جنرل باجوہ کے اثاثوں کی خبر دینے والے صحافی احمد نورانی اشتہاری قرار، سی پی جے کی مذمت

0
1034

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کے اثاثوں اور ٹیکس گوشواروں کو منظر عام پر لانے والے جلاوطن پاکستانی صحافی احمد نورانی کو پاکستان میں اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ سٹوری 20 نومبر 2022 کو فیکٹ فوکس نے شائع کی تھی۔ احمد نورانی سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان میں صحافی کو اس لیے سزا نہیں دی جاتی کہ اس نے کوئی غلط خبر دی ہے، بلکہ اس لیے دی جاتی ہے کہ اس نے خبر دی ہی کیوں ہے۔ خبر کو چیلنج نہیں کیا جاتا بلکہ خبر کرنے پر پکڑا جاتا ہے۔

احمد نورانی ایک انویسٹیگیٹو جرنلسٹ ہیں اور اس وقت امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔وہ پاکستان میں گزشتہ 15 سال سے زیادہ عرصے سے منظم جرائم، سیاست، کرپشن، فراڈ اور ہیومن رائٹس پر ایکسکلوسو رپورٹنگ کرتے آ رہے ہیں ، اور اس وقت فیکٹ فوکس ویب سائٹ کے لئے ایکسکلیو سیو رپورٹس لکھتے ہیں ۔

گزشتہ سال نومبر میں احمد نورانی نے اس وقت کے حاضر سروس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے ٹیکس ریٹرنز اور ان کی دولت میں کئی گنا اضافے کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس رپورٹ میں جنرل کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق دعووں کی تردید کی تھی۔اس سلسلے میں گذشتہ دسمبر میں احمد نورانی کے خلاف ایف آئی اے میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی ۔

احمد نورانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” ایف آئی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرنز تک رسائی غلط طریقے سے حاصل کی گئی ہے ۔

لیکن احمد نورانی کا کہنا ہے کہ ان کی یہ خبر بدعنوانی سے متعلق تھی ، بجائے یہ کہ اعلی حکام میری رپورٹ سےآگے بڑھ کر کرپشن کی تحقیقات کریں وہ کہتے ہیں کہ میں نے خبر کیوں دی ؟

“اگر میری خبر غلط ہے یا اس میں دی گئیں معلومات غلط ہیں تو وہ ضرور کارروائی کریں ، پاکستان میں صحافیوں کے خلاف پہلے بھی کیسز درج ہوتے رہے ہیں ، مثال کے طور پر اگر ایک صحافی نے کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ کے خلاف خبر دی تو صحافی پر قتل کا الزام لگا کر ، یا فراڈ کا الزام لگا کر مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے ، تاکہ وہ ڈر جائے ، لیکن یہ شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ خبر کردینے پر ایف آئی آر درج کی گئی کہ اس نے خبر کیوں دی یا اس خبر کےلئے دستاویزی ثبوت کیسے حاصل کئے “۔

احمد نورانی کا کہنا ہے کہ اسی کیس کی تحقیقات کے دوران ان کے خلاف بغیر کسی کارروائی کے ایک چالان کے تحت اب انہیں اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے ، اور ان کی گرفتاری کے لیے قانونی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور ایسے الزامات لگائے گئے ہیں جو بے بنیاد ہیں ۔

اشتہاری قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر احمد نورانی خود کو پیش نہیں کرتے تو قانون نافذ کرنے والے ایک ایسا عمل شروع کر سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ قانونی طور پر ان کی جائیدادیں، اثاثے ضبط کر سکتے ہیں، بینک اکاؤنٹس بند کر سکتے ہیں اوران کے خاندان کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

صحافیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ یا سی پی جے کے ایشیا پروگرام کوآرڈینیٹر Beh Lih Yi نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف اور ان کے خاندان کے ٹیکس ریکارڈز پر رپورٹنگ کے بعد جلاوطن صحافی احمد نورانی کو پاکستانی حکام کی جانب سے نشانہ بنانا آزادی صحافت کے لیے ایک واضح دھمکی اور خطرہ ہے۔

اسی چالان میں ایک آزاد صحافی اور نجی نشریاتی ادارے بول نیوز کے سابق نمائندے شاہد اسلم پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ٹیکس ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر حکام کو رشوت کی پیشکش کی۔شاہد اسلم ایف آئی اے پر تنقیدی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں ۔ انہوں سی پی جے سے بات کرتے ہوئے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ فیکٹ فوکس کی تحقیقاتی خبر میں کوئی کردار نہیں رکھتے ۔
جنوری 2023 میں، ایف آئی اے نے شاہد اسلم کو لیک میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے گرفتار کیاتھا اور ان کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ ضبط کرلیا تھا۔ شاہد اسلم کے مطابق، فون اور لیپ ٹاپ فرانزک تجزیہ کے لیے ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔

سی پی جے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکام کو احمد نورانی اور صحافی شاہد اسلم کے خلاف کسی بھی قسم کی تحقیقات کو ختم کرنا چاہیے اور شاہد اسلم کی گرفتاری کے دوران ضبط کیے گئے الیکٹرانک آلات کو فوری طور پر واپس کرنا چاہیے۔”

صحافی احمد نورانی کی اس سے پہلے بھی سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کے ٹیکس گوشواروں پر مبنی درجنوں تحقیقاتی رپورٹس شائع ہو چکی ہیں ، لیکن ان کے مطابق ان کے خلاف پہلے ایسی کارروائی نہیں ہوئی ۔

امریکہ میں رہتے ہوئے فیکٹ فوکس ویب سائٹ پر اگست 2020 میں احمد نورانی نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ جاری کی۔نومبر 2021 میں انہوں نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب ایک آڈیو کلپ اپ لوڈ کیا جس میں وہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی سزا کے لئے دباؤ ڈالنے کے بارے میں دیگر نامعلوم افراد سے بات کر رہے تھے۔

ان رپورٹس کے بعد، احمد نورانی کے مطابق، انہیں امریکہ میں رہتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY