نواز شریف کے تینوں نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

0
111

نواز شریف کی تینوں نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کرلئے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
سماعت میں وقفہ ہوا تو سابق وزیر اعظم نواز نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت کی اجازت کے بعد واپس روانہ ہوگئے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب ریفرنسز کی سماعت کررہے ہیں۔
نواز شریف کی تین نیب ریفرنسز کو یک جا کرکے ایک فرد جرم عائد کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے دوران خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ریفرنسز میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے اور تمام ریفرنسز ایک ہی انکوائری اور تحقیقات کے نتیجے میں بنائے گئے ۔ریفرنسزمیں الزام ہے کہ اثاثے نواز شریف کی ملکیت اور حسن و حسین نواز بے نامی دار ہیں۔
وکیل نے دلائل میں کہا کہ تینوں ریفرنسز میں ڈیفنس ایک ہی ہے، کیسز کی نوعیت بھی ایک ہے اور پراسیکیوشن بھی، اس لئے تین کے بجائے ایک ہی ریفرنس چلا کر کارروائی مکمل کی جائے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کے سیکشن 17 ڈی کے تحت درخواست نمٹانے کا حکم دیا ہے۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ریفرنسز کا دفاع ایک جیسا ہے،اس مو قع پر خواجہ حارث نے مختلف کیسز کے حوالے بھی پیش کیے ۔
انہوں نے نیٹو کنٹینرز سے متعلق کیس کا حوالہ بھی دیا گیا اور کہا کہ نیٹو کنٹینرز کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے49 ریفرنسز یکجا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
ان کامزید کہنا تھا کہ جوائنٹ ٹرائل کا مطلب ہےتینوں ریفرنسزاکٹھا کرکے ایک فرد جرم عائد کی جائے۔
جس پر جج احتساب عدالت کے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ریفرنسز تین ہوں گے مگر چارج ایک ہی فریم کیا جائے؟ جس کے جواب میں خواجہ حارث کے کہا کہ ایک ہی الزام پر متعدد ریفرنسز پر سماعت شفاف ٹرائل نہیں ہو گا۔
اس سے قبل نواز شریف، مریم نوازاور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف آج بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات تھی، جبکہ ن لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
اسلام آباد میں ایس ایس پی سیکیورٹی جمیل احمدہاشمی کافیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کادورہ کیا اور عمارت کی سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ بھی لیا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف جب پنجاب ہاؤس سے جب احتساب عدالت کے لیے روانہ ہوئے تو مئیر اسلام آباد، امیر مقام، تہمینہ دولتانہ اور دیگر رہنماپنجاب ہاؤس میں موجود تھے۔
احتساب عدالت نے 19 اکتوبر کونواز شریف کی تینوں ریفرنسز یک جا کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھی جس کے بعد فیصلے کو چیلنج کیا گیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان درخواستوں پردوبارہ سماعت کرنے کاحکم دیا۔
نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا تھا کہ درخواست مسترد کرنے کی کوئی قانونی وجہ بیان نہیں کی گئی ، آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ایک الزام پر صرف ایک ریفرنس چلایا جا سکتا ہے۔

نواز شریف ، مریم نوازاور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف اب تک نیب ریفرنسز کی 9 سماعتیں ہو چکی ہیں ۔ نواز شریف3جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر5مرتبہ پیش ہوئے۔
کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے باعث گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔
عدالت نے مفرور ملزمان حسن نواز اور حسین نواز کو بذریعہ اشتہار طلب کر رکھا ہے۔ وہ 10نومبر تک عدالت کے سامنے حاضر نہ ہوئے تو اشتہاری ملزم قرار پائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY