ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 15

0
2065

اگلی صبح اکتیس مئی تھی ۔۔ میری آنکھ بہت جلد کھل گئی تھی ۔۔ اورڈاکٹر مدحت سید سے صبح نو بجے کی اپوائنمنٹ تھی ۔ میں نے فون چیک کیا تو بہت سارے میسجز تھے ۔۔ لیکن ایک میسج ایسا تھا جس نے مجھے اتنا ہلکا کر دیا کہ میں آسمانوں پر اڑ رہی تھی ۔۔ یوں جیسے مجھے اللہ پاک نے پر عطا کر دیئے ہوں۔

جن جن احباب کو میری بیماری کا علم تھا وہ سب اپنی اپنی جگہ پریشان تھے اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہدایات و صدقات و خیرات کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے تھے ۔ مجھے کئی برس سے یہ عادت بھی ہو چکی ہے اور یہ اطمینان بھی رہتا ہے کہ جب بھی کوئی ایسی مشکل ہوتی ہے تو سب سے پہلے بابا صاحب سے دعا اور تسبیح کے لیئے کہتی ہوں، جی ہم قریبی دوست جناب صفدر ہمدانی کو اسی وجہ سے بابا صاحب کہتے ہیں۔

لیکن ان کے ساتھ اس کے علاوہ بھی میرے کئی رشتے ہیں جن کے نام بھی الگ الگ تھے جنہیں صرف وہی سمجھتے تھے ۔۔
جب مجھے ان سے کوئی تعلیمی سوال پوچھنا ہوتا تو میں انہیں سر ہمدانی کہتی
جب مجھے ان سے علمی،فکری،دینی سوال پوچھنا ہوتا تو بابا صاحب کہتی
جب مجھے ان سے ایک دوست کی طرح گفتگو کرنی ہوتی تو صفدر کہہ کر مخاطب کرتی
جب مجھے ان سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنا ہوتا تو ایس ایچ کہہ کر بلاتی

جب مجھے ان سے علمی،فکری،دینی سوال پوچھنا ہوتا تو بابا صاحب کہتی

آپ سب جانتے ہیں کہ جناب صفدر ھمدانی کو میرے خاندان میں ایک اہم مقام حاصل ہے ۔ صرف میں ہی نہیں میرے احباب بھی مشکل وقت میں ان کے مشوروں اور دعاؤں سے فیضیاب ہوتے ہیں ۔ جب سے انہیں کینسر کی تشخیص کا علم ہوا تھا ، اسوقت سے لے کر اس لمحے تک وہ خود تو دعا کرتے ہی ہیں ۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بیرونی ممالک خاص طور پر عراق ایران اور شام میں اپنے تعلق داروں سے خاص طور پر میرا نام لے کر دعا کرنے کی درخواست بھی کر رکھی تھی ۔

مولائے کائیات حضرت علی علیہ السلام کے شہر نجف کے مولانا حسن جعفری جو خود کو جناب صفدر ھمدانی کا شاگرد کہتے ہیں اور جب بھی کوئی مشکل ہو وہ حسن جعفری سے یہ کہہ کر دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ مولا علی ع کے حرم میں انکی مرقد شریف پر جا کر نام لیکر دعا کی جائے۔ اس مرتبہ بھی سب سے پہلے جناب صفدر ھمدانی نے مولانا حسن جعفری سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ نجف میں نہیں کچھ دن کے لیئے اپنے آبائی ملک بھارت آئے ہیں۔ تا ہم رابطہ کرنے پر انہوں نے اپنے طلاب اور ساتھیوں کو نجف اشرف اور کربلا میں پیغام دیا کہ ڈاکٹر نگہت نسیم کی صحت اور کامیاب آپریشن کے لیئے خصوصی دعا کی جائے۔ انکے جواب میں کتنے ہی طلاب اور مولانا حضرات نے حسن جعفری کو واٹس ایپ پیغامات آڈیو کی صورت میں بھیجے کہ کس کس نے کہاں کہاں نام لیکر دعا کی ہے۔

میں خوش بخت ہوں کہ میرے لیئے نفس رسول زوج بتول مولا علی علیہ السلام کی قبر مبارک پر، حرم شریف میں، مولا حسین ع کے مزار پر،غازی عباس عملدار کے مزار پر اور بین الحرمین میں دعائیں کی گئیں اور ان دعاوں کے سائے میں ہی اب تک ہوں۔ جناب صفدر ھمدانی نے ملک شام میں سید ناظر جعفری کو درخواست کی کہ وہ دمشق میں فاتح دربار شام سیدہ زینب سلام اللہ کے مزار پر خود بھی دعا کریں اور وہاں نمازیوں سے بھی التجا کریں اور باذن ربی ایسا ہی ہوا۔

بابا صاحب مجھے باربار امام جعفر صادق کا یہ قول سناتے رہے کہ دعا مومن کے لیئے ڈھال ہے اور سچ کہوں تو میرے معاملے میں یہ سب دعائیں اس کینسر کے خلاف ڈھال بنتی جا رہیں تھی ۔۔ اور میں سراپا شکرگزار اور احسانمند تھی ان تمام احباب کی بھی جنہیں میں جانتی ہوں اور ان کی بھی جنہیں میں جانتی نہیں ہوں پر انہوں نے دن رات میرے لئے دعایئں کیں اور کروایئں ۔ اگر میں ان کے نام لکھنا شروع کروں تو مجھے ایک کتاب لکھنی پڑ جائے گی ۔ لیکن چونکہ بابا صاحب کی خواہش ہے اور ان سے وعدہ بھی ہے کہ انشاللہ احباب کے اہم تبصرے کتاب میں ضرورشامل ہونگے۔

صبح کے نو بج چکے تھے۔۔آفتاب اور میں سرجری پہنچ چکے تھے اور کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر مدحت سید کے روبرو بیٹھی تھی ۔
بلڈ ٹیسٹ ( Blood Test )
ٹیومر مارکرز ( Tmour Markers)
فل باڈی سی ٹی اسکین ( Full Body CT Scan )
بون اسکین (Bone Scan )
اور ڈھیر ساری تسلیاں

مدحت میری پیاری دوست ۔۔ میری مسیحا ۔۔ میرے لئے آسانیوں کی سبیل تھی ۔۔ اس نے ایک ہی فون پر سب کچھ جادوئی طریقے سے بندوبست کر دیا تھا ۔
اور میں سوچ رہی تھی ۔۔ اپنی روح اور جسم سے آشنائی بہت ضروری ہے ۔۔ چاہے کتنی ہی مشکل اٹھانی پڑے۔ جسم روح کا گھر ہے دونوں کی آسودگی ایک دوسرے سے مشروط ہے ۔ جب ہم آشنائے دکھ ہوتے ہیں تو سکھ کے دوار کھلتے جاتے ہیں۔ محدود سے وقت کو کم علمی کی بیہوشی میں ضائع نہیں کرنا چاہیئے ۔۔ ۔ ہمارے پاس کچھ بھی لامحدود نہیں ہے ۔ اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ جایئں اتنی ہی ہمارے لئے آسانی ہو گی ۔

کسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے بتایئے گا ۔۔ مدحت کی ملاحت بھری آواز مسیحائی کر رہی تھی
آئی ول ۔۔ میں مسکرا دی اور اپنی سوچیں لیئے کسنسلٹنگ روم سے باہر آگئی ۔

آفتاب کے چہرے پر فکرمندی میں پڑھ سکتی تھی لیکن انہیں بتانا نہیں چاہتی تھی کہ ۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY