چار فروری 2024ء پاکستان ایمبیسی پیرس فرانس میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں کمیونٹی کے چیدہ چیدہ لوگوں نے شرکت کی ۔ خواتین و حضرات نے کشمیر کے مسائل پر بات کی اور یکجہتی کشمیر کے لیے متحد ہونے پر زور دیا سفیر پاکستان جناب عاصم افتخار احمد صاحب نے اپنے خطاب میں غیر ملکی پریس کے نمائندگان اور پاکستانی کمیونٹی کو کشمیر کے حالات سے آگاہ کیا۔ ان بنیادی وجوہات سے آگاہ کیا جس کے سبب 76 سال سے یہ خطہ آتش فشاں کا دھانہ بنا ہوا ہے۔ کچھ دوستوں نے جوش جذبات میں
کشمیریوں سے اپنے گلے کا اظہار کیا کہ 35 ہزار کشمیری آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو فرانس میں مقیم پیسے کی ریل پیل میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اپنے کاروباروں کو اپنے جینے کا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔ ایک ایک فیملی میں انکے چھ چھ، آٹھ آٹھ بچے ہیں ، لیکن ایک بھی بچہ، ایک بھی عورت، یہاں تک کی شاذ و نادر ہی ہو تو ہو ورنہ مرد بھی یہاں پر کسی بھی قسم کے مظاہرے میں آواز اٹھانے کے کسی پروگرام میں آ کر شامل نہیں ہوتا۔ جو اکا دکا کوئی بزرگ، کوئی بھولا بھٹکا یہاں پر آ بھی جاتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ سارا کشمیر اس اکیلے کو ہی سمجھ لیا جائے ۔ اگر کوئی گلا کرے گا، تو اس کا شاید بس نہیں چلتا کہ سوال کرنے والے کا گلہ ہی دبا دے۔ ضرورت اس بات کے سمجھنے کی ہے کہ جس گھر میں آگ لگی ہوتی ہے، اس کے گھر والے ہی اس کے لیے سب سے پہلے اس پر پانی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے بجھانے کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس کے بعد شور مچاتے ہیں کہ کوئی دوسرا بھی آ کر ان کی بات سنے گا۔ اگر گھر والا ہی بیٹھ کر کنارے پر آگ سینک رہا ہے اور تکے کباب کھا رہا ہوگا، تو کیا کسی اور کا دماغ خراب ہے کہ وہ آ کر ان کے گھر کی آگ بجھانے کی کوشش کرے گا۔ کیوں کرے گا وہ یہ سب کچھ؟ یہ بات کشمیریوں کو سمجھنی ہوگی کہ یہ جنگ 76 سال طویل کبھی نہ ہوتی اگر یہاں پر بیرون ملک رہنے والے کشمیری بے حس نہ ہوتے اور اپنے ضمیر کو یوں تالا لگا کر نہ بیٹھے ہوتے۔
اگر ممکن ہوتا تو کاش ہم یہ فیصلہ کر سکتے کہ آزاد کشمیر کے بے حس لوگوں کو سرینگر جموں کشمیر کے بدلے بھارت کے حوالے کر دیا جائے تاکہ انہیں مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں کے درد سے آگاہی ہو سکتی ۔ وگرنہ
کشمیر کی آزادی تک یہ جنگ رہیگی
اسکے ہر دشمن پر دھرتی تنگ رہیگی













