کوٹہ سسٹم معاملہ مشترکہ مفادات کونسل، پارلیمنٹ لے جانے کا فیصلہ

0
136

وفاقی کابینہ نے صوبائی کوٹہ سسٹم کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل اور پارلے منٹ میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبائی کوٹہ سسٹم پر تفصیلی بحث کی گئی۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ کوٹہ سسٹم کو 40 سال ہوگئے، دیکھنا ہوگا کہ حالات کیوں بہتر نہ ہوئے،ایسا کب تک چلے گا۔
انہوں نے کابینہ ارکان اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو کوٹہ سسٹم کے متبادل نظام پر جامع حکمت عملی اور پالیسی بناکر کابینہ کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ ترقی سے محروم علاقوں کو کوٹہ سسٹم کو جواز بنانے کا عمل اب ختم کرنا ہوگا، کاغذی اقدامات سے تبدیلی نہیں آسکتی۔
ذرائع کے مطابق بعض وزراء کی جانب سے صوبائی کوٹہ سسٹم میں کمی یا ختم کرنے کےحق میں دلائل اور تجاویز سامنے آئیں، ان کا مؤقف تھا کہ کوٹہ سسٹم سے میرٹ والوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔
کابینہ ارکان کاکہناتھاکہ سی ایس ایس کےامتحان اور نوکریوں کےحوالے سے کوٹہ کےتحت بلوچستان اور فاٹا کی اکثر سیٹیں خالی ہی رہ جاتی ہیں یا دوسرےصوبوں کےافراد مختلف ناجائز طریقوں سےان سیٹوں پرقابض ہوجاتے ہیں، اب کم ترقی یافتہ یا سہولتوں سےمحروم علاقوں کو کوٹہ کا جواز بنانے کی بجائےوہاں کےعوام کا معیار زندگی بلند کرنےکیلئےعملی اقدامات اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔
بعض وزراء کی رائے تھی کہ صوبائی کوٹہ سسٹم سے دوافتادہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں کےعوام کو فائدہ ہوتاہے۔
ذرائع کےمطابق وزیراعظم نے کہاکہ کوٹہ سسٹم ابتداء میں 10 سال کیلئے نافذ کیاگیا آج 40 سال ہوگئے یہ ختم ہونےکی بجائے چلےجارہاہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں تعلیم، صحت اور دیگربنیادی سہولتوں کی فراہمی کےاقدامات کئےجائیں، سے کابینہ ارکان اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن صوبائی کوٹہ سسٹم میں اصلاحات، ترامیم اور میرٹ پرمبنی پالیسی کےحوالے صوبوں سےبھی مشاورت کرے اور سفارشات مرتب کرکے کابینہ میں پیش کرے۔
ذرائع کےمطابق آئی بی کی مبینہ لسٹ کے معاملے پر تحفظات کے باعث وفاقی وزیرریاض پیرزادہ کابینہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ مبینہ لسٹ میں شامل بعض وفاقی وزراء زاہد حامد، بیلغ الرحمان، سکندربوسن تاخیر سےاجلاس میں پہنچے۔

SHARE

LEAVE A REPLY