فاروق ستار کا سیاست چھوڑنے کا اعلان ۔ منانے کی کوششیں جاری

0
138

کا اعلان کردیا، ان کے حوالے سے ملک چھوڑنے کا اشارہ بھی سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے خبریں سامنے آرہی ہیں کہ ڈاکٹر فاروق ستار آئندہ ہفتے امریکا چلے جائیں گے جہاں وہ اپنی صاحبزادی کی شادی کریں گے۔
سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹرفاروق ستار نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا، اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، کئی کارکن رو پڑے، کارکنوں نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ واپس لے لیں تو انہوں نے کہا کہ میں ڈرامے نہیں کرتا۔
ایک کارکن نے اس وقت روتے ہوئے جذباتی ہو کر کہا کہ اگر آپ نے سیاست اور پارٹی چھوڑی تو میں خود کو گولی مار لوں گا۔
فاروق ستار نے کہا کہ میں کل حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے چہلم کے موقع پر پہلے مزار قائد پر حاضری دوں گا پھر یادگار شہدا ء جاؤں گا، یادگار شہداء پر جانا میرا حق ہے ،مجھے اور کارکنوں کو وہاں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، ہمیں ہمارے شہدا کی یادگار پر جانے دیں بے نظمی آپ روکیں،سیکیورٹی دیں۔
کارکنوں نے شدید نعرے بازی کرکے روتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کو روکنے کی کوشش کی تاہم وہ رکے نہیں اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔
اس سے قبل پریس کانفرنس میں انہوں نے مصطفےٰ کمال پر تنقید کے وار کیے ہیں جس سے متحدہ پی ایس پی اتحاد ٹوٹنے کی تصدیق ہوگئی، انہوں نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کہیں نہیں جارہی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ آج اہم اعلان کرنے جا رہا ہوں، ہم مہاجروں کی بقا اور سلامتی کے لیے سیاست کررہے ہیں، کل مہاجروں کے مینڈیٹ کی تذلیل ہوئی ، پی ایس پی کے رہنما مصطفےٰ کمال نے بڑا باریک کام کیا،اپنے فیصلے کےوجوہات اور محرکات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان شہری آبادی کی سب سے بڑی جماعت ہے،سینیٹ میں تیسری بڑی جماعت ہے، میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے مطابق چوتھی بڑی جماعت کا سربراہ ہوں، یہ تنظیم 8اگست 1986ء کے نشتر پارک کے جلسے سے ایم کیو ایم عوامی جماعت بنی، ایم کیو ایم نے تمام انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
سربراہ ایم کیوایم پاکستان نے کہا کہ میرا ایک ہی بینک اکاؤنٹ ہے ،میری گاڑی بھی اپنی نہیں ہے،مجھےاس وقت بلٹ پروف گاڑی دی گئی جب2013 کےالیکشن میں طالبان سےخطرہ تھا،گاڑی کی بلٹ پروفنگ کے 40لاکھ روپےخواجہ سہیل منصورنےدیے، جن سے گاڑی خریدی ان بیچاروں نے بھی پلٹ کر نہیں کہا کہ بھائی پیسے کب دیں گے،17 لاکھ میں مجھے 90 لاکھ کی گاڑی ملی، جس کے 5 لاکھ روپے بانی متحدہ کی اجازت سے پارٹی سے لیے، میں نے سرکاری پوزیشن ہوتے ہوئے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ میری لینڈ کروزر کی بات کی گئی، مصطفیٰ کمال اپنی لینڈ کروزر کا بتائیں کہاں سے آئی، خیابانِ سحر کا دفتر کہاں سے آیا، جس نام پر ہم جیتے ہیں مرتے ہیں، اس کو ہم کیسے مٹادیں گے،مصطفیٰ کمال کے پاس سوا تین کروڑ روپے کی گاڑی ہے،وہ اپنی گاڑی کا حساب دیں، بتائیں کہ ان کے پاس لینڈ کروزر کہاں سے آئی،مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے دیے گھر کی رقم نہیں لوٹائی،مجھے اپنی گاڑی کے 17لاکھ روپے اب بھی ادا کرنے ہیں،جبکہ مصطفیٰ کمال کی لینڈ کروزر نئی ہے،ان کےساتھ دوسرے رہنما کی گاڑی 3کروڑ سے زیادہ کی ہے،مجھے علم ہے کہ مصطفیٰ کمال کی گاڑی کہاں سے خریدی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جن لوگوں کی جائیدادیں ہیں وہ 2018 ءسے پہلے ان کا حساب دیں ،میں پانچویں بارایم این اے ہوں،میرےو الد نے 25ہزار روپے سے یہ گھر خریداتھا،1992ء کے آپریشن کے بعد بھاگ کر نہیں گیا ملک میں ہی رہا، خود پر ایک بھی مقدمہ این آر او سے ٕختم نہیں کرایا،عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کیا، میں جیل کے جس سیل میں تھا اس میں تین طرف دیواریں ایک طرف دروازہ تھا،خود کوآج احتساب کیلیےپیش کیا،میرے سیاسی سفرمیں یہ اہم دن ہے۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی ہو یا پاکستان میں کوئی بھی مقام انجینئرڈ سیاست نہیں چل سکتی، ہم پاکستان کے اندر پاکستان کی سیاست کرنے کھڑے ہوئے،ہم پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ۔
انہوں نے شعر پڑھا کہ
اوقات نہیں ہے آنکھ سے آنکھ ملانے کی
دعویٰ کررہا ہے نادان نام مٹانے کی
فاروق ستار نےکہا کہ اپنی تاریخ مٹادیں گے ؟ اپنے شہدا کی قربانیوں کو کیسے بھلا دیں ؟30 سال آپ نے بھی انہی لوگوں کے ساتھ سیاست کی،مصطفیٰ کمال سے مائیک لے کر لینڈکروزر کا جواب کل ہی دے دیتا، بانی ایم کیوایم کی دشمنی میں اتنے آگے نہ جائیں کہ جمہوریت ،مہاجروں کےمینڈیٹ کی تذلیل ہو،23اگست کے بعد ایم کیو ایم میری ہے نہ تیری ہے، پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کی ہے،آپ پی ایس پی بنائیں یا حقیقی شہداء کو کیسے بھلا سکتے ہیں،کل میرے ساتھی جو سوشل میڈیا پر تھے وہ زار وقطار رو رہے تھے۔
سربراہ ایم کیو ایم نے کہا کہ وہ میرے سامنے بیٹھ کر تندوتیز لہجے میں کہہ رہے تھے کہ ایم کیو ایم سے بات نہیں ہو سکتی، انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ بات کس سے کر رہے ہیں، ایم کیو ایم سے ہی بات کر رہے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان برقرار رہے گی کہیں نہیں جارہی،انیس قائم خانی سے صرف ایک بار ملا،جلسے سے دو دن پہلے ان سے ملاقات ہوئی تھی ، تاثر دیا جا رہا ہے کہ پتہ نہیں کتنی ملاقاتیں ہوئیں،6مہینے کی تفصیل میں جانا ہے تو یہ حصہ راز میں رکھا ہے،کہیں پر مصطفی ٰکمال بھائی کے ساتھ اکیلا نہیں ملا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انیس قائم خانی سے گلہ ہے کہ ہم کل کیا جذبہ لے کر گئے تھے اور ہمیں کیا صلہ ملا، وہ 6 مہینے کی تفصیل میں جانا چاہتے ہیں تو وہ خط بھی ظاہر کروں گا، آج ایک خط وزیر اعظم اور آرمی چیف کو بھیجا ہے۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ ملک کی سیاست کرنےوالی پی ایم ایل این کی کراچی میں ایک سیٹ نہیں،ہمارے ارکان اسمبلی پنجابی ہیں، پختون ہیں بلوچ ہیں، پی ایس پی والے کہتے ہیں پاکستان کی سیاست کر رہے ہیں تو چیلنج کرتا ہوں لاہور یا پشاورسے پی ایس پی ایک سیٹ جیت کر دکھا دے، جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر،پی ایس پی لاڑکانہ سے ایک سیٹ جیت کر دکھادے تو اپناجھنڈا اور نشان تمہارے سامنے اپنے ہاتھوں سے دفن کردیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ عمل قومی ہونا چاہیے،قومی لبادہ اورڑھنے سے قومی نہیں ہوجاتے،ہم لندن، بانی متحدہ سے علیحدہ ہوئے، اپنے شہداکی قربانیوں سے نہیں، دوستی کا ہاتھ بڑھایاتو اپنی اسپیس میں بھی آپ کو جگہ دینے کا فیصلہ کیا،کل سے میرے کارکن کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل ضمیر فروشی ہے، کراچی کے عوام کی اکثریت ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ہے،مصطفیٰ کمال کے رفقا ایم کیو ایم کو دفن کرنے کی بات کر رہے ہیں ،مصطفی ٰ کمال نے کہا ایم کیو ایم کا نام ختم ہونا چاہیے،مینڈیٹ رکھنےوالی پارٹی کو دفن کرنے کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں۔
سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ مفاہمت اور سیاسی اتحاد کا فیصلہ دیرپا امن کے لیے کیا، مفاہمت اور اتحاد کا مقصد مظلوموں کے ووٹ بینک تقسیم ہونے سے بچانا تھا،اس جماعت سے کیسے اتحاد ہوسکتا ہے جو مہاجروں کا گردانتی ہی نہیں ،مہاجر عوام کل سے دل گرفتہ ہیں ،کل جو مہاجروں کی دل آزاری ہوئی ہے اس سے پہلے نہیں ہوئی ،کراچی میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،پاکستان کی خاطر جانوں کی قربانی دینے والے سے اپنا تعلق کیسے ختم کریں؟
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں ایک سال سے بھتے کی ایک شکایت نہیں آئی ،ساتھیوں سے چندہ جمع کرکے جلسہ کرایا، ایم کیو ایم کے جلسے پر ڈرون کیمرا چلا تو ان کے سینے پر سانپ لوٹے کہ اتنی بڑی تعداد موجود تھی۔
فاروق ستار کے میڈیا سے خطاب کے دوران دبئی سے آنے والے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان بھی ڈاکٹر فاروق ستار کی رہائش گاہ میں پہنچ گئے۔
پریس کانفرنس کے دوران ذرا دیر کیلئے بجلی منقطع ہوئی تو ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اب یہ لائٹ بھی ایک سازش کے تحت بند کرائی گئی ہے ۔
فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ بانی متحدہ نے اگر اپنے پیر پر کلہاڑا مارا ہے تو اس میں کارکنوں کا قصور نہیں، ایم کیو ایم کا جھنڈا اور پتنگ مہاجروں اور مظلوموں کے جذبات سےوابستہ ہے، کل جو ہوا اس پر مجھ پر صدمہ ہوا،ہمیں بتادیا جائے کہ ہمیں سیاست کا حق ہے ہمیں یہاں زندہ رہنے کا حق ہے ؟ کارکن روئے لیکن مجھ سےدکھ شیئر نہیں کیا، میرےگھرآجاتے۔
انہوں نے بتایا کہ کل کی ملاقات کا فیصلہ مشاورت سے ہوا تھا ، ایک طرف آپ کک ماریں اور دوسری طرف کارکنان مخالف ہوجائیں، ایسا نہیں کہ میں نے فیصلہ مسلط کردیاسب کو اعتماد میں لیاتھا،فیصلہ کیا تھا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے،اس حوالے سے خواجہ اظہار، فیصل سبزواری، کامران ٹیسوری،خوش بخت شجاعت سب سے مشاورت ہوئی تھی۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنی پریس کانفرنس کے آخر میں کہا کہ آپ جانیں آپ کی پی ایس پی جانے، آپ جانیں اور آپ کی رابطہ کمیٹی جانے،کل شہدائے کربلا کا چہلم ہے، اس موقع پر پارٹی اور سیاست سے بھی الگ ہور ہا ہوں، اب بھی لوگ کہیں گے کہ میں ڈراما کر رہا ہوں تو کہتے رہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY