میرے احساس نے عابد یہ کہا ہے مجھ

0
796

پاؤں جب دھوپ کی زنجیر میں آجاتا ہے
زیست کا کھیل ہی تحریر میں آجاتا ہے

مجھ کو معلوم ہے میرا وہ نہیں ہو سکتا
پھر وہی خواب میں تعبیر میں آجاتا ہے

میں تو چپ چاپ خیالوں میں بناتا ہوں تجھے
چہرا تو آپ ہی تصویر میں آجاتا ہے

کیا عجب شخص ہے میرا بھی نہیں ہے لیکن
مجھ سے ملنے مری جاگیر میں آجاتا ہے

منفرد اور نیا کام کیا جائے تو
نام تاریخ میں تفسیر میں آجاتا ہے

میرے احساس نے عابد یہ کہا ہے مجھ
آدمی علم سے تنویر میں آجاتا ہے

عابد علی عابد

SHARE

LEAVE A REPLY