بے نظیر قتل کیس : پانچوں ملزمان بری ,سابق صدر مشرف اشتہاری قرار

0
936

انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی عدالت نے پانچوں ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنادیا ہے ۔

فیصلے میں سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور ایس پی راول ڈیم خرم شہزاد کو سترہ ، سترہ سال قید کی سزاسنائی گئی ہے ، اڈیالا جیل میں قید پانچوں ملزمان رفاقت ، حسنین ، رشید احمد ، شیر زمان اور اعتزاز شاہ کو بری اور سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیداد کی قرقی کا حکم سنایا ہے۔

سعود عزیز اور خرم شہزاد کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں مجرمان کو 5 ، 5 لاکھ روپے جرمانے کا بھی حکم دیا ہے۔ سعود عزیز  بےنظیر کے قتل کے وقت سی پی او راولپنڈی تھے۔

واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک راولپنڈی کے جج محمد اصغر خان نے بینظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو آج اڈیالہ جیل میں سنایا گیا۔

کیس میں 8 چالان پیش کئے گئے، 300سے زائد سماعتیں ہوئیں ، 7 جج تبدیل ہوئے ،7 ملزمان مارے گئے اور 5 گرفتار ہیں۔

 بے نظیر بھٹو کے قتل کے دو روز بعد ہی اس وقت کی حکومت کی جانب سے ایک آڈیو جاری کی گئی تھی جس میں ایک شخص ایک دوسرے شخص کو اس واقعے پر مبارکباد دے رہا تھا۔ ان افراد میں سے ایک حکومت کے بقول بیت اللہ محسود تھا جو اپنے دوسرے ساتھی سے بات کر رہا تھا لیکن اس پوری ریکارڈنگ میں بے نظیر بھٹو کا نام نہیں لیا گیا۔

فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے جس اہلکار نے بیت اللہ محسود کی یہ مبینہ گفتگو ریکارڈ کی تھی اس نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

چوہدری اظہر کا کہنا تھا کہ اس آڈیو کے بارے میں اس وقت کے نیشنل کرائسز مینیجمنٹ کے سربراہ برگیڈئیر ریٹارئرڈ جاوید اقبال اور سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے بیانات ریکارڈ کروائے جس میں انھوں نے کہا ‘انھیں اس آڈیو کے بارے میں ایک بیان تھمایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس بیان کے آگے یا پیچھے نہیں ہونا۔’

SHARE

LEAVE A REPLY