شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

0
110

شمالی کوریا نے جمعے کی صبح ایک میزائل کا تجربہ کیا۔ یہ میزائل دارالحکومت پیانگ یانگ کے علاقے سونین کے علاقے سے مشرق کی جانب داغا گیا۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے دفتر نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا اور امریکی فوج تازہ میزائل تجربے سے متعلق تفصیلات کا جائزہ رہی ہے ۔

جاپان کے سرکاری ٹیلی وژن این ایچ کے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا سے داغا جانے والا میزائل جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائدو پر سے پرواز کرتا ہوا ملک کے مشرق میں تقریباً 2 ہزار کلو میٹر دور بحر الکاہل میں گرا۔

جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ میزائل کے ٹکڑوں اور ملبے سے عام لوگوں اور بحری جہازوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

جنوبی کوریا کے صدارتی محل بلیو ہاؤس کے ایک بیان میں فوری طور پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے کہا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے تازہ میزائل تجربہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب پیانگ یانگ نے حال میں اپنے 3 ستمبر کے جوہری تجربے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی حمایت پر جاپان کو سمندر میں ڈوبنے اور امریکہ کو راکھ کے ڈھیر اور اندھیروں میں تبدیل کی دھمکی دی تھی ۔

شمالی کوریا نے اس سے پہلے 29 اگست کو سونین سے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو جاپان کے جزیرے ہوکائدہ کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا بحرالکاہل میں جا گرا تھا۔

جمعرات کو امریکی جوہری فورسز کے ایک جنرل نے کہا تھا کہ وہ یہ اندازہ لگا رہے ہیں آیا شمالی کوریا نے فی الواقع 3 ستمبر کو ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا تھا جو اس کے جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی کی اہمیت رکھتا ہے۔

اگرچہ پیانگ یانگ نے جوہری تجربے کے فوراً بعد اسے ہائیڈروجن بم کا نام دیا تھا تاہم اس سے قبل امریکہ نے اسے ہائیڈروجن بم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY