زیادہ ٹیکس دینے والی سگریٹ کمپنيوں کے بند ہونے سے ٹیکس کولیکشن مزید کم ہو جائے گی۔زبیر منور، پہلی قسط

0
845

پاکستان ٹوبیکو کمپنی لمیٹڈ 1947 میں تقسیم کے فورا بعد قائم ہوئی جب اس نے برصغیر میں 1905 سے آپریشنل امپیریل ٹوبیکو کمپنی انڈیا سے کاروبار لے کر سنبھالا.

2۔برٹش امیریکن ٹوبیکو ایک معروف اور ملٹی کیٹگری کنزیومر کاروبار ہے جوکہ 1902 میں قائم کیا گیا۔ آج یہ گروپ حقیقتا ایک عالمی کمپنی ہے جس کے دنیا بھر میں 53,000 سے زائد ملازمین، 180 سے زائد مارکیٹوں میں کاروبار اور 40 سے زیادہ ممالک میں فیکٹریاں ہیں۔ گروپ کا عالمی کاروبار چار حصوں میں تقسیم ہے اور 150 ملین صارفین اور 11 ملین پوائنٹس آف سیلزپر محیط ہے اور جس میں ترقی پذیر مارکیٹوں اور ترقی یافتہ مارکیٹوں دونوں میں کمپنی کی متوازن حیثیت موجود ہے۔ برٹش امیریکن ٹوبیکو کا پورٹ فولیو کمبسٹائل تمباکو کی مصنوعات جیسے کہ سگریٹ اور اس کے ساتھ ساتھ نان کمبسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہے۔ جن میں ممکنہ طور پر کم خطرے والی مصنوعات جیسے کہ ویپر اور تمباکو کو گرم کرنے والی مصنوعات اور جدید اورل مصنوعات بشمول تمباکو – نکوٹین فری پاؤچز اور ساتھ ساتھ روایتی اورل مصنوعات جیسے کے سنس اور موائسٹ شامل ہے۔ گروپ کا ہیڈ کوارٹر لندن میں ہے اور کمپنی لندن اسٹاک ایکسچینج میں درج ہے۔ 2019 میں اس گروپ نے 25.8 بلین پاؤ نڈز کی آمدنی اور آپریشن کے ذریعے 9 ارب پاؤ نڈز سے زیادہ کا منافع حاصل کیا۔

ایک معقر اخبار میں شاٸع ہونے والا کالم بھی ملاحظہ فرمایۓ، ”
پاکستان کا سب بڑاشہرکراچی، مختلف ادوار میں بڑے بڑے چیلنجز سے نبرد آزما رہا ہے، اس شہر میں جہاں قائداعظم آسودہ خاک ہیں، منشیات کی وبا کا سامنا کر رہاہے۔ پورے ملک اور بالخصوص کراچی میں منشیات فروش جس طرح اپنا تسلط قائم کررہے ہیں اور جس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل چرس، افیون، ہیروئن، بھنگ، آئس، کوکین، ایس ایل ڈی، گانجا، الکوحل، گٹکا، گلو(صمدبانڈ) سمیت منشیات کی 21سے زائد اقسام کے نشے میں مبتلا ہوکر تباہی کا شکار ہو رہی ہے، اس سے خوفناک سماجی بحران جنم لے رہا ہے۔ ملک میں دو درجن سے زائداداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ منشیات کی ترسیل اور فروخت روکیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود بالخصوص، ہیروئن و چرس کس طرح کراچی پہنچ جاتی ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ منشیات لاکھوں زندگیوں کو تباہ کر چکی ہے لیکن یہ اسلامی جمہوریہ جسے اسلام کا قلعہ بھی کہا جاتاہے،ان دنوں منشیات فروشوں کیلئے محفوظ ومامون اورلاکھوں خاندانوں کیلئے غیر محفوظ ہے، اس انسانی المیے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھا جارہا۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کی لت نے ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ نوجوان نسل منشیات اور اس کی وجہ سے دیگر علتوں میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر رہی ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان والوں کے لئے بھی اذیت اور ذلت و رسوائی کا سبب بن رہی ہے۔ نشہ ،جسم کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی سلب کر دیتا ہے، اس لئے مستقبل کے ضامن یہ نوجوان جرائم کا راستہ اختیار کررہے ہیں، ان میں ایک بڑی تعداد نشے کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے منشیات فروشوں کی آلہ کار بھی بن جاتی ہے۔ 1979تک پاکستان میں ہیروئن کا نام کسی نے بھی نہیں سنا تھا لیکن 80کی دہائی میں نام نہاد امریکی جہاد کے نتیجے میں جہاں کلاشنکوف کلچر پاکستان میں متعارف ہوا، وہاں ہیروئن کی لعنت نے بھی اسلام کے اس قلعے میں ڈیرے ڈال دیے۔ اس نشے نے لاکھوں خاندانوں کو تباہ کرکے پاکستان میں کئی کروڑ پتی و ارب پتی پیدا کئے، ان میںاکثر سیاست سمیت مختلف شعبوں میں معتبربھی ہیں۔ ایک عرصے سے ہیروئن سے بھی زیادہ برق رفتاری سے ایک اور نشے نے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جسے کرسٹل میتھ یا آئس کہا جاتا ہے، یہ نشہ ’’میتھ ایمفٹامین“ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے، جو چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر کرسٹل کی قسم کی سفید شے ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ اس مقصد کیلئے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسے جسم میں اُتارنے کا ایک ذریعہ انجکشن بھی ہے۔ یہ نشہ کراچی میں کس قدر بھاری مقدار میں موجود ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی میں سرکاری اہلکار بعض ایسی لیبارٹریز پر چھاپے مار چکے ہیں جہاں کرسٹل تیار کی جاتی تھی۔ یعنی یہ نشہ اگرچہ اسمگل ہوکر بھی یہاں آتا ہے لیکن اس شہر میں اس کی لیبارٹریاں بھی قائم ہیں۔ایک زمانے میں منشیات کی فروخت کےلئے کراچی کے مخصوص علاقے معروف تھے، اب یہ ہر جگہ دستیاب ہیں، یہاں تک کہ وزیراعلیٰ ہائوس کے قریبی علاقے اور ڈاکس تھانے سلطان آباد چوکی کے قریب کراچی بھر کے منشیات فروش دندناتے پھرتے ہیں، جب جب اہلِ محلہ ان کیخلاف نکلتے ہیں یا کوئی پولیس افسر کارروائی کرتاہے تو اس چوکی کی پولیس ایسی کارروائی میں تعاون نہیں کرتی،ان علاقوںمیں بااثر پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں جنہیں حکام کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کا خوف تک نہیں ہوتا۔ قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ نوجوان نسل کی تباہی پر جہاں حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی وہاں فلاحی اداروں کا کردار بھی قابل ذکرنہیں۔حالانکہ اس کیلئے زیادہ رقم کی بھی ضرورت نہیں،اس امر کا اندازہ گزشتہ ہفتہ ماما جی ایڈی کئیر ویلفیئر ٹرسٹ کے دورے کے دوران ہوا،یہ ادارہ غلام رسول اور تاج محمدکاکاخیل کی نگرانی میں اپنی مدد آپ کے تحت چلایا جارہا ہے اس ادارے کو کوئی مالی امداد فراہم نہیںکرتا اور عطیات بھی جمع نہیں کئے جاتے ۔اس ادارے میں70فیصد نادار اور زکوٰۃ کے مستحق مریضوں کا نہ صرف یہ کہ علاج کیا جاتا ہے بلکہ مکمل علاج کرنے کے بعد ان مریضوں کے لئے نوکری یا معاش کے کسی ذریعے کو تلاش کر کے معاشرے کا کار آمد انسان بنانے میں بھی مدد کی جاتی ہے۔ یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ذراسی توجہ اور اخلاص کی ضرورت ہے۔“
اور اب پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) کی آفیشل ویب ساٸید سے حاصل کردہ معلومات مالی سال 2021 بغیر کسی رد و بدل کے ملاحظہ فرماٸیں،

“Pakistan Tobacco Company (PTC) has contributed Rs133 billion tax revenues during 2021.
A research report by Oxford Economics UK on the positive economic impact of PTC on Pakistan’s economy revealed that the PTC and its value chain supported tax revenues of Rs133 billion during the 2021 calendar year. This includes
Rs127 billion paid by PTC through excise, sales, corporation, and customs taxes plus tobacco cess. A further Rs0.5 billion was paid by the PTC value chain employees through labour taxes. An additional Rs6 billion in tax revenues were generated through its supply chain (Rs 2.3 billion) and wage-consumption (Rs3.6 billion).
The report said that the traditional cigarette business and its value chain sustained a Rs123 billion total gross value-added contribution to Pakistan’s GDP in 2021. This includes the PTC value chain’s direct contribution of Rs58.3 billion, a Rs25.3 billion indirect contribution, and a Rs39.1 billion induced contribution.
PTC supports communities across Pakistan with its social initiatives, spending nearly Rs600 million in 2021 on social and environmental programmes contributing to the UN’s Sustainable Development Goals.
As a part of this, PTC runs the country’s largest afforestation programme, planting over 100 million trees since 1981, and its Mobile Doctor Units provided free healthcare to 150,000 patients in 2021.
PTC also carried out extensive programmes on farmer extension services, clean drinking water filtration plants, water recycling, women empowerment initiatives and green solar energy, report added.
In 2021, BAT opened the first phase of its $5 million investment in its new Global Business Services (GBS) Digital Innovation Hub in Pakistan. This is equivalent to 1.4% of the total foreign direct investment into
Pakistan’s telecommunications and information technology sector in 2021. Initial operations, from a liaison office in Islamabad, are already delivering business services to the wider BAT Group. The main Digital Innovation Hub, in
Lahore, will begin operations in the first half of 2022, and is expected to grow to its full operating capacity by 2025, report added.”

محصولات کی مد میں یہ ایک بڑی صنعت گردانی جاتی ہے جس کے بند ہو جانے سے بے روزگاری، معاشرے میں بڑھتا ہوا انتشار اور آبادی بڑھنے کا بم یقینی ہے۔ (جاری ہے)

SHARE

LEAVE A REPLY