آہ یکم مئی؟نگہت نسیم،اشاعت مکرر

0
1630

1 May 2018

میرا یہ کالم مندرجہ بالا تاریخ کو طبع ہوا تھا جو آج بھی تازہ ہے صرف کردار اور نام بدلے ہونگے ورنہ حالات وہی ہیں

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

بس آجکل عجیب سے دن رات ہیں ، دل لگنے کی کوئی بات طے نہیں ہو پا رہی ۔۔ ۔۔ حالانکہ میں ہر موسم میں چپکے سے طے کر لیا کرتی ہوں کہ آجکل مجھے دن اچھا لگ رہا ہے کہ رات ، سو مجھے اسی اچھے وقت میں کتابیں پڑھنا ہوتی ہیں ۔۔ میوزک سننا ہوتا ہے ۔۔ فلم دیکھنا ہوتی ہے ۔۔ دوستوں سے فون پر لمبی گپ شپ کرنا ہوتی ہے ۔۔ پھر کبھی کبھار قلمم اٹھانا بھی اسی وقت طے ہوتا ہے ۔۔اور کچھ لکھ بھی لیا کرتی ہوں ۔

جانے یہ کیسے دن رات ہیں کہ کسی کام میں بھی جی نہیں لگ رہا ۔۔ نا دن میں اور نا رات میں ۔۔ ہر طرف آوازیں اور چہرے ہیں ۔ کبھی معصوم بچوں کی طرح مانوس چہرے ڈھونڈنے لگتی ہوں اور کبھی آوازوں کی سمت سماعتیں رکھ دیتی ہوں ۔۔ دھماکے ۔۔بم بلاسٹ ۔۔ اخباروں کی شہ سرخیوں میں مقتول کی دہائی اور ٹی وی کی شہ سرخیوں میں قاتل کے فسانے ۔ اتنا شور کہ خاموشی میں اپنی سانسیں ڈراؤنی لگتی ہیں ۔۔ کبھی بوڑھی سیانی بھی ہو جاتی ہوں ، گم سم سی ہر شور دور سے آتا لگتا ہے ۔۔۔ قرب قیامت کے آثار کے ساتھ ہی قبر کی گہرائی اور تنہائی سب گڈمڈ کرنے لگتا ہے ۔۔۔۔

کتنے دنوں سے خود کو سمجھا رہی ہوں کہ بس موڈی پن بہت ہو گیا۔۔۔اب باہر آ جاؤ اور کسی خانے میں خود کو خود ہی فٹ کر لو ۔۔۔ ورنہ کوئی خبر تمہاری خبر لے لے گی ۔۔اچھی رہو گی ؟
“ نہیں کبھی بھی اچھی نہیں رہو گی“ ۔۔ میں خود کو جواب دینے لگتی ہوں تو کبھی پوچھنے بیٹھ جاتی ہوں کہ میرا خانہ کونسا ہے ۔۔۔اور کبھی بلا وجہ کی تاویلیں اور بہانے ۔۔ ؟

نوشی عقیل کا انباکس مسیج گرا ۔۔ آپی آج یکم مئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔!
میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔ سوچتی ہوں یکم مئی کچھ مزدوروں کا دن نہیں بلکہ ہم سب کا دن ہے ۔ ہم سب زندگی کے مزدور جو ہوئے ۔۔ محنت کرتے ہیں تو اپنے دن کو رات تک لا پاتے ہیں ۔۔ پیٹھ پر کبھی اینٹیں لادے تو کبھی کتابیں تو کبھی یادیں ۔۔۔ بوجھل لوگ ۔۔۔۔۔۔ ہر دن یکم مئی ہے ۔۔!‌
ویسے بھی مجھے یکم مئی کبھی مزدوروں کا دن نہیں لگا بلکہ مزدوری کروانے والوں کا دن لگتا ہے ۔۔ بڑے لوگوں کا دن جو چھٹی کرنے کی بھی تنخواہ پاتے ہیں ۔۔ مزدور تو مزدور ہیں اس دن کام نہیں تو اجرت بھی نہیں ۔۔شاباش ، ترقی اور بونس تو خواب کی باتیں ہیں ۔۔
آہ یکم مئی ۔۔!

نوشی عقیل سے یاد آیا کل شام کو سیالکوٹ ‌سے اس کا فون آیا تھا ۔۔ اس کی بخار زدہ آواز سن کر مجھے یوں لگا جیسے مجھے بھی بخار کے وقت شدید سردی لگنے لگی ہو اور ریڑھ کی ہڈی میں ہولے ہولے اترنے لگا ہو ۔
“ سنو تم یوں کرو ایموکسل پانچ سو ملی گرام کے دن میں تین بار یا آگمینٹین کی ایک گولی صبح شام کے ساتھ پیناڈول کی دو دوگولیاں صبح دوپہر شام لے لو اور ہاًں ایول کھانا مت بھولنا۔۔ اور جو ایول کی گولی نا ہو تو کھانسی کا کوئی شربت ایک بڑا چمچہ دن میں تین بار پی لو ۔۔“
میری ایک سانس میں کی گئی تنبہہ اور صلاح پر وہ کمزور سی آواز میں بولی
“‌ آپی سیالکوٹ‌سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں چھ دن سے میڈیکل اسٹور بند ہیں “‌
“دوا کہاں سے لاؤں “‌
” اچھادیکھتی ہوں کوئی کینٹ‌میں جا کر پتہ کر دے شاید وہاں مل جائے ۔ ہوسپٹل کے میڈیکل اسٹور والے بھی دوا ایڈمیشن کے بغیر نہیں دے رہے ”
یہ تو بتاؤ کہ کیوں بند ہے ۔۔۔۔۔ ؟
میری آواز میں تاسف اور پریشانی سے سختی آچکی تھی ۔۔ پر مجھے یاد آیا جعفر حسین عرف تینوں کی نے اپنے میاں چنوں والے فورم پر میڈیکل اسٹور بند ہونے والی پوسٹ‌لگائی تھی ۔۔۔۔ سچی بات ہے جب تک کوئی اپنا اس تکلیف سے نہیں گزرتا دوسروں کی تکلیف کا اندازہ نہیں ہوتا۔۔ جعفر مجھ سے کہتا ہی رہ گیا کہ پلیز کچھ لکھئے اس پوسٹ پر یہ بہت بڑا مسلہ ہے ۔۔ پر اس وقت یہ مسلہ مجھے اپنا نہیں لگ رہا تھا شاید اور آج اپنی بہن ،اپنی دوست کی طبعیت خراب تھی اور اسے فوری دوا چاہیئے تھی اورجو مل نہیں رہی تھی ۔۔۔ اندازہ ہوا مسلہ بہت سنگین تھا بلکہ مزید ہوتا جا رہا ہے کیونکہ میڈیکل اسٹور ایک ہفتہ اور بند رہیں گے ۔ اور اگر حکومت نے بات نا سنی اور مانی تو کئی دن اور بھی بند رہ جانے کا امکان ہے ۔۔ وجہ یہ کہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کی پرچی کے بغیر کوئی دوا نا دی جائے ،دیکھا جائے تو بات ایک طرح سے ٹھیک ہیں ۔۔ بات سیدھی سی یہ ہے کہ لوگوں کی بساط نہیں کہ وہ ایک ہی وقت میں ڈاکٹر کو بھی دکھایئں اور دوا بھی خریدیں ۔۔ اگر کوئی بحالت مجبوری ڈاکٹر کو بھی دکھا دے اور دوا بھی خرید لے تو پھر وہ صرف کنگال ہی کہلاتا ہے ۔۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ سر چھپاؤں تو پاؤں ننگے ہوتے ہیں ۔۔

اور دوسری بات میڈیکل اسٹور والوں پر جو ایکٹ لگایا گیا ہے وہ انہیں منظور نہیں ۔۔۔یاد رہے کہ ڈرگ ایکٹ 2017 کے تحت میڈیکل اسٹور میں ہر وقت ایک ماہر فارماسسٹ کی موجود گی لازمی قرار دی گئی ہے اور میڈیکل اسٹور میں گندگی پر بھی سزا ہو گی۔نئے ایکٹ کے تحت جعلی ادویات بنانے والوں کے خلاف سزاوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور بغیر لائسنس ادویات بنانے یا فروخت کرنے والوں کو 3 سے 10 سال تک قید کی سزا ہوگی جب کہ 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ اس ایکٹ میں تخفیف کے لئے یونین بنائی جاتی ۔۔ قانون کا سہارا لیا جاتا لیکن شہریوں کو پریشان کرنا جو پہلے ہی جاں بلب ہیں انہیں اور کیا مارنا ۔۔ !

پر کس کو سنایئں ۔۔ کس کو سمجھایئں ۔؟

پیپلز پارٹی کو ہری پگڑی والوں کو راضی کرنے سے فرصت نہیں ۔۔ ان کو اسلام پر ریسرچ کے لئے پندرہ سو ایکڑ زمین یونیورسٹی کی مد میں دی ہے ۔۔ یہی زمین اپنے باپ دادا کے نعروں کے مطابق غریبوں ، حقداروں کو مکان کی مد میں بانٹ دی ہوتی تو ان ہزاروں گھروں سے کئی سو ریسرچ اسکالرز نکل آتے ۔۔۔ لیکن پی پی پی کو ووٹ‌ بینک چاہیئے نا کہ مستقبل کے ریسرچ اسکالرز ۔۔۔۔۔۔۔ ن لیگ کو نواز شریف کی نا اہلی کو رونے سے ہی فرصت نہیں ۔۔ اسے چاہے اس کے بھائی نے ہی سازش کر کے نکلوایا ہو ۔۔ نواز خاندان کو وہم ہو چلا ہے کہ نعوز باللہ وہ ملک پاکستان کے خدا ہیں جو کبھی معزول ہی نہیں ہو سکتے ۔۔ عمران خان کو شادیوں سے فرصت ملتی ہے تو جلسے کر لیتے ہیں ۔۔ اسی شغل میلے میں ان کی زندگی گزر جائے گی اور جو اس ملک کے اصل مسائل ہیں وہ جوں کے توں پڑے ہیں ۔۔۔ انتظار کے گانے تو لندن سے فون پر الطاف حسین بھی گاہے گاہے سناتے ہیں ۔۔
پر کیا ہم صرف سننے کے لئے پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔؟
کیا یہ راج پاٹ‌۔۔ سرکار سننے کے پیسے لیتی ہے ؟
کیا ہمارے ووٹ‌کی قیمت یہ ہے کہ ہم صرف سنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

اف بات کہاں سے کہاں نکل گئی ۔۔۔۔نوکریاں نہیں ہیں ۔۔ جو نوکری پر ہیں انہیں وقت پر تنخواہ نہیں ملتی ۔۔ ملاوٹ ، اخلاقی گراوٹ ۔۔ اب ڈاکٹرز بھی ہڑتال پر ۔۔۔۔ میڈیکل اسٹورز بند ۔۔۔ بچے بیمار ہیں ۔۔ بوڑھے مر رہے ہیں ۔۔ کیا جوان ان حالات میں جی پایئں گے ۔۔۔۔کیسے بتاؤں ، کسے سمجھاؤں “ ارے نہیں جی پایئں گے ۔۔“ ۔ ہائے میری دوست ثمینہ ٢٨ اپریل کی صبح ہارٹ‌اٹیک سے مر گئی ۔۔۔ شکر اسے اس اذیت سے نہیں گزرنا پڑا کہ سرکاری ہسپتالوں میں قیامت کا رش ہے ۔۔۔ پرایئویٹ‌ ہوسپٹل میں ایک دن سے زیادہ رہنے کی حثیت نہیں ۔۔۔ ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ۔۔ میڈیکل اسٹور بند ہیں ۔۔ شکر ہے ثمینہ تمہیں ایسی کسی اذیت سے نہیں گزرنا پڑا ۔۔۔ آس پاس کے لوگوں نے بتایا کہ بس تمہیں سینے کے بایئں جانب درد ہوا تھا ۔۔ پھر کچھ جی متلایا اور تم ایک جانب گر گیئں ۔۔۔۔ پر یاراں کیسی گریں کہ ہمیں گر اگئی ہو۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے بتا کر گئی تھیں پر ہمیشہ کے لئے جا رہی ہو یہ نہیں بتایا تھا۔۔۔

آپ کچھ کریں نا ۔۔۔۔۔ آپی لکھیں نا۔۔ نوشی عقیل کی آواز کبھی قریب سے سنائی دیتی ہے اور کبھی بہت دور سے آتی لگتی ہے ۔
“ آپ جیسوں کی سوچ مفلوج نہیں ہونی چاہیئے ۔۔ “ ۔۔
ہر طرف سے کئی اور امید بھری آوازیں ہیں ، بڑے مان سے کہتی ہیں “ آپ کو احتجاج کرنا چاہیئے ۔۔ شدید مذمت کریں۔۔ ! “
میرے عزیزو ۔۔ میرے پیارو ۔۔۔۔
حکمران تو عوام کا آئینہ ہوتے ہیں ۔۔ تم سب جانتے ہو نا اللہ پاک نے تو کہہ دیا ہے “بےشک تمہارے اعمال تم پر حاکم بنائے جاتےہیں اور جیسے تم ہوگے ویسے ہی تم پر حاکم مسلط کئے جائیں گے.”
اب تم ہی کہو ۔۔۔۔۔۔
اندھے ، گونگے ، بہرے ، بے حس معاشرے کو کیسے مخاطب کروں ۔۔؟ بس آجکل عجیب سے دن رات ہیں ، دل لگنے کی کوئی بات طے نہیں ہوپا رہی ۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY