شاید ہم وہ قوم ہیں جنہیں سچائی اور ایمانداری کی راہ بڑی کڑی اور مشکل لگتی ہے کیونکہ آج کل جس طرح ہر طرف سے کرپشن کی پوٹلیاں کُھل رہی ہیں وہ حیرت میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ کس طرح ہم نے وطنِ عزیز کو لوٹا بھی اور بد نام بھی کیا ۔لیکن ہمیں ابھی تک یک جا ہوکر اس مشکل سے نکلنے کی توفیق عطا نہیں ہوئی۔ کیونکہ ہم نے برائی کو برا سمجھا ہی نہیں شاید ۔جس طرح چھوٹ مل رہی ہے اور پہلے کی طرح ہر مقدمہ گھسیٹا جا رہا ہے نہ معلوم وقت تک کے لئے وہ سب کے سامنے ہے ۔پہیلی یہ ہی ہے کہ کیا ہم کبھی اس برائی سے جان چھڑا سکینگے اپنے بَل بُوتےپر ۔کاش ہم سب ہی حل نکالیں مل کر یک جا ہوکر ۔
آج ہم نے خود سے سوال کیا کہ کیا ہم واقعئی اس قابل ہیں کہ ہمیں دیانت دار اور اچھے لوگ حکومت کرتے نظر آئیں ؟ جواب تھا نہیں ۔ کیونکہ ہمیں ایماندار لوگ کام کرنے والے لوگ ہضم نہیں ہوتے بلکہ ہم شروع دن سے اُن کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔کیونکہ ہمیں اپنی بھلائی منظور ہی نہیں ہے کیونکہ ہم ہمیشہ اُن ہاتھوں میں کھیلے ہیں جو ہمیں کھائی میں دھکیلتی رہی ہے ۔یا تو شروع ہی میں وزیرِ خزانہ کو بدل دیا جاتا جب ان کے خلاف سب بول رہے تھے یا پھر ابھی صبر کیا جاتا ۔یہ ہماری سوچ ہے اور ہماری سوچ کوئی حٰثیت نہیں رکھتی یہ ہم جانتے ہیں ۔ہمارا تو خٰیال ہے کہ خان صاحب کو اُن ہی لوگوں کے ہاتھ میں حکومت دے دینی چاہئے جو ہمیں لوٹتے رہے کھسوٹتے رہے اور آج بھی مزے اُڑا رہے ہیں لندن کی فضاؤں میں ۔کہتے ہیں ہم نے جتنا لوٹا وہ قانون کے مطابق تھا اب وہ قانون کس نے بنایا تھا شاید اُن ہی کے لوگوں نے ۔ہمارا اسد عمر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ حکومت میں بیٹھے کسی بھی بندے سے کوئی راہ و رسم نہیں مگر حکومت میں بیٹھے ہر بندے سے ہمارا تعلق ہے کیونکہ وہ ہمارے ہی لئے کام کرنے کا عزم لے کر حکومت میں آیا ہے ۔اس لئے جہاں ہم انکی کمزوریوں پر بات کرتے ہیں اُن کی اچھائیاں بھی ہمیں اُجاگر کرنی چاہئیں ۔ہمیں امید ہے کہ باہر سے لایا گیا وزیرِ خزانہ اسد عمر کی تنخواہ ہی پر کام کرے گا ،؟؟؟؟؟کاش ہم یہ بھی جان سکیں کہ اگر یہ وزیرِ خزانا اس قابل نہیں تھے کہ کام کر سکیں تو انہیں اتنی بڑی زمے داری کیوں دی گئی ؟اور پھر اب کس کی مشاورت پر ہٹا دیا گیا ۔بے شک وزیر اعظم با اختیار ہے لیکن جواب دہ بھی ہے ۔۔
خبریں اُڑ رہی تھیں بلکہ تجزیہ نگار اور اینکر تو شاید شروع دِن ہی سے وزارتِ خزانہ کے لتَے لے رہے تھے ۔اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں اآیا کہ محترم وزیرِاعظم نے ایسے وقت میں جب کہ وزارتِ خزانہ اپنا اتنا کام مکمل کر چکی تھی ۔اسے کیوں تبدیل کیا ؟ ویسے اپنی بات وہ خود جانیں، لیکن ہمیں یہ تشویش ہے کہ کہیں خان صاحب اپنے بہترین رُفقاء سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں ۔اور وہ طاقتیں کامیاب ہو جائیں جو اس حکومت کو ہٹانا یا گرانا چاہتی ہیں ۔ویسے اسد عمر صاحب کے تو اپنے بھائی نے بھی اپنی پارٹی کا پورا پورا ساتھ دیتے ہوئے اپنے بھائی کو کسی اہل نہیں سمجھا تھا ۔اور مستقل انکی تنقید جاری تھی ہماری دعا ہے کہ جو آئے وہ اچھا ہو ،لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اس وقت اس وزارت کو لینے والا شاید بہت ہی کوئی جئید ہوگا یا بہت ہی ہٹ کر ہوگا ۔ہم نہیں سمجھتے کہ اتنی جلدی کوئی بھی تبدیلی کسی بھی کام آسکتی ہے ۔مگر ملک کی بات ہے قوم کا مفاد ہے ۔لیکن اکثر دانا دوست بھی غلطیاں کرا دیتے ہیں غلط مشورے دے دیتے ہیں ۔ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ ہماری معیشت اتنی خطرناک حالت میں تھی کہ ایک محںت کرنے والا مُخلص شخص بھی اُسے بحال کرنے میں ناکام رہا ۔ہم اُنکی ہمت کی داد دیتے ہیں کہ اتنا عرصہ انہوں نے ہر قسم کی تنقید برداشت کی اور جو کچھ کر سکتے تھے کیا اب دیکھیں کون اس نیا کو پار لگانے کا بیڑا اُٹھائیگا ،اور ہمارے پُر عظم اینکرز اب کس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھینگے ۔کیونکہ ہمیں تو ان تمام باتوں میں کہیں نہ کہیں ہمارے مغربی دوست بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آرہے ہیں ۔کیونکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اپنے مفاد دیکھتا ہے ہمارے آپ کے ملکوں کے نہیں ۔اور ہمیں تو یہ بھی خوف ہے کہ پھر وہیں کا پڑھا لکھا وہاں کا رہتا شخص ہی اپنی پوٹلی اُٹھائے وطن واپس آجائیگا ۔کہ مجھ سے بڑا تمہارا ہمدرد اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ہم کیا کریں کہ ہمارا دل چاہت ہے کہ ہم اپنے ملک میں بیٹھے لوگوں وک آزمائیں اُن کی مدد لیں ۔انہیں آگے لائیں تاکہ یہ سارے مغربی بینک اور لوگ پیچھے رہ جائیں ہمیں ان کی مدد درکار ہی نہ ہو مگر بقول اسد عمر ‘‘ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دَم نکلے ؛؛۔
معزرت کے ساتھ ہمیں عادت ہو گئی ہے نمک مرچ لگی خبریں دیکھنے اور سننے کی ۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں رہی کہ ہمارے مفاد میں کیا ہے ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ اینکرز بھی نہ جانے کس طرف ہیں ۔کیونکہ ہمیں کو ںی بھی ملک اور قوم کے لئے کوئی تجویز دیتا یا کوئی راہ بتاتا نظر نہیں آتا بلکہ صرف اور صرف عورتوں کی طرح طعنے دیتے اور مزاق اُڑاتے نظر آتے ہیں ۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارا یہ ادارہ ہی جسے میڈیا کہتے ہیں سچا اور ایمان دار ہوتا خبروں کے معاملے میں تو ہم پر اتنے دھوکے باز حکومت کس طرح کرتے ؟ اب بھی یہ لوگ ملک کی طرف نہیں دیکھ رہے اپنے اپنے اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں، کہ کہیں حکومت طاقتور ہوگئی لوگ خوشحال ہوگئے تو ہمیں خبریں کیا دینی پڑینگی ۔ہمیں لگتا ہے کہ ملک میں ایک طبقہ افرا تفری ہی چاہتا ہے ہمیں افسوس ہے کہ ہمارا میڈیا جس طرح ًمخالفت کر رہا اور کوئی بھی اچھی بات حکومت کی سامنے نہیں لارہا وہ ہمیں یہ باتیں سوچنے پر مجبور کر رہا ہے ۔کہ دال میں کہاں کالا ہے ۔یہ ہم سب ہی کا فرض ہے کہ اپنی اپنی روش پر غور کریں ۔اگر ہمارے خبر دینے والے اُن لوگوں کے نام بتانے شروع کر دیں جو ملک میں خرابی لگانے کے زمے دار ہیں تو یقین جانیں کہ ہم بہت جلد اپنی مشکلات پر قابو پا لینگے ۔ہم نے اظہارِ رائے کی آزادی صرف اور صرف کچھ باتوں تک ہی محدود کر دی ہے اگر اس کو ٹھیک استعمال کر لیں اور اُن تمام لوگوں کے نام کے ساتھ بات کریں جن کو یہ ڈھکے چھپے بیان کرتے ہیں تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کچھ بھی غلط کرنے کی ۔جس طرح کہتے ہیں کہ کچھ وزیر کرپشن کی وجہ سے بھی تبدیل ہوئے ،مگر کسی نے یہ ہمت نہیں کی نہ حکومت نے، نہ میڈیا نے کہ اُن کے نام بتائے جاتے ۔اور اگر ایسا نہیں ہے تو اُن اینکرز اور خبر دینے والوں سے بھی باز پُرس ہونی چاہئے جنہوں نے یہ غلط بات کی ۔لیکن ہم ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے جو آگے جا کر نہ صرف ہمارے کرداروں کو خراب کرتی ہیں بلکہ ایسے ؛لوگوں کی طاقت کا بھی باعث بنتی ہیں ۔ہم جب تک سچ نہیں بولینگے شاید گرداب میں پھنسے رہینگے ۔
ہمیں لگتا ہے کہ ہم اُن ہی بالشتیوں کے ہاتھوں میں رہنا چاہتے ہیں جیسے اسحاق ڈار تھے ۔کیا ہم بدل سکینگے ہمیں امید ہے کہ ہم بدلینگے مگر شرط ہے اپنی صفوں سے سانپوں کو نکالنے کی ۔سنپولیوں سے بچنے کی ۔ہمیں صرف اس وقت دکھ ہوتا ہے جب ہم ہر وقت مایوسی پھیلاتے ہیں ۔کیونکہ ہمیں عادت نہیں رہی شاید کچھ اچھا دیکھنے سننے اور سوچنے کی ۔تبدیلی کہنا بہت آسان ہے لیکن تبدیلی لانے کے لئے جن لوگوں کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے وہ شاید ہمارے یہاں نہیں ہیں اور اگر ہیں تو شاید بہت کمزور ہیں جو کھُل کر سامنے نہیں آسکتے ۔
ہم سب کو ہی سوچنا ہوگا کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے ہمیں بہت مشکل وقت سے گزرنا ہوگا کیونکہ ہمیں تو ہر دور میں انہی حالات کا مقابلہ کرنا پڑا ہے لیکن اس دفعہ امید تھی کہ رنج کے بعد راحت کا سامان ہوگا ا لیکن ہم سب ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں ۔امید اب بھی قائم ہے لیکن نہ جانے کہاں کوئی خوف ساہے کہ اگر اب بھی ایمانداری اور محنت نہ کام آئی تو شاید بہت پیچھے چلے جائینگے جہاں سے واپسی کا راستہ بھی ممکن نہیں ہوگا ۔یہ بات ہم بھی جانتے ہیں کہ اکثر غیر ملکی دوست بھی ڈنڈی مار جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ملک کا مفاد دیکھتے ہیں لیکن ہمیں ایسے لوگ پیدا کرنے کے لئے شاید جس محنت کی ضرورت ہے وہ ہم نہیں کر رہے ۔ہمارے ملک میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے مگر ہم نے اُن کے آگے آنے کے مواقے کم کر دئے ہیں ۔ہم سب کو ہی سوچنا ہوگا نہ اکیلا عمران کچھ کر سکتا ہے نہ کوئی اور جب تک ہم سب ملک کے مفاد میں اکھتے ہو کر اپنا اپنا حصہ نہیں ڈالینگے کچھ بھی بہتر نہیں ہوگا ۔
ایک دفعہ ہمت کر لیں کہ آدھی روٹی کھانا ہے اور قرض سے جان چھڑانا ہے یقین جانیں کچھ مشکل نہیں ہوگا ۔اس ملک نے ہم سب کو بہت دیا ہے اللہ کے فضل سے ۔کاش ہم سب مل کر اس کو اسکی طاقت دے سکیں۔ اسکی عزت بڑھا سکیں ۔۔ سوچنے کی بات ہے اور عمل کرنے کا وقت ۔

SHARE

LEAVE A REPLY