غزہ: امدادی سامان کی ترسیل میں اسرائیلی رکاوٹیں، سیز فائر کے 2 ہفتے بعد بھی بھوک و پیاس برقرار

0
773

غزہ میں موسم سرما کی پہلی بارش کے بعد فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، پناہ گزینوں کے ہزاروں خیمے ڈوب گئے، لاکھوں بے گھر فلسطینی کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔

اسرائیل نے خیمے اور دیگر امدادی سامان کی غزہ آمد پھر روک دی جس کی وجہ سے بڑھتی سردی اور بارش کی وجہ سے فلسطینی گیلے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

غزہ میں بارش کے پانی کو روکنے کا کوئی بندوبست بھی نہیں ۔ فلسطینیوں نے خیموں کو پانی سے بچانے کے لیےآس پاس گڑھے کھودنا شروع کردیے ۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین انروا (UNRWA) کے مطابق 13 لاکھ فلسطینیوں کی مدد کا سامان موجود ہے ، جو اسرائیل نے روک رکھا ہے ۔

انروا کے سربراہ کے مطابق سخت سردی اور بارش میں امداد کی فراہمی پہلے سے زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ تباہ شدہ عمارتوں میں پناہ لیے فلسطینیوں کو ان عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق جنوبی غزہ میں خان یونس میں اسرائیلی بمباری سے 3 فلسطینی شہید ہوگئے۔

رواں سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فورسز 274 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہیں جبکہ 1500 عمارتوں کو بھی تباہ کیا جاچکا ہے ۔

علاوہ ازیں غزہ شہر کے زیتون علاقے میں ایک مغوی کی لاش کی تلاش کے لیے ریڈ کراس اور القسام بریگیڈز کی ٹیموں نے کوششیں دوبارہ شروع کردیں۔

اسرائیل نے مزید 15 فلسطینیوں کی میتیں فلسطین کے حوالے کر دیں،اب تک 330 میتیں حوالے کی جاچکی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY