بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی 18 برس سے کم عمر کی بیوی کے ساتھ کوئی جنسی تعلق قائم کرتا ہے، تو یہ تعلق بھی جنسی زیادتی ہی ہو گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس فیصلے سے بھارت میں کئی ملین کی تعداد میں موجود کم عمر لیکن شادی شدہ لڑکیاں متاثر ہوں گی۔

انڈین سپریم کورٹ نے ’انڈیپینڈنٹ تھاٹ‘ نامی ایک سماجی تنظیم کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں فیصلہ دیا کہ چونکہ ملک میں کسی بھی شہری کی طرف سے رضامندی کی قانونی عمر 18 برس ہے اور یہ قانون ہر شعبے میں لاگو ہوتا ہے، اس لیے اب 15 سے 18 برس تک کی عمر کی بیویوں کے ساتھ ان کے شوہروں کے جسمانی تعلقات بھی ریپ یا جنسی زیادتی کے زمرے میں آئیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY