ھمارے لئے بہت خوشی و فخر کی بات ھے کہ مجھے تیسری بار محترم المقام جناب صفدر ہمدانی صاحب کی میزبانی کا شرف ملا ھے 4 ستمبر کو انکے پچاس سالہ ادبی سفر کے اعتراف میں ایک تقریب کی جارھی ھے
میری شدید خواہش ھے کہ ھمارے عہد کے بلند قامت ادبی شخصیت کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کروں تو کسی ہوٹل کے ہال کی بجائے کسی اسٹیڈیم میں کروں
ایسی عہد ساز و پر وقار شخصیت کہ ھم انکی ادبی خدمات کا حق ادا ھی نہیں کر سکتے ہیں
آج مجھے نور محمد صاحب بھی شدت سے یاد ارھے ہیں اللہ پاک انکی مغفرت فرماے آمین
اس سے قبل جب صفدر ہمدانی صاحب تشریف لائے تو خود اے اور مختلف جگہوں پر ان کو لیکر جاتے انکی اعلی مہمان نوازی کا ذکر کر کے اور انکو یاد کر کے دونوں آج بھی آبدیدہ ھو جاتے تھے
انکی شفقت انکی مہربان طبیعت ہمارے دلوں اور دعاوں میں مثل چراغ روشن ہے
اور ہمارے دلوں میں مثل چراغ روشن رھتےہیں
کویت میں ادب سے پیار کرنے والے بہت سارے افراد مقیم ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ کویت اعکی محبت کی روشن بستی ہے
میں اپنے تمام دوستوں کی ممنون ھوں
اس وقت مجھے کویت میں پاکستان کے سابق سفیر محترم جناب سید آبرار حسین اور افتخار عباسی بھی یاد ارھے ھیں کس محبت اور خلوص سے صفدر ہمدانی صاحب کی پزیرائی کی۔ ھم اپنے تمام محترم دوستو کے شکر گذار ھیں
شاہین اشرف علی













