جمہوریت پسند ریاستیں تاریخی حوالاجات ، آفتاب احمد

0
245

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
جمہوریت کا سب سے پہلا سراغ ہندوستان میں ملتا ہے ۔6سوسال قبل ازمسیح اور ”بدھا“کی پیدائش سے قبل ھند میں جمہوری ریاستیں موجود تھی اور ان کو(جاناپداس)کہا جاتاتھا۔ان میں سب سے پہلی ریاست”وشانی“ریاست تھی جو کہ آج ”بہار“کے نام سے مشہور ہے ۔ اسی طرح سکندراعظم کے دورمیں400قبل از مسیح یونانی دانشوروں کے مطابق کی ریاستیں جو موجودہ پاکستان اور ہندوستان ہیں،یہاں پر بھی جمہوری حکومت تھی نہ کہ شاہی حکومت ۔اسی طرح 5صدی قبل از مسیح میں گریس میں بھی کونسل اور اسمبلی کا تصور ملتا ہے لفظ جمہوریت اصل میں یونانی زبان سے آیا ہے اوراس کا مطلب ہے
تمام انسان آزاد اور حقوق وعزّت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں
سب انسان آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق رکھتے ہیں
تمام انسان قانونی تحفظ کا حق رکھتے ہیں
تمام انسانوں کواپنےملک میں سیاسی صورتحال پرآزادانہ اور خفیہ رائے دہی/انتخاب کے ذریعےاثرانداز ہونے کا حق ہے
تمام انسانوں کے لئے قطع نظر مذہب ،نسل، جنس،سیاسی سوچ، قومیّت ایک جیسے انسانی حقوق ہیں
جدید دنیا میں سب سے پہلےمغرب کی کئی حکومتوں نے اس جمہوری اور پارلیمانی نظام کو اپنے یہاں نافذ کیا لیکن یہی حکومتیں دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں تک سامراجیت جیسی بد ترین وبا کو فروغ دیتی رہیں۔ البتہ وہاں کے باشندے سامراجی طاقتوں کے ظلم وستم سے تنگ آکرجب اپنی اپنی سرزمین پہ ان کے وجود اور بقاکےلئے خطرہ بن گئے توان طاقتوں نے وہاں سے راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی، لیکن جاتے جاتے یہ جمہوری نظامِ حکومت انہیں سوغات کے طور پردے گئیں۔ ان میں سے کچھ نے اس کی شکل بگاڑ کر بڑی ہوشیاری سے عوامی اورجمہوری حکومت کے بجائے اسے خالص اشرافیہ کی حکومت میں تبدیل کردیا جسے انگریزی میں (اولیگارکی) کہتے ہیں یعنی حکومت اور سیاسی طاقت ہمیشہ مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کررہ جائے۔

جمہوری اصولوں کی بقا کو آج سب سے بڑا خطرہ جولاحق ہےوہ ہے قومیت اور علاقائیت کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانا، نسلی بھید بھاؤ اورمذہبی منافرت کے ذریعے سماجی تانے بانے اور امن وشانتی اوربھائی چارے کو ختم کرنا۔ دنیا آج اسے ڈیموگاگری کے نام سے جانتی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ قدیم معاشروں کو اس کا اچھی طرح احساس تھا۔ ایتھنز جہاں جمہوریت کا جنم ہوا وہاں انتخابات کو غیر جمہوری اور انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کو اشرافیہ کی (نہ کہ عوام کی) حکومت سمجھا جاتا تھا۔ وہاں بلاواسطہ جمہوریت قائم تھی اور قانون سازی کے عمل میں ہر اہل شہری ووٹ کرتا تھا۔ جبکہ انتظامی عہدوں پر لوگ انتخابات کے ذریعے نہیں بلکہ قرعہ اندازی کے ذریعے مقرر کیے جاتے تھے۔
دنیا کی اور ریاستوں میں بھی جمہوریت قائم ہے جہاں انتخاب کی حد تک عوامی شراکت تو موجود ہے لیکن ووٹوں کی حصولیابی کے بعد کا ساراسیاسی کھیل چند لوگوں تک محدود ہوکر رہ جاتا ہے۔ جو لوگ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں پانچ سالہ سیاسی اٹھا پٹخ اورہلچل میں دور دور تک اور کہیں سے کہیں تک ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ عوام روزمرہ کی استعمال کی چیزوں اوراشیائے خوردونوش کی بے تحاشہ بڑہتی ہوئی قیمتوں سے نڈھال انتہائی لا چارگی کی حالت میں زندگی بسر کرتی ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی منتخب نمائندہ اس پانچ سال کے طویل عرصے میں انکی خبر گیری کرسکے اور انکا پرسانِ حال ہوسکے۔ ایسی تمام جمہوریتوں کی عوام کی یہ صورتِ حال بہت ہی دردناک اور بھیانک ہے۔
جمہوری نظام میں شخصی آزادی ہوتی ہے۔اوریہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ۔ اسی۔ جمہوری نظام میں آزادی اورحقوق انسانی کی ضمانت دی گئی ۔ ۔شہنشاہیت اورسرمایہ دارانہ نظام سے لوگ جب تنگ آچکےتھےتو دنیا میں فلاسفہ نےجمہوریت کا نظریہ پیش کیا۔اس وقت اس کی زبردست مخالفت کی گئی اوردلیل دی گئی کہ محض تعدادکی بنیادپراہم فیصلے نہیں کئے جاسکتے ۔ کیوں کہ جمہوری نظام میں انسان گنے جاتے ہیں تولے نہیں جاتے۔ ۔جمہوریت کا یہ فلسفہ مشہورفلسفی افلاطون کوبھی سمجھ نہیں آیا ۔اس کی نظرمیں جمہوریت مستقل کشمکش،عام لوگوں کی رائےکوحقیقت یا علم کا درجہ دینا غلط ہے۔۔
ایک طرز حکومت ۔ عوام کی حکومت۔ جس میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ آمریت کی ضد ۔ جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ بلا واسطہ جمہوریت ، اور بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہوسکتی ہے۔ جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غوروفکر کرنا ممکن ہو۔ اس طرز کی جمہوریت قدیم یونان کی شہری مملکتوں میں موجود تھی۔ ان دنوں یہ طرز جمہوریت سوئٹیز لینڈ کے چند شہروں اور امریکا میں نیو انگلینڈ کی چند بلدیات تک محدود ہے۔
اگرآج کے جمہوری نظام پرایک نظرڈالیں، اورصاحبان اقتدار،جمہوری نمائندگان، جمہوری سیاسی پارٹیوں کی حرکات ،ان کے طرزعمل اوران کی علمی قابلیت کے موازنہ کریں توجوتصویرابھرکر سامنےآتی ہے۔ اس میں افلاطون کے نظریے کا پتہ چلتا ہے۔ا س کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ افلاطون کے یونان کی طرح آج ہمارے ملک میں جمہوری نظام کی باگ دوڑنااہل افراد کے ہاتھوں میں ہے ۔ یہ لوگ ملک وعوام کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ۔قوم کو بدعنوان لیڈران اور، افسران کوان پڑھ گنوار رہنماؤں کے اشارے پر چلنا پڑرہاہے۔عوام اورملکی مفادپر ذاتیات کوترجیج دینے کی روایت جڑپکڑتی جارہی ہے ۔قانون ساز ادارے بھی بدعنوانی کےمرض سے پاک نہیں
تمام سیاسی پارٹیاں جمہوریت کی بالادستی کا نعرہ لگاتے، قوم کو جمہوریت کے فروغ کا درس دیتی، برسراقتدار حکمرانوں کے غیر جمہوری افعال اور آمرانہ روش کا واویلا کرتی نظر آتی ہیں۔ اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اقتدار کے مزے لوٹتی رہی ہیں لیکن خود انکے درمیاں جمہوری روایات کی پاسداری کی جھلک دکھائی نہیں دیتی جبکہ آمرانہ روش رکھنے والے پارٹی سربراہان نے اپنی پارٹیوں کو ایسا گروہ بنایا ہوا ہے جس میں بے شمار ڈان ہوں اور وہ خود گاڈ فادر ہوں۔
پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں 17وزیر اعظم آئے۔ انکے علاوہ چھ نگران وزراء اعظم نے بھی اقتدار میں حصہ ڈالا۔ ایسے وزیراعظم بھی نامزد ہوئے یا انتخاب کئے گئے جو عالمی اداروں سے امپورٹ کئے گئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکا اور سول اسٹیبلشمنٹ اور کبھی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا شکار ہوتے رہے۔
بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے اکثر یہ مقولہ دہرایا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ جسے بد ترین جمہوریت کہا جاتا ہے کیاوہ جمہوریت ہی ہے یا کچھ اور ۔ شخصی جمہوریت اور خاندانی جماعتوں کو جمہوریت کا نام دینا جمہوریت کے منہ پر ایک تماچہ ہے۔ کوئی بھی نظام ہو وہ اپنی اصل شکل میں ہونا چاہیے ، اگر کفر بھی اپنی خالص صورت میں تو وہ بھی نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ مغربی جمہوریت کے بھی مختلف ماڈل ہیں جن میں برطانوی، فرانسیسی، سوئٹزرلینڈ اور سویڈش ماڈل اہم ہیں۔
جہان عدل نہیں ہوگا وہاں جدل ہوگا اور عدالتی نظام اور عدلیہ پاکستان کے بیشتر مسائل کہ وجہ ہے۔اگر اعلیٰ عدلیہ انتخابی دھاندلیوں کی شکایات پر داد رسی کرتی اور ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر بھی اپنا کردار ادا کرتی تو آج پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران نہ ہوتا ،نہ ہی ملکی معیشت کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑتا اور نہ ہی عالمی سطح پر جگ ہنسائی نہ ہوتی۔
کبھی سویڈن میں بھی یہی استحصالی نظام تھا۔ بادشاہ اور کلیسا کے گٹھ جوڑ نے عوام کا جینا محال کیا ہوا تھا۔ جاگیردار اور امراء تو مزے لیتے رہے جبکہ عوام غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر امریکہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ آج بھی شمالی امریکہ میں ہزاروں سویڈش قیام پذیر ہیں۔ شہروں کے اعتبار سے سٹاک ہوم کے بعد شکاگو میں سویڈش باشندوں کی سب سے بڑی تعداد آباد ہے۔آج بھی امریکہ میں سٹاک ہوم، لند، سویڈن، لند، مالمو، گوتھن برگ، اپسالا، مورا، کارلستاد، نورا اور بہت سے سویڈش شہروں کے نام پر شہر اور قصبے موجود ہیں۔ پھر ایک وقت آیا اور سویڈش لوگوں نے اپنے حقوق کی جدوجہد شروع کی۔ بادشاہ کو آئینی کردار اور کلیسا کو ریاست سے الگ کرکے اپنے لیے مثالی جمہوریت اور ایک دنیا کی بہترین ویلفیئر سٹیٹ قائم کی۔ انہوں نے سٹیٹس کو ختم کرکے جہالت کے خلاف جدوجہد کی جس سے غربت بھی ختم ہوگئی اور خوشحالی کا دور آگیا۔ پاکستانی عوام کو بھی ایسی ہی جدوجہد کرنا ہے۔ بالادست طبقہ کے مفادات کے تحفظ اور اُن کے اقتدار کو جمہوریت نہیں کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے اکثر سیاستدان جب بھی نجی محفل میں ہوتے ہیں تو یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت نہیں رہی اور وہاں نظریات اور اصولوں کی سیاست نہیں ہے بلکہ مفادات اور منافقت کا نام ہی سیاست ہے۔
سیاسی جماعتیں خاندانی کمرشل ادارے بن چکے ہیں۔ لوگوں کے اکثریتی مسائل کا تعلق مقامی سطح سے ہوتا ہے لیکن کسی بھی جمہوری حکومت نے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے اور جب بھی پاکستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو وہ ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف جیسے فوجی آمروں نے کروائے۔ جمہوریت کا درد رکھنے والی جماعتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یورپ میں بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے ہوتے ہیں اور وہ بھی جماعتی بنیادوں پر۔ پاکستان میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کے لیے سیاسی جماعتوں کا رکن بننا تو دور کی بات ، اُن کے ساتھ ہمدردی بھی نہیں رکھی جاسکتی۔ وہاں ملازمین کی سالانہ خفیہ رپورٹ میں یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ اُس کا تعلق کسی جماعت کے ساتھ تو نہیں جبکہ اصل جمہوریت میں جو کہ یہاں یورپ میں ہے سیاسی جماعتوں کا رکن بننے یا انتخابات میں حصہ لینے لیے سرکاری ملازمت آڑے نہیں آتی۔ سویڈن میں بہت سے سرکاری ملازمین جن میں پولیس بھی شامل ہے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور منتخب ہوکر پارلیمان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور بعد میں پھر اپنے محکمہ میں واپس اپنی ڈیوٹی پر چلے جاتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں کئی طرح کی جمہوریت پائی جاتی ہے۔ کہیں پر عوام براہ راست حکومتی فیصلے کرتے تھے، کہیں پر اپنے نمائندے منتخب کر کے نظام ترتیب دیا جا رہا ہے تو کہیں پر ایک آئین ترتیب دے دیا جاتا ہے جس کے ماتحت حکومت چلتی ہے۔ عام طور پر ماہرین جمہوریت کی یہی تین اقسام یعنی بلاواسطہ، نمائندگانی اور آئینی جمہوریت پیش کرتے ہیں، جبکہ میرا خیال ہے کہ جمہوریت صرف ان تین اقسام تک محدود نہیں بلکہ اس کی مزید کئی اقسام بنائی جا سکتی ہیں۔ جیسے جیسے انسان ترقی کرتا جائے گا وہ اپنے لئے بہتر سے بہتر جمہوریت تشکیل دیتا جائے گا اور نئی سے نئی قسم وجود میں آتی جائے گی۔ اب تک جمہوری طریقے سے کئی ایک نظام ترتیب دیئے جا چکے ہیں۔ جمہوریت کے تحت بننے والے نظاموں میں اس وقت سب سے مشہور صدارتی اور پارلیمانی نظام ہیں۔
کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ جمہوریت کی موجودہ شکل سو فیصد درست ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت کی موجودہ شکل میں کئی ایک خامیاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اگر جمہوریت کا لیبل لگا کر بادشاہت چلائی جائے تو صرف لیبل لگا دینے سے نظام جمہوری نہیں ہوتا۔ خیر جہاں دن بدن جمہوریت کے تحت بننے والے نظاموں میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں، وہیں پر خود جمہوری طریقہ دن بدن نکھرتا جا رہا ہے۔ جمہوری طریقے میں موجود خامیوں کو ختم کرنے پر تحقیق ہوتی رہتی ہے۔ جیسے جیسے دنیا میں مزید شعور اجاگر ہوتا جاتا ہے، ویسے ویسے وہ اپنے اپنے جمہوری نظاموں میں بہتری لا رہے ہیں۔ بہرحال یہ تو حقیقت ہے کہ جمہوریت جیسی بھی ہے لیکن پھر بھی بادشاہت اور ڈکٹیٹر شپ سے لاکھ درجے بہتر ہے۔
اس وقت دنیا بھرمیں قریب تین ارب افراد کو مکمل سیاسی اور سماجی آزادیاں حاصل ہیں۔ یہ تعداد دنیا کی کُل آبادی کا قریب 43 فیصد بنتی ہے۔ دوسری طرف 1.6 ارب افراد ایسے ممالک میں رہ رہے ہیں جہاں انہیں مکمل جمہوریت یا آزادیاں حاصل نہیں ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں 90 ممالک میں مکمل جمہوریت ہے۔ 2011ء کے مقابلے میں جمہوری نظام حکومت کی حامل اقوام کی تعداد 87 تھی۔ تاہم اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 27 ممالک میں آزادی اجتماع، آزادی اظہار اور میڈیا پر قدغنیں دیکھنے میں آئی ہیں۔
عالمی یوم جمہوریت بین الپارلیمانی یونین کے تحت ہر سال دنیا بھر میں 15 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کی ابتدا 2008ء میں ہوئی اس دن کو منانے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر نئی جمہوریتوں کی حمایت کرنا اور ملکوں میں حکومتی سطح پر جمہوریت کے فروغ کے اقدامات کرنا ہیں۔
ہم اپنے جمہوری نظام کی بات کریں تو ارسطو اور سیلی کی جمہوریت کے بارے میں دی گئی تعریف بلکل درست بیٹھتی ہے یعنی ایک ہجوم ہی کی حکومت ہے جس میں سب شریک بھی ہیں ایک مخصوص طبقہ جو پچھلے دو تین دہائیوں سے حکمرانی میں مصروف ہے
ایک اسی جمہوریت کی جس میں 284 معصوم جانوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا لیکن معاملہ مذمتی بیانات دیکر رفع دفع کردیا گیا ایسی جمہوریت جس کے ہوتے ہوئے 700 سے زائد بچے اغواء ہوئے ایک ایسی جمہوریت جس کے ہوتے ہوئے اگر کسی وزیر ، لیڈر یا بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیت پر الزامات لگ جائیں اور وہ غلطی سے ثابت بھی ہوجائیں تو بھی انھیں کوئی ٹس سےمس نہیں کرسکتا ایسی جمہوریت جس میں جو جتنا زیادہ بدعنوان ہے وہ اتنا ہی زیادہ معزز ، باعزت اور محب وطن ہے ایسی جمہوریت جس میں عوام کے منتخب نمائندے خود بیرون ملک سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اوروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کا مشورہ دیتے ہیں جس بنائے ہوئے اسپتال اور اسکولوں کے متعلق وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں خود وہاں سے نہ تو علاج کرواتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو اس اسکول میں داخل کرواتے ہیں
اگر اپوزیشن پارلیمنٹ میں اپنی حاضری کو یقینی بنائے اپنی سیاسی دلچسپیوں کا مرکز پارلیمنٹ کو بنائے یعنی قانون سازی میں بھرپور شرکت کرکے حکومتی وزراء کو سوال و جواب کے کٹہرے میں لائے، حکومتی پالیسیوں، فیصلوں اور ارادوں پہ کھل کر تنقید کرے اور ساتھ ساتھ ان کی راہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دے تو عوام اور ملک کی اس سے بڑی اور کوئی خدمت نہیں ہے۔اپوزیشن کا کردار اور ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسی نگران ہے، جوکمرہ امتحان میں بیٹھے طلباء پر نظر رکھتا ہے کہ وہ نقل نہ کریں۔ اپوزیشن حکومت کا قبلہ درست کرنے اور رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کا کردار سراسر آئینی اورقانونی ہے۔
جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ دینا یا لینا نہیں ہے۔ یہ ایک پورا طرز زندگی ہے۔ اس میں معاشی اور سماجی انصاف شامل ہے۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیاں ہیں۔ غیر مشروط اور غیر محدود حق اظہار رائے ہے۔ قانون کی حکمرانی ہے۔پاکستان میں جمہوریت سے مایوسی ابھی بہت قبل از وقت ہے۔ یہاں جمہوریت کے سفر کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے ابھی اس تاریخی تجربے سے گزرنا ہے جس سے دنیا کی کامیاب جمہوریتیں گزر چکی ہیں۔ جمہوریت کے خلاف جو دلائل ہمیں آج سنائی دیتے ہیں یہ مختلف ادوار میں مختلف ملکوں میں اٹھائے گئے تھے۔ ان پر مکالمہ ہوا۔ اور ان کے حتمی جواب فراہم کر دئیے گئے۔
جمہوری معاشرے کی بقا ،جمہوریت کے فروغ اور تسلسل میں آزاد میڈیا کا کردار اہم ہے ،آزاد اور پر اثر میڈیا ، غیر جمہوری اقدار اور اقدامات کے خلاف مو ثر آواز ثابت ہو تا ہے ، اس کے ذریعے عوام کی تربیت اور انہیں حقوق اور ذمے داریوں کے بارے میں بھی بھرپور آگاہی فراہم کی جاسکتی ہے ۔
ترقی پذیر ممالک میں جمہوریت اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے بہت سے جوابات تشنہ کام ہیں۔ لہٰذا ہم آج تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے ہیں کہ جمہوریت کے پھلنے پھولنے میں کون سے عوامل ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا قدم قدم پر رکاوٹیں اور مسائل کا عفریت منہ کھولے کھڑا نظر آتا ہے۔ ہم آج تک یہ بھی سمجھ نہیں پائے ہیں کہ ہمارا اصل مسئلہ نابغہ روزگار شخصیت کی عدم موجودگی ہے یا یہ کہ خواہش اقتدار ہی بذات خود ایک بڑا مسئلہ جو انتشار اور خون خرابے کی طرف لے جاتا ہے۔ ان سوالات کا حل افلاطون نے اپنی کتاب میں یہ نکالا کہ اگر ریاست کے حکمران فلسفی ہوں تو کاروبار مملکت احسن طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔ پھر ایک نئے سوال نے جنم لیا کیا ایک سیاستدان کو فلسفی ہونا چاہئے یا کہ حکومت ہی فلسفیوں کے پاس ہونی چاہئے۔ اس دور کا بادشاہ افلاطون کو اس کے نظریات کی وجہ سے سزا ینے پر تل گیا۔ وہ سزا سے تو بچ نکلا لیکن ایک اہم سوال چھوڑ گیا کہ بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عوام پر کس گروہ یا طبقے‘ گروہ یا ادارے کی حکومت ہو۔ بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اداروں کو کیسے منظم کیا جائے۔ تاکہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اگر کوئی حکمران عوامی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے تو ایسا نظام موجود ہونا چاہئے کہ اسکا مواخذہ کیا جا سکے۔
آج کتنے سقراط اپنے ہاتھوں میں تعلیم و ہُنر کی اعلیٰ ترین ڈگریاں تھامے قافلہ جمہوریت کے ہاتھوں زہر پیالے پی رہے ہیں۔ یہ سوال — آج کا سب سے اہم اور بڑا سوال ہے شاید حکمرانوں اور سیاستدانوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں
آج کی سیاست وراثتوں اور شخصیت کے گرد گھومتی ہے، بجائے اس کے پارٹیوں کو مضبوط کیا جاتا کہ وہ اپنے رہنماؤں کا انتخاب کرسکتیں۔ سیاسی جماعتیں اس وقت جمہوری نظام کا دفاع کرنے میں اپنا کیس ہار جاتی ہیں جب وہ خود اپنی جماعتوں میں یہ نظام تیار کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں۔
جمہوری کلچر میں بروقت انتخابات ہوتے ہیں۔ اُس کے نتیجے میں ایک نمائندہ حکومت وجود میں آتی ہے۔ اس حکومت کے تحت سب کچھ پارلیمنٹ سے پوچھ کر ہوتا ہے۔ قانون سازی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ عدلیہ اور صحافت مکمل طور پر آزاد ہوتی ہے۔ کسی کو اپنی بات کہنے سے نہیں روکا جاتا۔ مملکت کا ہر ادارہ مثلاً پولیس سیاسی اثر سے آزاد ہوتا ہے۔ احتساب کا ایسا غیر جانبدارانہ نظام قائم ہوتا ہے، جس کے تحت ہر وقت اور ہر لمحے اقتدار پر فائز لوگوں کے ہر کام کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اربابِ اقتدار سب سے بڑھ کر خود قانون کی پابندی کرتے ہیں، اور اپنے فرائضِ منصبی کی بجاآوری کے علاوہ ان کو کوئی اضافی مراعات حاصل نہیں ہوتیں۔ اگر وہ محسوس کریں کہ رائے عامہ ان کے خلاف ہوچکی ہے، تو نئے انتخابات کا اعلان کرتے ہیں اور کسی بھی مخالفانہ نتیجے کو قبول کرنے میں پس وپیش سے کام نہیں لیتے۔
جن قوموں میں جمہوری کلچر موجود ہوتا ہے وہ دن بدن ترقی کرتی چلی جاتی ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی عقل ودانش کے نتیجے میں یہ جان لیتی ہیں کہ ان کے لیے صحیح طرزِ حکومت، صرف جمہوریت ہے۔ چنانچہ فی الوقت، سوائے چین کے، سارے ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری کلچر موجود ہے۔ یہ بات جان لینی چاہیے کہ چین، عوام کے معیار زندگی کے اعتبار سے ترقی یافتہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ اوسط سے کچھ کم آمدنی رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
جمہوری کلچر اپنے وجود سے ہی یہ تقاضا کرتا ہے کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفادات سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ وہ اس بات سے مستقلاً باخبر ہوں کہ ان کے معاملات حقیقت میں کس طرح چلائے جارہے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی بجاآوری میں کوئی غلطی دیکھیں تو اس پر باز پرس کرسکیں۔ لوگوں کی زبانیں بند کرکے اور ان کو بے خبر رکھ کر اجتماعی معاملات چلانا خیانت اور بددیانتی ہے۔
جمہوری کلچرکا یہ بھی تقاضا ہے کہ جس شخص کو بھی ذمہ داری کے منصب پر فائز کرنا ہو، اسے لوگوں کی آزادانہ رضامندی سے مقرر کیا جائے۔ اگر یہ رضامندی جبر، لالچ، دھوکے، فریب اور مکاری سے لی گئی ہو تو یہ کوئی رضامندی نہیں بلکہ بددیانتی ہے۔
جمہوری کلچر کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کا سربراہ صرف وہی لوگ اپنے وزیر اور مشیر مقرر کرے جن کو بذات خود بھی قوم کا اعتماد حاصل ہو۔
ہمارے بالادست طبقات کے اندر تکبر، دکھاوا، اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کا رجحان، مال ودولت اور عہدے کی نمائش اور شاہی مزاج پر مبنی جاگیردارانہ ذہنیت اپنی انتہائی حدوں میں موجود ہے۔ تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں میں لیڈرشپ ایک میراث بن چکی ہے

آفتاب احمد
کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY