ اختیار کر چکی ہے وہ عوامی رائے پر اثر انداز ہوتی ہے ۔عوام کا بڑے پیمانے پر اخباروں کے حصول کے لئے اعتماد صحافت کی کامیابی کی دلیل ہے ۔اب اخباروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے پیمانے پر عوام تک رسائی ٹیلی ویثرن،انٹر نیٹ ،فیس بک ،ٹیوٹر اور ریڈیو کے زریعے بھی کی جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے دنیا میں وقوع پزیر ہونے والے واقعات کے بارے میں لمحے بھر میں آپ تک اُس کی تمام معلومات آڈیو ،وڈیو کی شکل میں دستیاب ہوتی ہے ۔واٹس اپ کے تعلق نے معاملات اور آسان کردئے ہیں اب دنیا بھر کے لوگ بہ آسانی ایک دوسرے سے فری میں بات چیت اور تبادلہ خیال بہ آسانی کرتے ہیں ۔معلومات کا حصول آسان ہوگیا ہے ۔مگر واٹس اپ پر بھی زرد صحافت کی منفرد شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ہر آدمی اپنی فکر کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے ۔سرکاری اور سیاسی پارٹیاں ،مذہبی جماعتیں سب ملکر اپنے اپنے خیالات کی مارکیٹنگ کر رہے ہوتے ہیں ۔اِس بے لگام برق رفتار گھوڑے سے کام لیا جا رہاہے ۔سیاسی پارٹیاں اپنے اصول اور منشور بتا رہی ہوتی ہیں ،مذہبی جماعتیں اپنے اپنے موقف پر وضاحت دیتی ہیں ،شددت پسند افراد بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔اور آڈیو ،ویڈیو کے زریعے پیغامات اور سخت نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔اِس سے سماج میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔

زرد صحافت ،صحافت کی وہ مسخ شدہ صورت ہے جس میں مصدقہ اور غیر مصدقہ خبروں کو سنسی خیز اندا ز میں زرائع ابلاغ کی زینت بنایا جاتا ہے تاکہ لوگ دیگر خبروں کو چھوڑکر اِس سنسی خیز خبر کی طرف متوجہ ہوں اور اخبار کی مانگ یا ٹی وی چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو ۔زرد صحافت کسی بڑے واقعہ یا کسی حادثے کی ایسی غیر زمہ دارانہ اور دانستہ طور پر مصالحے دار چٹ پٹی کوریج کا چلن ہے ۔جو لوگوں میں سنسنی ،اشتعال اور خوف پھیلانے کا بعث بنتا ہے ۔زرد صحافی اسکینڈلز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جب ایک اخبار یا ٹی وی چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے لوگوں میں سنسنی پیدا کرتے ہوئے اشتعال انگیز خبریں چھاپنے اور نشر کرنے کی پالیسی بناتا ہے تو مثبت صحافتی اقدار مجروع ہوتی ہیں ۔سماج میں انتشار ،بے چینی اورنفرت میں اضافہ ہو رہا ہے برداشت کی قوت قوموں اور مذاہب میں کمی آتی جا رہی ہے بدلے کی لگن میں اضافہ ہوا ہے ۔کھیل کے میدان بھی اکھاڑے بن گئے ہیں ۔حق اور باطل کی جنگ زہنوں پر راج کر رہی ہے۔ایک چینل یا اخبار کی جانب سے اِس قسم کی خبروں کی اشاعت اور دیگر اداروں کو بھی مجبور کرتی ہیں کہ وہ مقابلے میں ایسی ہی خبریں چسپاں کریں اور لوگوں میں اشتعال کی فضا قائم ہو سکے ۔ہندوستان اور پاکستانی صحافت بھی کاروباری رقابت کے ہاتھوں اپنی رخشندہ روایات سے محروم ہوئی ہے ایک زمانہ تھا کہ صحافیوں کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن آج کاروباری مسابقت کے باعث اُنہیں اپنے ہی مالکان اور ادارے کی جانب سے صحافتی اقدار کی خلاف ورزی پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ہر ٹی وی چینل پر ٹاک شوز ،نیوز ،اسٹیج شوز پر بٹھا کر اِن سے کام لیا جاتا ہے ۔وہ اُسی لائن کو ٹو کرتے ہیں ۔یہ وہی کام ہے جو ایک زمانے میں لیا جاتا تھا ۔ییلو کڈ میں پیلی قمیض پہنے ملکوں کے درمیان سنسنی پھیلاتے ہیں ۔خبروں اور تجزیوں سے عوامی رائے ترتیب دی جاتی ہے ۔ایک فضا بن جاتی ہے کچھ ہونے والا ہے ۔برصغیر میں صحافت کی عمر 160پرانی ہے ۔تحریک آزادی میں ہمارے صحافتی روایت کا گراں قدر حصہ ہے ۔جسے ہم فراموش نہیں کرسکتے۔جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری ،مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو خبر بنا کر پیش کرتا ہے زرد صحافت کی آبیاری میں سنسنی خیزی ،ہلڑ بازی ،سخت زبان ،طنزیہ جملے ،زرہ سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ،مخالفین کی ہنسنے بولنے اور بیٹھنے کے انداز کو بھی بریکنگ نیوز بنانا غیر معیاری طریقہ کار اور ترجیحات ہیں ۔جن کے زریعے عام خبریں حقائق اور معاملات کو عوام کے سامنے مبالغے کی حدتک بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے ۔مثلاََ دو اہم شخصیات کی بیٹھک کو حکومت کا دھڑن تختہ تک پہنچا دینا لوگوں کے جذبات سے کھیلنا ،حقائق کو چھپانا یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا کسی واقعے کا صرف ایک رخ دکھانا یا بیان کرتے وقت معاملے کو سراسر بدل ڈالنا مثلاََایک جگہ پولیس کا پہرہ دکھانا اور کہیں پولیس والے کھانا کھا رہے ہوں تو اُس کی بریکنگ بنانا کہ موج مستی ہورہی ہے یہ فرائض ہے پولیس کا اس طرح کی خبروں سے عوام میں غصے کی لہر دوڑتی ہے نفرت میں اضافہ ہوتا ہے ۔چینل اِس سے بھی زیادہ آدھی اور ادھوری خبر پیش کرتا ہے ۔اور سارا زور سبقت سامنے والے چینل سے لیجانے پر ہوتی ہے سب سے آگے لمحہ بہ لمحہ سچ اور حق کے علمبردار ،عوام کی اُمنگوں کا ترجمان یہ راگ صبح وشام آپ سنتے ہونگے دیکھتے ہونگے ۔جنسی اسکینڈلز اور اسکی خبرکی جان کاری عوام کو دینا ۔گلیمر ،جنسی کج رویوں کا سہارا بھی لیا جاتا ہے ۔کسی نے کسی کے ساتھ جنسی تعلق رکھا کیا آپ اُس کا ڈھول پیٹ کر عوام کو کیا دے رہے ہیں ۔ہمارے سماج کی کچھ اقدار ہیں شرم و حیاء ہے سب چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر اُس کا ڈھول پیٹا جاتا ہے ۔اِن عوامل سے معاشرے میں بگاڑ اورجنسی شددت میں اضافہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔سرکار خاموش چین کی بانسری بجا رہی ہے ہمارے مذاہب ،مسلک جدا ہو سکتے ہیں ،رنگ و نسل جدا ہوسکتے ہیں مگر ہماری اقدار کی نفی ہیں یہ تمام خبریں معاشرے میں جرم ان ہی کی بدولت ہو رہا ہے ۔پرم پرہ ہوتی ہے ۔ہم کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں ہماری تہذیب ہمارا کلچر ہمیں اِسکی اجازت نہیں دیتا کہ ہم جنسی بے راہ روی کا شکار ہوکر گفتگوں کریں ۔ایسی لغو فلمیں فیملی کے ساتھ دیکھیں پرم پراہ کی سا کھ ٹوٹ رہی ہے، ہم ہندو ،مسلم ،سکھ ،عیسائی سب اِس زرد صحافت کے پاؤں تللے کچلے جا رہے ہیں ۔زرد صحافت کم و بیش ،زرپرستی کی پیداوار ہے ۔ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے ۔یہ پیسہ اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے سر کاری اشتہارات کا مالک کو شددت سے انتیظار رہتا ہے تاکہ سرکار سے اچھے مراسم قائم ہوسکیں مراعت مل سکے ۔اشہتارات چلانے بنانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتی کیا دیکھانا ہے کیا چھپانا ہے وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا چھپ رہا ہے ۔جو چینل زیادہ دیکھاتا ہے اُس کا ائیر ٹائم اُتنا ہی مہنگا بکتا ہے یہ زیادہ دیکھانا ٹی آر پی ،یا ٹارگیٹ ریٹنگ پوائنٹ سسٹم کے زریعے ناپا جاتا ہے ۔میڈیا اشتہارات بنانے والی کمپنیوں کا محتاج زر خرید غلام دکھتا ہے ۔صحافت کا قلم ،صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے سبک سر ہوکر مجروع لگتا ہے ۔اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ صحافت ملک و قوم کی تعمیر و ترقی وہی کردار ادا کرے گا جو اُس کو زیب دیتا ہے تو ہمیں صحافت کو اشتہارات بنانے والی کمپنیوں سے آزادی دلانی ہوگی سوشل میڈیا کی طاقت ہم ترکی جیسے ملک میں دیکھ چکے ہیں اِسکے فوائد تو ایک طرف اِسکے نقصانات کی بھی طویل فہرست ہے جسے ہم دیکھنا نہیں چاہتے

اِسکے نقصانات کا پیمانہ بنانے کو کوئی بھی تیار نہیں ،پرنٹ میڈیا ،الیکڑنک میڈیا ،سوشل میڈیا جس سے ہم معاشرے کی اصلاح کر سکتے ہیں ۔یہ ہمارے ذہنی افق کو وسیع کرنے کے بجائے اُسے محدود اور تنگ نظر کرتے جارہے ہیں ۔اور سرگرمی سے تیز قدم آگے آگے چل رہے ہیں ۔نوجوان نسل کے ہاتھوں سوشل میڈیا کی باگ دوڑ آگئی ہے وہ بے لگام دوڑ رہے ہیں نوجوانوں کی اکثیریت فحش فلموں کا تبادلہ اور اُس پر اظہارِ خیال کی چسکیاں لیتے ہیں ۔کچھ نوجوان شددت پسندی کا لٹریچر اور ویڈیو کی اشعاعت کرتے ہیں تاکہ اُنکی فکر کی نمائندگی ہو اور لوگ اُن کے قریب آسکیں ۔مذہبی تناؤ رکھنے والے گروپ بھی سرگرم ہیں زہر آلود وڈیو بنا کر اُسے شایع کرتے ہیں تاکہ سامنے والے گروپ کی نفرت میں اضافہ ہوسکے ۔اُنگلیوں کے پُوروں کے نیچے ہماری فکر تیر رہی ہے ہم جہاں جانا ں چاہتے ہیں پہنچ جاتے ہیں یہ ہے انٹر نیٹ کے سفر کی کنجی ۔ہم نوجوان نسل کو گمراہی کی طرف دھکیل رہے ہیں قوموں ،مذاہب کے درمیان تناؤ میں اضافہ ،مسلکوں کی بالا دستی ،قومیتوں کی لڑائی ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہے ۔سر کار خاموش تماشائی ہے اُس کے تو لگتا ہے بازوں قلم ہوئے ہیں زبان پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے ۔سر کار اِس کو کشادہ زہن فکر سمجھتی ہے ۔اگر ہم اِن کی مخالفت کرتے ہیں تو ہمیں بنیاد پرستی کا تمغہ ملتا ہے ۔ہم آزادی اظہار پر پابندی چاہتے ہیں ۔نشرو اشاعت کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں ۔ہم دنیا سے ملک کو الگ رکھنا چاہتے ہیں ۔ایسے مائنڈ سیٹ والوں کو کیا کہیں ہم اپنی پرم پرہ کو قائم رکھنا چاہتے ہیں وہ اِسکو روشن خیالی سمجھتے ہیں مہذب معاشرے سے جڑنے کی اکائی بتاتے ہیں ۔زرد صحافت میڈیا کی ضرورت بن گیا ہے اِسکے بغیر چینلز چل نہیں سکتے مالکان کو اشتہارات کی ضرورت ہے مالک سیٹھ ہے یہ قلم کے مزدور یہ ہنر مندی کے جوہر دیکھانے کے لئے باریک بینی سے زرد صحافت زدہ خبریں تجزئے ،ٹاک شوز بناتے ہیں تاکہ جنتا کی رائے بن سکے ۔پھر سیاسی پارٹیوں سے بلیک میلنگ چلتی ہے ورنہ یہ ویڈیو چل گئی تو آپ کی سر کار کی چھٹی ۔کسی کی جالی فیکڑی پر چھاپہ مارا جعلی گھی ،جعلی دوائی بنانے والے کی اُس کو ملیک میلنگ کی تمہارا یہ پیکٹ چلا دینگے اِتنا دو تو بات بن سکے گی ۔کسی با اثر آدمی کا اسکینڈل مل گیا اگر بات بن گئی تو نہیں چلے گا اور نہیں بنی تو چلے گا یہ ہے زرد صحافت کے معاشر ے پر اثرات ۔صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اچھا صحافی وہ ہے جو مذہبی ،لسانی گروہ بندی ،قوموں کی تفریق سے قطع نظر بغض ،حسد ،تعصب ،جذبات کو پسِ پشت ڈال کر معاشرے میں صرف اور صرف حقائق پر مبنی سچائی کا پرچار بہادری سے کرے اور حقیقی برائی کو بے نقاب کرے ایک صحافی کے لئے صحافت کا سفر پلِ صراط پر چلنے سے کم نہیں ہوتا ،اپنے اِس سفر میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوتا ہے کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی صحافی کی اُسکے کیریر کو ڈوبنے کے لئے کافی ہوتی ہے ۔اپنے ضمیر میں مطمعین ہونا ایک صحافی کے لئے اشد ضروری ہے ۔معاشی بد حالی ختم کرنے کے لئے قلم بیچنا ماں کے سر کی چادر بیچنے کے مترادف ہے ۔حکمرانوں کی قصیدہ گوئی کرنے والے صحافی یہ صحافتی اداب بھول جاتے ہیں اُنکے نزدیک قلم سے زیادہ اپنے معاشی مسائل ہوتے ہیں اپنی فکر کو اپنے آدرشوں کو سرِعام نیلام کرنے والے صحافی نہیں ہوتے جو کسی بھی جگہ جھکتے نہیں بہادری کے ساتھ سچ لکھتے ہیں وہی نظریاتی صحافی ہوتے ہیں ۔لاکھ کوئی خریدنے کے جتن کر لے وہ نیلام نہیں ہوتے ۔حکمرانوں کی غلطیوں کو جو للکارتے نہیں سرکار اُن سے من پسند مضامین لکھواتی ہے ۔اب تو امیر ہونے کے لئے یہ راستہ بھی آسان ہے سرکار کی جی حضوری کریں مراعات ملے گی اچھے بڑے چینل میں پروگرام ملیں گے سر کار ی ملکی اور غیر ملکی دوروے بھی ہونگے یہ غلیظ کام ہی تو زرد صحافت ہے ۔زرد صحافت کا آغاز غالباََ1898 -1895میں دو اخبارات کی سر کولیشن کی جنگ سے ہوا تھا اِسکے بعد سے اصطلاح عام ہوئی ۔زرد صحافت کو اُس وقت پانچ نکات کے تحت دیکھا جاتا تھا ۔

۱)چھوٹی خبر کی بڑی بڑی ڈروانی سرخیاں لگانا
۲)بے انداز تصاویر اور تصاوراتی اشکال کا استعمال
۳)جعلی انٹر ویو ،گمراہ کن سرخیوں کا استعمال رائے بنا کر پیش کرنا
۴)مکمل رنگین ضمیموں کی اشاعت اور مزاحیہ پٹیوں پہ زور
۵)نظام کے مقابلے میں کمزور اشخاص کے لئیے ڈرامائی ہمدردی جتانا

اُس زمانے میں اِس طرح کے ڈرامائی طریقے اختیار کر کے اخبارات کی تر سیل میں اضافے کی کوششوں کو زرد صحافت کا نام دیا گیا ۔بعد میں یہ اصطلاح اپنے اندر وسعت پیدا کرتی گئی آج بلیک میلنگ کر کے مال بنانے اور پیسے لیکر مضامین لکھنے اور ٹاک شوز میں اپنی رائے وہ رائے پہلے نیلام ہو چکی ہوتی ہے پھر جنتا کان لگا کر سن کر حیران اور پریشان ہوتی ہے اِس کو آج کی اصطلاح میں لفافہ جانلزم کا نام دیا گیا ہے

آج ہر طرف بے چینی ،افراتفری ،اور پریشانی نظر آرہی ہے ،ہر فرد کا فرد سے اعتبار اُٹھ چکا ہے ۔ہر آدمی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے ۔اولاد کا ماں باپ سے رشتہ ختم ہو رہا ہے ،میاں بیوی ،دوست احباب ،سیاسی پارٹیاں ،مذہبی جماعتیں،محلے داری ،اُستاد شاگر سب منتشر فکر لئے ہوئے ہیں معاشرہ جیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے سماجی اقدار ماضی کے مزار بن رہی ہیں ۔کسی بھی معاشرے کی پہچان بنیادی قدروں کی پاسداری کا مرہونِ منت ہوتا ہے اور اگر یہ قدریں ختم ہوجائیں تو زوال شروع ہوتا ہے قوموں کی سمت صحافی کا قلم ہی کرتا ہے ۔تحمل اور رواداری جس معاشرے سے اٹھ جائے وہ انسانی معاشرہ کم اور جنگلی معاشرے کا نقشہ زیادہ پیش کرتا ہے ۔ہمارے لکھیاری اگر سچ اور حق لکھیں تو معاشرے میں تبدیلی یقعینی آئے گی ۔یورپ اور امریکہ میں ہر شخص ایک دوسرے کی خدمت پر یقعین رکھتا ہے چھوٹی سی غلطی پر معذرت اور کسی بھی کام پر شکریہ زبان ضدِ عام ہے ۔

ہم ایسا معاشرہ تخلیق کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے اور اب تو پانی نتھنوں تک آگیا ہے ۔ایسا معاشرہ جہاں قومیں اور مذاہب آپس میں دست و گریبان ہیں ،اپنے اپنے مذاہب کی بر تری کے نعرے لئے رن میں اُترے ہیں ۔رجیس پڑھتے ہوئے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیا ایک پر امن معاشرے کی تشکیل کر پائیں گے ؟۔ایک دوسرے کو برداشت کرنا ،میانہ روی ،تحمل مزاجی ،معاف کردینے کی صلاحیت ،انصاف کرنا یہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے امن اور چین کا دور دورہ رہتا ہے جن معاشروں میں اِن چیزوں کی کمی ہوتی ہے وہاں شدت پسندی ،جاہانہ پن ،غصہ ،تشددت ،لاقانونیت ،اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں ۔معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے ۔یہ نفسا نفسی معاشرے کی اجتمائی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے ۔نفرت ،تعصب کی آگ میں انسان جل جاتے ہیں خاک ہوجاتے ہیں ۔صحافی حضرات ہی قوموں کی نویدِ صبح ہیں اگر وہ بہادری سے سچ لکھیں ۔آج انسانیت کا سر شرم سے جھک رہا ہے جس طرح خرابی ایک روز میں پیدا نہیں ہوتی اسی طرح خرابی کو دور ایک روز میں نہیں کیا جا سکتا ۔

رواداری ،برداشت کی قوت معاشرے سے ختم ہے اور خاموش ہے صحافی کا قلم ،جہالت ،تنگ نظری بہت زیادہ ہے ،علم کا پھیلاؤ نہیں ہے جس سے تناؤ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔کیونکہ صحافت تو سر کار گرانے ،سرکار بچانے ،نئی سرکار لانے ،تجارتی اور صنعتی معاہدے کی دوڑ تک رہ گئی ہے ۔قوموں کی اصلاح کون کرے یہ زہنوں کو تھکا دینا والا عمل جس سے کچھ معاشی فائدہ حاصل نہیں کون اِن پر بات کرے ۔امریکہ میں یورپ میں جسطرح کسی پارٹی کو سرکار بنانے کے لئے لابنگ کی جاتی ہے اب دنیا بھر میں یہی فیشن زور پکڑگیا ہے ۔فلاع کی لابنگ کرنی ہے یہ بھی زرد صحافت کی جدید شکل ہے ۔پیسے کی بنیاد پر صحافت کے چہرے کو مسخ کیا جا رہا ہے ۔دنیائے صحافت میں بھی کھوٹے سکے ہیں جس طرح ہمارے سیاسی نظام میں مذہبی جماعتوں میں ویلفئر اورگنائزیشن میں سیاسی پارٹیوں میں ملیں گے الغرض زرد صحافت کے طوفان کو اگر روکا نہیں گیا ایک دن وہ آئے گا کہ دلال کی وقعت ہوگی صحافی کی نہیں ۔یہ آندھی صحافت کونہیں بلکہ پورے معاشرے کی سیاسی ،معاشرتی اور معاشی لحاظ سے تہس نہس کر دے گی میڈیا ہاؤس کے مالکان صحافت کے بازو مروڑتے ہوئے اور زرد صحافت کرتے ہوئے جائز ناجائز حکومتوں کی مدع سرائی کاسہ لیسی کرتے ہوئے سرکاری اشتہارات کے نام پہ زر کثیر سرمایہ کماتے ہیں انہی زرد صحافت کی پالیسوں کی بدولت خطے میں اہم نیٹ ورک کے مالکان بن گئے ہیں ۔صحافت کے نام کو رسوا سرِ بازار کیا ۔زرد صحافت دن بہ دن جدت اپنی ہنر مندی میں لا رہی ہے عوامی رائے بنانے کے لئے ویڈیو فلم بنا کر سوشل میڈیا پر پھینکی جاتی ہے اورلوگ آپس میں اُس ویڈیو رپورٹنگ پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے رائے تبدیل ہوجاتی ہے ۔معاشرے کی رائے عامہ تیار کرنے میں یہ فارمولہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔مگر اب جبکہ ٹی وی چینلز جو سرحدوں کی بندش سے آر پار صوتی اور بصری لہروں کی صورت گزر جاتے ہیں ۔اور کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں کرنی پڑتی ایسے پروگرام بنائے جائیں جو ملکوں کے درمیان سمجھے جائیں اُنہے پسند کئے جائیں ۔امن محبت کا پیغام چینلز سے ملے ،شدت پسندی کا خاتمہ ہو ،انسانیت کو افضل مقام ملے تب ہی ہم ایک با وقار قوم کہلائیں گے ۔

دنیا کا کوئی کونا کھدرا ایسا نہیں جہاں کی خبر آپ گھر بیٹھے سن ،دیکھ اور پڑھ نہ سکتے ہوں ۔اِس ٹرینڈ کو صحافت میں خبر گیری کے نام سے جانا جاتا ہے ۔جو کہ معروف معنوں میں زرد صحافت نہیں ،لیکن اِس سے زیادہ ہولناک اثرات کا حامل ہے ۔یہ ٹرینڈ امریکی ارب نے 1980ء میں چوبیس گھنٹے کے براہ راست نیوز چینل پر پہلی بار دکھایا گیا ۔برائے راست 24گھنٹے کی نشریات نے دنیا اور اُس میں ہونے والے واقعات کی جانب عام لوگوں کو دیکھنے کا زاویہ تبدیل کردیا ہے ۔یہ خبر رسانی طاقتور ملکوں کی خارجہ پالیسی کو عوام کے پیروں تلے روند رہی ہے ۔ساتھ ساتھ ان ملکوں کے تھنک ٹینکس کو بھی نہایت خاموشی سے اپنے منصوبوں ،پالیسوں اورتجاویزکو تبدیل کرنے کی راہیں دکھاتی رہتی ہے ۔کیا یہ کھلی زرد صحافت نہیں ہے اس سے انکار کیا جاسکتا ہے ۔
دوسری جانب انٹر نیٹ اور اُس کے توسط سے متعارف اور پھیلنے والے سوشل میڈیا ایک جانب زرد صحافت کا راستہ روکا ہے تو دوسری جانب اُس کے لئے دروازے کھولے بھی ہیں۔اِس غیر روائیتی میڈیا نے دنیا بھر کے متحرک لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کو آپس کی جیٹ شےئر انگ کی رفتار دے دی ہے سوشل میڈیا پر تصدیق اور تفتیش کے بغیر کسی کی پوسٹ کی ہوئی واقعاتی خبر کو فوراََ شئیر کرنے کی دوڑشروع ہوگئی ہے ۔اِس سے دنیا بھر میں سٹیزن جانلزم میں فیز بک ،ٹیوٹر ،یوٹیوب کی مدد سے فوراََ پھیلتا اور اثرات مرتب کرتا ہے ۔آج اگر زرد صحافت کی کوئی تعریف و تشریع ایسی واضع کی سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بچ جائے کی کہاوت کے مطابق ایسی صحافت جو خبر کو غیر پیشہ تو ہو سکتی ہے اپنی مرضی سے رنگ بھرے گئے تو یہ بھی زرد صحافت کی کڑی ہے ۔بریکنگ نیوز کی بھوک بھی زرد صحافت کو فروغ دے رہی ہے ۔کچھ سالوں سے ٹی وی چینلز کی تعداد میں اضافہ دن بہ دن ہو رہا ہے ہر وقت ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلتی نظر آتی ہیں ۔ہمیں اک نیا ڈیجیٹل عذاب سہنا پڑ رہا ہے (بریکنگ نیوا کے دوران جو سرخ رنگ اور پس منظر میں ہولناک میوزک چل رہا ہوتا ہے وہ کمزور دل لوگوں کے اعصاب کو توڑ مڑوڑ ڈیتا ہے ۔یہ زرد صحافت ہے ۔الیکڑانک میڈیا میں روک تھام کی کوشیش بھی نہیں کی جارہی آئے دن اِس میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔صاف ستھری اور تحقیقی خبریں ،تجزئے اور معلومات فراہم کریں صحافت ایک اہم ترین قومی فریضہ ہے اِس کو مثبت انداز میں سر انجام دینے کی سعی کریں ۔بہادری سے سچ خبر عام آدمی تک پہچانے کا نام صحافت ہے ۔ہمارے موجودہ ذرائع ابلاغ خاص طور پر برقی میڈیا عوام کو وہ کچھ دکھا رہا ہے جسے وہ دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔اُن میں لچر پن اورعریانی کے ساتھ ساتھ واقعات میں رنگ آمیزی اورسنسنی خیزی پہلوں نمایا ہے ۔واقعات کو من وعن اورغیر جانب داری سے دوسروں تک پہنچانے کا نام صحافت کی اساس کہتے ہیں ۔اور اگر خبر کو کسی خاص پہلو یا زاویے کے لحاظ سے اجاگر کیا جائے ،اس میں رنگ آمیزی کی جائے ،یا پھر سنسنی کہا جائے گا اور صحافتی بد دیانتی خیزی سے بیان کیا جائے تو اُس نیوز کو ریٹنگ اور اشتہارات بٹورنے کے لئے کیا جائے تو اُسے صحافتی کریپشن زرد صحافت کہیں گے ۔فلمی اداکار ،کھلاڑی اور ملک کی نامور شخصیات ٹی وی چینل پر پیش ہونے والے کمرشل میں ادا کاری کر کے کثیر تعدا د میں رقم لیتے ہیں عوام پر یہ تاثر کی فضاقائم کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے جس سے اُس پروڈک کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور سرمایہ دار مزید سرمایہ کما لیتا ہے یہ اداکاروں ،کھلاڑیوں کو ڈھال بنا کر پروڈک بیچی جاتی ہے ۔یہ زرد آلود صحافت کی جدید شکلیں ہیں ،اب چاہے وہ پروڈک کتنی ہی نقصان پہچائے لوگ خوشی خوشی خریدتے ہیں ۔

صحافت اور شوبز کے اِس ملاپ سے جس نئی بھڑکیلی اور گلابی صحافت نے جنم لیا اُس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔نیوز کاسڑ انگریزی کا تڑکا لگانے کو فیشن موڈرن سوسائیٹی کا کلچر فیشن سمجھتے ہیں ۔خواتین میزبان بھڑکیلے لباس پہن کر خوب میک اپ کرکے سادگی کا درس دے رہی ہوتی ہیں ۔ریٹنگ فوبیا کاشکار ڈائر یکڑ اب علم اور تجربے کو ایک طرف رکھ کے شکل اور لہجے کی بنیاد پر الیکڑانک میڈیا میں بھرتی کرتے ہیں ۔چینلز میں بھانڈ پن کا راج ہے انتہائی نازک اور سنجیدہ خبر کو چہرے پہ مسکراہٹ سجا کر بھونڈے اندازمیں پیش کیا جارہا ہے ۔ٹاک شوز کے دوران اکثر اینکرز حضرات وہ کردار ادا کررہے ہوتے ہیں جوپہلوانوں کی کشتی کے دوران ریفری کرتا ہے ۔اپنے شو کے دوران دو کاموں پہ توجہ دیتے ہیں کہ فضا ء کے درجہ حرارت کو بڑھانا ،غیر جانبداری کا پہلو کہیں نظر نہیں آتا بعض اینکرز لہجے میں اتنی تلخی اور سختی رکھتے ہیں کہ کمیروں کا چہرہ تھانیدار جیسا ہوتا ہے ۔الیکڑانک میڈیا پر ایڈیٹنگ کا پہلو فراموش ہوتا جا رہا ہے عریانی اور فحاشی عوام کے گھروں تک ایک منظم انداز سے لیجایا جا رہا ہے ۔الیکڑانک میڈیا پر سرکاری روک تھام کے کوئی خاص ضابطے دیکھنے کو نہیں ملتے جو معاشر ے کلچر کی صیح عکاسی کریں ہمارے عالمی تشخص کو اجاگر کریں ۔تحمل اور اخلاقیات کا درس دیں جو ہماری ہزاروں سال کی پرم پرہ ہے الیکڑانک میڈیا پر زیادہ تر وہ لوگ مائیک پکڑے نظرآتے ہیں جو جازبِ نظر ہوں ،چرب زبان ،چلتا پرزہ زیادہ چیخنے والے ہوں مختصر سی تربیت دے کر مائیک دے دیا جاتا ہے جاؤ خبر کھود کے لاؤ ،کسی کے گھر میں کودو،کسی دفتر اپارٹمنٹ میں گھسو،ہوٹل کے کمروں کے دروازے توڑوں ،خبر نہیں تو ایجاد کرو اصل کردار نہیں تو ایکڑاستعمال کرو،دھماکے کی جگہ اہم ثبوت بچانے کے لئے لگائی گئی حفاظتی پٹی پھاندو ،ملبے میں پھنسے زخمی سے پوچھو کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ۔کسی بھی قیمت پر بریکنگ نیوز پیدا کرو تصدیق اور تصیح بعد میں ہوتی رہے گی ۔دوسرے چینل پر دھاگ بیٹھے سرکار اشتہارات دے سرکاری وزیروں کا اثرو رسوخ چینل مالکان سے براہ راست ہوجائے کسی کھانے کی ٹیبل پر یا کسی بھی مقام پر تاکہ مراعات مل سکیں ۔صحافت کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں وقت کے ساتھ ساتھ صحافت جو پہلے نہایت دھیمے انداز میں رواں دواں تھی اب الیکڑانک چینلز کے آنے کے بعد سر پٹ دوڑ رہی ہے ۔اِس دوڑ میں ہر کوئی بازی لیجانے کے چکر میں ہے ۔صحافت کے میدان کو گراوٹ کا سامنا ہے ۔جس کے تدارک کے لئے تمام قلم کاروں ،سینئر صحافیوں ،اخبارات اور الیکڑانک میڈیا ہاوس مالکان کو سر جوڑکر بیٹھنا پڑے گا اور ایک ضابطے اور اخلاقی قدروں کو مدِنگاہ رکھ کر فیصلے کرنے ہونگے کہ ہر چینل کس حد تک اور کیسے معیار کا رہے جو ہماری پرم پرہ اور کلچر کا امین ہو ۔صحافت کا اولین مقصد بہادری سے سچ لکھنا سچ بولنا اور سچ دیکھانا ہے ۔اِس کے آڑھے کچھ بھی نہیں رکھنا ،مظلوم کی داد رسی کرنا اور ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچانا آج کے دور میں پرنٹ میڈیاکے علاوہ الیکڑانک میڈیا کی بھی زمہ داری ہے ۔

“اِس سے پہلے شب تار کو دن لکھنے لگوں
اِس سے پہلے گھٹن کو بھی سکون لکھنے لگوں
اِس سے پہلے ستم گر کا دم بھرنے لگوں
مولا میرے ہاتھوں سے قلم لے لینا
انگلیاں شل ہوں میرے جسم سے دم لے لینا “

آفتاب احمد۔کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY