پاؤں جب دھوپ کی زنجیر میں آجاتا ہے
زیست کا کھیل ہی تحریر میں آجاتا ہے
مجھ کو معلوم ہے میرا وہ نہیں ہو سکتا
پھر وہی خواب میں تعبیر میں آجاتا ہے
میں تو چپ چاپ خیالوں میں بناتا ہوں تجھے
چہرا تو آپ ہی تصویر میں آجاتا ہے
کیا عجب شخص ہے میرا بھی نہیں ہے لیکن
مجھ سے ملنے مری جاگیر میں آجاتا ہے
منفرد اور نیا کام کیا جائے تو
نام تاریخ میں تفسیر میں آجاتا ہے
میرے احساس نے عابد یہ کہا ہے مجھ
آدمی علم سے تنویر میں آجاتا ہے
عابد علی عابد













