تاریخ کے ہر دور کا ملبہ مرے اندر
جغرافیہ سو بار تڑپا ہے مرے اندر
بے چین ہوں میں شدتِ اظہارِنمو سے
صحرا ہے مرے سامنے دریا مرے اندر
معلوم نہیں پورا سمندر تو کہاں ہے
ہے کیوں یہ سمندر کا کنارا مرے اندر
گرتی ہیں جو بوسیدہ عقلوں کی فصیلیں
کُھلتا ہے بشارت کا دریچہ مرے اندر
پسپائی پہ لگتے ہیں فتوحات کے نعرے
اک عسکری بحران ہے برپا مرے اندر
یہ کس نے ہلا ڈالے مرے منبر و محراب
یہ کون بڑے زور سے ناچا مرے اندر
اک شان سے ہر جانِ غزل جلوہ فگن ہے
آباد ہے اک شہرِ تمنا مرے اندر

SHARE

LEAVE A REPLY