فرزانہ باجی اتنی جلدی چلی جائیں گی یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ کاش میں انھیں ان کے جیتے جی بتا سکتی کہ آج سے ستائیس برس قبل لندن کی اجنبی فضاؤں میں وہ میرے لیے کتنا بڑا سہارا تھیں۔
فرٰزانہ باجی ہماری والدہ کے پھوپھی زاد بھائی کی بیٹی تھیں ، اس زمانے کی محبتیں ایسی جو اب ذھونڈے سے بھی نہیں ملتی ہیں۔ ہماری والدہ اور فرزانہ باجی کے والد صرف پھوپھی زٰاد بھائی بہن ہی نہیں ایک ہی گھر میں پلے بڑھے تھے۔ اسی لیے دونوں ہم خیال بھی تھے، دونوں کو ہی اپنی اپنی اولادوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا جنون تھا۔
پاکستان آنے کے بعد محبتوں بھرے آنگن بھی اجڑ گئے اور معاشی خوشحالیوں کے زمانے بھی۔ ہاں بس دونوں کا ایک خواب زندہ تھا کہ کسی طرح بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں۔
اپنی تمام تر معاشی تنگیوں کے باوجود دونوں بہن بھائی اپنے اپنے خواب کی تکمیل میں جُت گئے۔ فرزانہ باجی کے والد اورہمارے ماموں ابا وزیر عباس لاہور میں آباد ہوئے اور ہماری والدہ شمس الزہرہ سرگودھے آ گئیں، ملنا جلنا کم کم ہوگیا مگر محبتیں قایم رہیں۔

سن نوے میں میں بی بی سی کی ملازمت کے سلسلے میں تنہا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کی انگلیاں تھامے سرد موسموں کے اس جزیرے پر اتری تو اس شہر کی ہر شے غیر مانوسیت کی دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔ میں بالکل ایک مختلف دنیا اسلام آباد سے لندن آئی تھی، ایک چھوٹے سے شہر سے جہاں کی ہر سڑک ہر محلے سے اوروہاں گھومتے پھرتے چہروں سے میں واقف تھی جو میرے اپنے تھے، اور ادھرسمندر جیسا لندن وہ بھی ایسے زمانے میں جب شہر شام سے ہی سرد ہوائیں اور تاریکیاں اوڑھ لیتا تھا۔ نہ چہرے اپنے نہ موسم اور نہ ہی در و دیوار اپنے۔
ایسے میں فرزانہ باجی جواپنے شوہر محمد نقوی اور اپنے صاحبزادے ارم عباس کے ہمراہ بہت برسوں سے لندن میں مقیم تھیں، ان کی محبتوں ، خلوص اور مشوروں نے مجھے یہاں کی زندگی کے بہت سے انداز و اطوار سمجھائے ۔
فرزانہ باجی لندن آنے سے پہلے پاکستان کے شہر گجرات کے کالج برائے خواتین میں تاریخ کی استاد تھیں۔ وہ تو شائد استاد بننے کےلیے ہی پیدا ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت میں قدرتی طور ایک ایسا مشفق محبت بھرا استاد چھپا ہوا تھا۔ جس نے انھیں لندن میں بھی بے چین کیے رکھا اور خصوصی تربیت حاصل کرکے انھوں نے اپنی زندگی معذور بچوں اور اس کے بعد اپنی کمیونٹی کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کردی۔ ان کے اس سفر میں ان کی زندگی کے ساتھی محمد نقوی جنھیں فرزانہ باجی بہت محبت سے ’من’ کہا کرتی تھیں، ان کے ہمیشہ ساتھ ساتھ نظر آئے۔
ہمارے بچے بھی فرزانہ باجی سے بہت مانوس تھے کہ بچوں سے زیادہ محبت بھلا کون پہچان سکتا ہے۔ آج بھی میرے دونوں بچے زہرا اور محمد کہتے ہیں کہ ہماری بچپن کی یادوں میں فرزانہ خالہ ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔
جون ایلیا کا شعر ہے
حاصل کن ہے یہ جہاں خراب
یہ ہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
مگر ان کی تدفین میں موجود خواتین کا ایک ہجوم ہونا اور ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی روانی، یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ فرزانہ باجی اس مختصرسی زندگی میں بھی اپنی بہت سی خوبصورت یادیں چھوڑ کرگئیں۔

امام علی کا کیا خوبصورت قول ہے کہ بہترین ہے وہ انسان جس کی زندگی میں لوگ اس کی صحبت پسند کریں اور مرنے کے بعد اسے اچھے الفاظ میں یاد کریں۔
میری فرزانہ باجی بس بلکل ایسی ہی تھیں۔
ماہ پارہ صفدر













