پاکستان نے صدر ٹرمپ کے اس نئی پالیسی بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ وزیر خارجہ ِخواجہ آصف کا امریکہ کا دورہ ملتوی کردیاگیا ہے۔

اپنے بیان میں ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے کہ امریکہ ‘اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔

اگر غور کیا جائے توگزشتہ ستر برس میں پاکستان اورامریکہ کے تعلقات کی نوعیت کے پس منظر میں امریکی صدر کا بیان خلاف توقع نہیں ہے۔

نوعیت ہمیشہ کبھی سرد توکبھی گرم رھی۔ مگر جب جب تعلقات میں گرمجوشی آئی تو امریکی مفادات مقدم رہے اور پاکستان اپنی خارجہ پالیسیوں اور کمزور معیشت کے باعث جھکتا رہا۔
لہذا پاکستان میں کوئی شخص، کوئی عسکری یا سول ادارہ اگریہ سمجھتا ہے کہ امریکہ پاکستان کا دوست یا اتحادی ملک رہا ہے تو یقیناً احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔
اسے چاہیے کہ وہ ایک سابق آمرجنرل ایوب کی ان کے اپنے تجربات پر مبنی کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ کا مطالعہ ضرور کرے۔

وہ سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ پاکستان امریکہ کی ایما پر سابق سوویت یونین کے خلاف اس فوجی اتحاد ’سینٹو‘ کا رکن بن گیا، امریکہ بظاہر اس فوجی اتحاد کا رکن نہیں تھا، مگر اس کا ریموٹ کنڑول اُسی کے ہاتھ میں تھا۔ پاکستان نے ’بڈا بیر‘ کا اپنا فضائی اڈہ امریکہ کے حوالے کردیا۔ اس کا اہم مقصد سابق سوویت یونین کی جاسوسی کرنا اور مشرق وسطیٰ کی جانب اس کی کسی ممکنہ پیش قدمی کو روکنا تھا۔ لیکن سینٹو اتحاد میں شامل ملکوں کی اپنی سلامتی اور آپس میں تعاون بھی اس کے مقاصد میں شامل تھا۔

مگر یہ سب کاغذوں کی حد تک تھا۔ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑی تو یہ جواز پیش کیا گیا کہ اتحاد سویت یونین کے خلاف بنایا گیا ہے۔ بھارت کے خلاف نہیں۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔

ہمارے ریڈیو پاکستان سے ہر روز یہ خبر تواتر سے نشر ہوتی رہی کہ امریکی جنگی جہاز پاکستان کی مدد کرنے کے لیے روانہ ہوچکا ہے۔ جنگ سترہ دن تک جاری رہی مگر امریکی بیڑا کراچی کے ساحل تک نہ پہنچ سکا۔

شائد اسی کے بعد فوجی حکمران جنرل ایوب کو احساس ہوا کہ جن سے آپ امداد لیکر کھاتے ہیں وہ آپ کے دوست نہیں آ قا ہوتے ہیں۔ جنرل ایوب کی کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ کچھ ایسے ہی تاثرات پر مبنی تھی۔ یہاں تک کہ پاکستان کا نصف حصہ اس سے جدا ہوگیا۔ گو کہ یہ علیحدگی معروضی حالات و واقعات کا منطقی نتیجہ تھی مگر اتحادی ملک کا دعویٰ کرنے والے ایک بڑے ملک کی جانب سے پاکستان کے حق میں ایک آواز بھی بلند نہ ہوئی۔

امریکہ کے اس سلوک کے باوجود آمر مطلق جنرل ضیا پھر امریکہ کی کئی ارب ڈالر کی فوجی اوراقتصادی امداد کی خاطر سابق سوویت یونین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے اور جہادی تیارکرنے اُٹھ کھڑا ہوا اور پاکستان نے افغانستان میں 1979سے 1988 تک امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی پراکسی جنگ لڑی۔ ایسی جنگ جس کے بھیانک نتائج سے پاکستان آج تک باہر نہ نکل سکا۔

افغانستان سے روسی فوج کی واپسی کے ساتھ ہی امریکہ بھی ایک اتحادی ملک کے بجائے ایک بار پھر آقا بن گیا اور جوہری بم کی تیاری پر کڑی تنقید کے بعد نہ صرف امداد بند کردی گئی، بلکہ پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان پراقتصادی پابندیاں بھی عائد کردی گئیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کو اٹھائیس ایف سولہ جنگی طیارے بھی نہیں دیئےے گئے جس کی پاکستان پہلے ہی ادائیگی کرچکا تھا۔ بلکہ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا جب امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دہشت گرد ملک ڈیکلیڑ کیا جانے والا تھا اور اسکی سزا پاکستان کے عوام کو یوں ملی  کہ 1988سے 2001 تک پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔

تاہم 2001 میں یہ منظر نامہ ایک دم سے بدل گیا۔ امریکہ کے دو شہروں نیویارک اور واشگنٹن پر شدت پسند حملوں کے بعد ایک بار پھر امریکہ کو پاکستان یاد آگیا اور اس کی فوجی اور اقتصادی امداد بھی بحال ہوگئی۔

کہتے ہیں کہ اپنی تاریخ کو اس لیے یاد رکھنا چاہیے کہ جو غلطیاں آپ کرچکے ہیں، انھیں درست کرسکیں

جب ایک طویل عرصے تک آپ اپنے ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہونے دیتے۔ ملک کے قومی سیاسی اداروں کو مستحکم نہیں ہونے دیتے، سفارت کاری پر توجہ نہیں دیتے، سیکورٹی پالیسی میں رد وبدل کے بجائے ہمسایہ ملک کا ہوا کھڑا کرکے امریکی ہھتیاروں کے حصول کے لیے دوڑتے رہتے ہیں، ملکی معشیت چلانے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں پر انحصار کرتے ہیں، تو پھرقوم سر اٹھا کرعالمی برادری سے بات نہیں کرسکتی۔

سچ تو یہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے تاریخ سے آج بھی کوئی سبق نہیں سیکھا

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY