امن وسکون کراچی کو بھاتا نہیں ہے۔ شمس جیلانی

0
123

کل ہم موضوع کی تلاش میں تھے کیونکہ ہم پاکستانیوں کو ان کے انتخاب کی داد دیتے دیتے تنگ آچکے ہیں۔ چنتے وقت وہ یہ دیکھتے ہی نہیں ہے کہ امیدوار کون اور ہے۔ اسوقت وہ لا الہ کو بھول کر دنیاوی ترجیحات میں چلے جاتے ہیں۔جو بہت سے چھوٹے الہاؤں طرف لے جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر مرتبہ دھوکا کھاتے ہیں کیونکہ ا نہوں نے لوہے کو سونا سمجھا ہوا ہوتا ہے اور وہ جب اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں تو شرم و حیا سب بھول جاتے ہیں ۔ حالانکہ میرے آقا(ص) کے ارشاد کے مطابق “حیاء ا یمان کا سب سے اہم جز ہے“ اور باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کابھی یہ قول ہے کہ“ جس میں حیا نہیں اس میں کوئی بھلائی اور خیر نہیں“ ہمیں اس پر ایک صاحب جوکہ آج ہم میں موجود نہیں ہیں یاد آجاتے ہیں ۔ یہ اسوقت بات ہے کہ پاکستان نیا نیا، بناتھا لوگ ایک دوسرے کوجانتے نہیں تھے۔ ان صاحب کی دوسرے صاحب سے کوئی لڑائی چل رہی تھی تو ہمارے سامنے ہی ایک قاصد کے ذریعہ انہیں کہلا بھیجا کہ “ اس سے کہدینا کہ میں مذہبی آدمی تو ہوں نہیں، میں نے اگر جھوٹ بولا، تو حلف اٹھا اٹھا کر جھوٹ بولونگا “اس میں جو سبق پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ جس کے دل میں ایمان نہ رہے تو قرآن کی زبان میں وہ درندہ ہوجاتا ہے؟ اب عالم یہ ہے کہ کوئی وہاں سچ بولتا ہی نہیں ہے۔ جبکہ عدالتیں سچ بلوانے کے موڈمیں رہتی ہیں ۔
آج جب ہم لکھنے بیٹھے تو ہم نے سوچا کہ ابھی ہمارے لکھنے کے وقت میں چند منٹ باقی ہیں پہلے خبریں ہی سن لیں شاید وہاں سے کچھ مل جائے؟ ہماری خوش قسمتی کہ وہاں سے اسی سیاسی ڈرامے کا آغاز ہو رہا تھا جس کی پہلی قسط ہم ایک دن پہلے دیکھ چکے تھے ؟مگر سمجھ میں نہیں آئی تھی ۔اب اسی کی دوسری قسط آرہی تھی۔ جبکہ کل والی پر یہاں پر دہ گرگیا تھا کہ کراچی کے سابق مئیر جو کبھی ایم کیوایم سے وابسطہ تھے اورا ب پاکستان جمہوری پارٹی کے رہنما ہیں، ایم کیو ایم کے لندن کے پہلے رہنما کے خلیفہ اول کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہنے کی قسمیں کہارہے ہیں! ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ ہے ضرور کچھ دال میں کالا؟ یا یہ انہیں بے بیوقوف بنا رہے ہیں یا وہ انہیں؟ کیوں کہ جن باتوں پر ان میں اتحاد ہو ا تھا ان میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔ ہم ہزاروں میل دور بیٹھ کر دیکھ ہی سکتے پوچھ کچھ نہیں سکتے تھے۔ مگر یہ مشکل میڈیا کہ نمائندوں نے آسان کردی ۔ اور انہوں نے پوچھنا شروع کر دیا کہ جب دونوں پارٹیاں ایک ہورہی ہیں توا ن میں سے کون کس میں ضم ہوگی ، نشان کونسا رہے گا اور دستور نیا بنے گا اگر نہیں تو پھر کس کا نافذ ہوگا۔ خلیفہ نے جواب دیا کے ابھی یہ تینوں باتیں طے ہونا باقی ہیں جو بعد میں طے ہونگی ؟ ایسا اتحادہم نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں پہلی بار سنا اور دیکھا تھا۔
آج وہی خلیفہ بہت غصے میں تھے۔ اور قسم کھاکر کے کہہ رہے تھے میں ویسا ڈرمہ نہیں کر رہا ہوں جیسا لندن والےرہنما کر تے رہیں۔اور شکایت کر رہے تھے۔ کہ کل جو میرے ساتھ بیٹھے تھے،انہوں نے اٹھتے ساتھ ہی میرے خلاف باتیں شروع کردیں اور مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ میرے کارکن میرے اوپر شبہ کر رہے ہیں کہ میں نے ایم کیوایم کا سودا کر لیا ہے؟ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میرے کارکن میرے اوپرشک کر یں۔ درمیان میں وہ بار ایک کھڑی کی طرف جاتے اور اسکرپٹ اپنا لکھا ہوایا کسی اور کے لکھے ہوئے میں سے پڑھ کر آتے اور پھر پریس کانفرنس اور آگے بڑھتی ۔ جب محفل گرم ہوگئی اور چاروں طرف با قاعدہ آہ بکاہ کے نعرے گونجنے تو خلیفہ صاحب پھر کھڑکی کی طرف گئے اور اعلان کردیا کہ“ میں آج سے سیاست بھی ترک کرتاہوں اور ایم کیوایم سے بھی استعفیٰ دیتا ہوں پھر کیاتھالو گ دیوانے ہوگئے ۔ میئر صاحب نے ان کے ہاتھ سے مائک چھین لیا اور جتنے مائک میز پرڈھیر تھے وہ میز پر سے نیچے گرادیے؟ مگر خلیفہ نہیں مانے اور یہ کہہ کر گھر اندر چلے گئے میں ڈرامہ نہیں کررہاتھا؟ پیچھے کارکن بھی ان کے گھرکے اندر چلے گئے تھوڑی دیر کے بعدہم نے ا س کا ڈراپ سین دیکھا وہ بھی دلچسپ تھا کہ ان کی والدہ محترمہ تشریف فرمایا ہیں اور وہ ان کےساتھ پریس کانفرنس فرمارہی ہیں؟ ا نہوں نے بیٹے حکم دیا کے تم فوراً ستعفیٰ واپس لو، نہ تم پارٹی کی رکنیت چھوڑو گے نہ اسمبلی کاعہدہ اور نہ ہی سیاست بلکہ اسی طرح پاکستان خدمت کرتے رہو گے جیسے کہ تم اب تک کرتے رہے ہو؟ جبکہ پورا شو براہ راست دکھایاجا رہا تھا شاید انہیں علم نہیں کہ دنیا دیکھ رہی ہے؟ اماں کی رہبری وہ کررہے تھے کہ اماں یوں کہو! اوریوں کہو! اور وہ دہرا رہی تھیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ قسم خدا کی یہ ڈرامہ نہیں ہے۔ بلکہ کارکنوں رورو کر انہیں مجبور کیا اوراماں نے مجھے حکم دیا اور میں استعفیٰ واپس لیتا ہوں۔ اس پورے ڈرامے میں صرف یہ حصہ غیر پروفیشنل لگا جو کہ فنی خرابی کی وجہ سے تھا اگر پردے کے پیچھے کسی کو بیٹھا دیتے تو انہیں خود مداخلت نہیں کرنا پڑتی ؟ اور یہ ڈرامہ حقیقت معلوم ہو تا۔ پھرآگے تو انہوں نے حد ہی کر دی کہ اماں یہ بھی کہدو؟ کہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ جو کل معاہدہ ہوا تھا ہم اس پر قائم ہیں وہ بھی ایم کیوایم میں شامل ہو جائیں۔جھنڈا یہ ہی رہے گا نام بھی یہ ہی رہیگا۔ نشان بھی رہے گا۔حاصل کیا ہوا کہ آزمودہ نسخہ تھا ایک ہی رات میں خلیفہ نے پیر جی کی جگہ لے لی اور وہ مقبولیت کے عروج پر پہونچ گئے۔ جو نا تجربہ کار سیاست داں انہیں شکست دینے چلے تھے۔ وہ خود ان کے ہاتھوں شکست کھا گئے؟ بالکل اسی طرح کہ ایک ڈاکٹر ڈھور بھینس کے یے بانس کی نلکی میں دوا ڈال کر لا ئے کہ دوسری طرف سے پھونک ماریں گے تو دوااس کے پیٹ میں چلی جا ئیگی! بھینس زیادہ ہوشیار تھی اس نے ان سے پہلے پھونک ماردی اور بھینس کی خوراک ڈاکٹر صاحب کے پیٹ میں اتر گئی۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اس میں کراچی والوں کی بدقسمتی کیا ہے؟ تو عرض یہ ہے کہ تین عشروں کے ایم کیو ایم کا طلسم کچھ ٹوٹا تھا کہ معاملہ پھر انہیں کے ہاتھ میں چلا گیا جوکراچی میں نفرتوں کے ذمہ دار تھے۔ جنہوں نے جیتے جاگتے شہر کو بیابان جنگل بنا دیا تھا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے ۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY