اے ایف پی نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ کے ایک قریبی ذریعہ نے بتایا ہے کہ عسکریت پسند گروپ کے ایک اعلیٰ کمانڈر فواد شکر کی لاش بدھ کو جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے مل گئی ہے۔

اس ذریعے نے، جس نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے، کہا کہ “شکر کی لاش نشانہ بنائی گئی عمارت کے ملبے کے نیچے سے ملی ہے۔”

اس سے قبل حزب اللہ نے ایک بیان میں صرف یہ کہا تھاکہ “عظیم جہادی کمانڈر برادر فواد شکر اس عمارت میں موجود تھے” جسے “صیہونی دشمن” نے نشانہ بنایاتھا۔”

اقوام متحدہ کا ردعمل

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ان دونوں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے “ایک ایسے لمحے میں خطرناک اضافہ ہوا ہے جس میں تمام کوششوں کو غزہ میں جنگ بندی اور “تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی” کی طرف لے جانے پر مرکوز ہونا چاہیے تھا۔”

چیتھم ہاؤس کی ایک ایسوسی ایٹ فیلو اور مشرق وسطیٰ کی ماہر لینا خطیب نے اے ایف پی کو بتایا: “اگرچہ اس میں شامل ایکٹرز کا پوری طرح سے جنگ چھیڑنے کا ارادہ نہیں ہے، لیکن ہر اضافہ چیزوں کے قابو سے باہر ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔”

اسرائیلی موقف

اسرائیلی فوج نے منگل کو کہاتھا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے منگل کے روز بیروت کے ایک علاقے پر حملے میں حزب اللہ کے فوجی کمانڈر فواد شکر کو “ختم” کر دیاہے۔ تاہم حزب اللہ نے فوری طور پر کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔

حزب اللہ نے اس حملے میں کسی طرح ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ وہ گولان کی پہاڑیوں پر اس راکٹ حملے کے ذمہ دار تھے جس میں بارہ دروز بچے اور نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY