سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا زرداری صاحب مجھے گالیاں نہیں دے رہے، کسی اور کو خوش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے نہیں پتا کس لئے سزا بھگت رہے ہیں، کیا سی پیک کی سرمایہ کاری اور کراچی میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ نواز شریف نے کہا سپریم کورٹ کے ججز نے ریمارکس دیئے کہ کیس کرپشن کا نہیں، دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

نواز شریف نے کہا ایسی عدلیہ کا حامی نہیں جو ڈکیٹیر کے لئے راہ ہموار کرے، آزاد عدلیہ کی جدوجہد کی، نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا ہمارے ٹکراؤ کی بات ہوتی ہے، ہمیں ٹکر مارنے والے کو کوئی نہیں پوچھتا، جب بھی مارچ آتاہے تو مارچ کی افواہیں گردش کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں ہو رہا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کبھی نہیں دیکھا کسی کیس میں سپر جج نگرانی کر رہا ہو، میرے ریفرنس میں نگران جج کیوں؟۔ انہوں نے کہا ہزاروں کیس چل رہے ہیں، کسی کی نگرانی نہیں ہو رہی، توہین عدالت باہر نہیں، اندر سے بھی ہو سکتی ہے، وکلا کنونشن میں پوچھے گئے 12 سوالوں کا جواب نہیں ملا۔ نواز شریف کا کہنا تھا شریف خاندان میں اختلافات کی خبریں درست نہیں، ٹیکنو کریٹ حکومت سے متعلق 17 سال سے سن رہا ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY