جمعیت علما اسلام (ف) سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وفاقی حکومت سے اگست تک مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں اکتوبر میں پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کرے گا۔
کوئٹہ میں کارکنوں کے ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کوئٹہ کا ملین مارچ ہمارا آخری ملین مارچ ہے اور اب ہمارا اگلا قدم اسلام آباد میں ہوگا’۔
کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اب ہم اسلام آباد کے لیے جارہے ہیں آپ جائیں گے یا نہیں کوئی رہ تو نہیں جائے گا’۔
کوئٹہ میں کارکنوں کی بڑی تعداد جمع تھی—فوٹو:جمعیت علما اسلام فیس بک
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ‘ہم ان کو پہلے مرحلے میں ان کو مہلت دے رہے ہیں کہ وہ اگست میں مستعفی ہوجائیں، اگر اگست میں مستعفی ہوئے تو اسلام آباد مارچ سے بچ جاؤ گے اور اگر اگست میں استعفیٰ نہ دیا تو پھر اکتوبر میں ہم اسلام آباد میں ہوں گے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اکتوبر میں پورا ملک اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا، یہ آزادی مارچ ہوگا جس طرح ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی اب اسی طرح ان سے آزادی حاصل کریں گے’۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ‘چونکہ موقف یہ ہے کہ الیکشن دھاندلی کے ہیں اور ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے اس لیے نئے الیکشن ہونے چاہیے، ابھی آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تھی جہاں اس موقف کو دہرایا گیا تھا لہٰذا نئے انتخابات ہونے چاہیے’۔
مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے، 30ہزار سے 40 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا شہری راشن خریدنےکے قابل نہیں رہا، حکومت کا پہلا بجٹ آیا تو ملک کے طول و عرض میں تاجر برادری نے ہڑتال کی اور تاریخی احتجاج ریکارڈ کروایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘تاجر برادری پاکستانی معشیت کو چہرہ ہوا کرتا ہے جب انہوں نے اس طرح احتجاج ریکارڈ کروایا تو پھر کون سی بات رہ جاتی ہے کہ ہم ان کو موقع دیں کہ تم نالائق بھی، تم نااہل بھی ہو پھر ہم ملک کی معیشت آپ کے حوالے کریں، اس لیے ہم ملک کی معیشت ان کے حوالے کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے’۔
حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم حکومت سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہیں، یہ حکمران ہمیں قبول نہیں، الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی اور یہ حکمران ہم پر جبری طورپر مسلط ہوئے ہیں۔












