علی ابن الحسین زین العابدین نے فرمایا۔۔چوتھاحصہ،نگہت نسیم

0
1105

خطبہ امام زین العابدین کا چوتھا حصہ

جب طویل مسافت کے بعد اسیران کربلا شام پہنچے تو انہیں دربار یزید میں پیش کیا گیا ۔ امام سید الساجدین زین العابدین نے یزید ملعون کے دربار میں اہل شام اور درباریوں سے خطاب کیا۔ اسی خطبہ کے آغاز میں اللہ سبحانہ تعالی کی تعریف کی پھر نسبت رسول پاک کی فضیلیت بیان فرمائی ۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے اپنا تعارف یوں بیان کیا ۔۔۔

میں مکہ و منٰی کا بیٹا ہوں ۔۔ میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں
میں اُس نبی کا نواسہ ہوں جسے اللہ تعالٰی نے رات کو براق بھیجا
مسجد الحرام سے مسجد الاقصٰی تک لے گیا زمین و آسمان کی سیر کرائی
میں حجرِ اسود کا بیٹا ہوں جس کو نبی ص نے اپنی عبا میں لے کر اصل مقام پر لگایا
میں اس پاک و پاکیزہ ہستی کا بیٹا ہوں جس نے اسلام کے اصولوں کو دنیا کو بتلایا
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں جس نے جوتے پہنے ساتھ احرام باندھا
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں جس نے حج کیا اور اللہ تعالٰی کی آواز پر لبیک کہا
میں اُس کا بیٹا ہوں کہ جس کو اللہ تعالٰی نے سدرۃ المنتہٰی کی سیر کرائی
میں اُس پاک ہستی محمد مصطفٰی کا بیٹا ہوں جو قربِ خدا تک گیا
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں کہ جس نے آسمان کے فرشتوں کو نماز پڑھائی
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں کہ جس پر اللہ تعالٰی نے وحی کا سلسلہ جاری کیا
میں محمدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور علیِ مرتضٰی علیہ السلام کا بیٹا ہوں
میں اُس بہادر کا بیٹا ہوں جس نے بڑے بڑے کافروں کو قتل کر کے اسلام کو سر بلند کیا
میں اُس کا بیٹا ہوں جس نے ہجرت کی اور جنگِ خندق و حُنین میں کامیابی حاصل کی
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں جس نے مارقین ، ناکثین و قاسطین سے جنگ کر کے فتح پائی
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں جس کو اللہ تعالٰی نے سخاوت بخشی
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں جو عاقل پیشرو ، صابر ، روذہ دار ہے
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں جو مہذب شبِ زندہ دار ہے
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں جو مشرکوں کے قلعوں کو تباہ کرنے والا اللہ کا شیر ہے
میں علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کا بیٹا ہوں جس کے خلاف حکومتِ شام ہو گئی
میں فاطمہ الزہرا سلام اللہ کا بیٹا ہوں جو سیدہ نساء العالمین ہیں
میں خدیجۃ الکبرٰی کا بیٹا ہوں جو اُم المومنین ہیں
میں اُس مظلوم حسین علیہ السلام کا بیٹا ہوں جس کا سر گردن کے پیچھے سے کاٹا گیا
میں اُس تشنہ لب شہید کا بیٹا ہوں کہ جو دنیا سے پیاسا چلا گیا
میں اُس حسین علیہ السلام کا بیٹا ہوں جس کا لاشہ دفن نہیں کیا جا سکا
مِن اُس بے کس غریب کا بیٹا ہوں مرنے کے بعد جس کی لاش برہنہ رہ گئی
میں اُس ہستی کا بیٹا ہوں کہ جس پر چرند پرند اور جنات نے جنگلوں اور ہواؤں میں نوحہ پڑھا
میں اُس بے کس و غریب مسافر کا بیٹا ہوں کہ جس کے کنبے کو اسیر کیا
میں اُس بے کس و غریب مسافر کا بیٹا ہوں
جسے ظالم
کشاں کشاں اسیر کر کے ہاتھوں کو کمر سے باندھ کر
کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام لے گئَے
میں اُس بے کس و غریب مسافر کا بیٹا سیدِ سجاد ہوں
میں سیدِ سجاد ہوں
میں سید سجاد اللہ تعالٰی کی بے انتہا تعریف و توصیف کرتا ہوں
میں سید سجاد اللہ تعالی کا بے انتہا شکر گزار ہے کہ اُس نے ہم کو امتحان میں ڈالا
تاکہ ۔۔۔۔
پرچمِ رشد و ہدایت ہمارے خاندان میں قرار دے
اور تمام ضلالت و گمراہی کو ہم سے دور کر دے
میں سید سجاد اللہ تعالی کا بے انتہا شکر گزار ہے
( جاری ہے )

ڈاکٹر نگہت نسیم

(مضمون کی تیاری کے لئے نیٹ کے مضامین اور نہج البلاغہ سے مدد لی گئی
خصوصاً بیانِ خطبہ از ناسخ التواریخ ج ۲ صفحہ 167 ، طبع جدید زندگی حضرت سید الشہداء)

SHARE

LEAVE A REPLY