پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی مذاکرات کار کی پیش کش مسترد

0
903

حریت قیادت کے بعد پاکستان نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت کی جانب سے مذاکرات کار کی پیش کش کو مسترد کردیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریاکا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سابق انٹیلی جنس افسر دنیشور شرما کی مذاکرات کے لیے نامزدگی ناقابل قبول ہے جبکہ ایسے اقدامات سے مذاکرات کے لیے بھارتی غیرسنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔
قبل ازیں حریت قیادت نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی مذاکرات کار کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے بغیر مسئلہ کشمیر پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
دفتر خارجہ کے مطابق حریت قیادت کے بغیر مذاکرات بے معنی اور ڈھونگ ہوں گے جب کہ نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت پاکستان اور کشمیریوں کو بھی شامل کرے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ حریت رہنماؤں سے مذاکرات سے قبل بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ روکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ 70 سال سے کشمیریوں کے جائزمطالبات کا پوری دنیا کو علم ہے اور کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق استصواب رائے اور حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے آج ہی مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو مقرر کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY