چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے ملک کے صدر شی جن پنگ کو گزشتہ صدیوں کا طاقت ور ترین لیڈر مانتے ہوئے ان کے نام اور نظریے کو پارٹی کے آئین میں شامل کرلیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کی ایک اہم کانفرنس کے دوران نئے دور کی چینی خصوصیات کے حامل شی جن پنگ کے سوشل ازم کے تصور کو پارٹی آئین میں شامل کیا گیا۔

پارٹی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے شی جن پنگ کی مسلح فوج پر مطلق حکمرانی، ان کی خارجہ پالیسی کے مزید فروغ اور ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے نام سے مشہور منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کو آئین میں شامل کیا گیا ہے۔

ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی مدد سے چین دیگر خطوں جیسے جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا، افریقہ اور یورپ تک کے علاقوں سے روڈ، ریلوے اور بندرگاہوں کے ذریعے منسلک ہوجائے گا۔

شی جن پنگ نے پارٹی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ چینی عوام کا مستقبل روشن ہے، اس وقت ہمیں زیادہ با اعتماد اور بافخر ہونا چاہیے جبکہ ہمیں اپنی ذمہ داری کا بھی احساس کرنا چاہیے۔

بیجنگ میں ایک آزاد سیاسی تجزیہ نگار زینگ لفان نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرح سے شی جن پنگ کا دورِ حکومت سنجیدگی سے شروع ہوا اور کامیابیوں کی جانب گامزن ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل صرف چین کے بانی ماؤزے تنگ کا نام پارٹی نظریے میں شامل کیا گیا تھا جبکہ وہ زندہ تھے، تاہم شی جن پنگ کا نام پارٹی آئین میں شامل کر کے ہم ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY