پاکستان ھے تو ھم ھیں۔علی شان

0
910

میرے بہت سے دوست و مہربان نالاں ھیں کہتے ھیں کہ چپ کیوں نہیں رھتے۔جب ساری قوم پیپلز پارٹی کے ھیجان میں مبتلا تھی اور تم جیل بھیجے جارھے تھے تم اس وقت بھی رھتے تھے۔اس سے پہلے تمھیں قدرت نے موقع دیا اور تم شہباز شریف کے لاھور چیمبر میں افسر تعلقات عامہ بنے مگر تم اسکے غیر قانونی احکام نہ ماننے کی پاداش میں ملازمت سے ھاتھ دھو بیٹھے جبکہ تمھاری خدمات کے اعتراف میں انکا بہنوئی سہیل ضیاء بٹ خود اپنی گاڑی میں تمھیں رات دیر تک کام کرنے کے بدلے خود گھر چھوڑنے جایا کرتا تھا۔۔پھر یہی نہیں تم اس تب بھی پنجاب کے واحد صحافی بنے جس نے عروج کے عین اسوقت جب شریف فیملی کا ھر طرف طوطی بول رھا تھا جرنیل ججز اشرافیہ انکے قدموں میں بیٹھتی تھی تم نے شہباز شریف کی لاھور چیمبر آف کامرس سے صدارت کے اختتام پر اس وقت کے سرکاری اخبار پاکستان ٹائمز میں شہباز شریف کے دور کو بد ترین سیاسی دور قرار دیا جس میں لاھور چیمبر کے کئی ملازمین اس کے ذاتی ملازم نہ بننے پر نوکری سے برخاست کئے گئے۔تم خوشحال پاکستان کے لئے سرکاری ملازمت میں ھوتے ھوئے بھی غلام حیدر وائیں سے لیکر منظور وٹو تک کو پنجاب کے وزراءِ اعلیٰ بننے کے بعد بھی سمجھاتے رھے کہ سرکاری ملازموں کے گھر، موٹر سائیکل اور کار خریدنے کے سرکاری قرضوں کے لئے بجٹ میں فنڈز نہ رکھکر اور تنخواھوں میں مہنگائی کے مطابق اضافہ نہ دے کر ظلم کر رھے ھو جس سے کرپشن اور رشوت ستانی میں مسلسل اضافہ ھو گا جو بالآخر صوبائی اور ملکی تباھی پر منتج ھو گا۔

تم بحیثیت ضلعی افسر راولپنڈی آفس بحکم وزیر اعلیٰ پنجاب، اعجاز الحق اور انوار الحق کے لئے تقریریں لکھتے ھوئے بھی انھیں دوسروں کی کردار کشی سے باز رکھنے کی کوشش میں لگے رھے یہاں تک کہ حسین حقانی کو فیڈرل انفارمیشن ایڈوائزر اور بعد از صوبائی وزیر اطلاعات بننے پر بھی سمجھاتے رھے کہ پاکستان اول ھے پاکستانی بنئے یہ تمھاری ھی جدوجہد تھی کہ جو بے نظیر کی کردار کشی کے لئے جہازوں سے گرائے جانے والے بقیہ پمفلٹ تم نے حسین حقانی کے اسلام آباد کے گھر سے اٹھائے اور اپنے ھاتھوں سے انھیں تلف کر دیا۔ تم بھی عجیب تھے کہ بڑے بڑے سرکاری افسر اپنا عقیدہ چھپاتے ھوئے اھل تشیع کی مجالس و جلوس پر پابندی لگاتے تھے اور تم کٹڑ وھابی ڈپٹی کمشنر اسامہ موعود سے بحث مباحثہ کر کے شیخوپورہ کے جلوس پر پابندی کو ختم کراتے تھے یہاں تک کہ اسکی شکایت پر تمھیں ضلعی افسر کے عہدے سے ٹرانسفر کر کے واپس ھیڈ آفس بھیج دیا گیا اگر چوھدری بشیر ایس پی شیخوپورہ تمھارا خیر خواہ نہ ھوتا تو نجانے تمھیں اور کیا کچھ دیکھنا پڑتا۔تم وھاں بھی باز نہ آئے اور محکمہ جیل کے وزیر کے پی آر او کی حیثیت سے اندر ھی اندر اسیر شیعہ اور دیگر مظلوم قیدیوں کی بےلوث امداد کرتے رھے جس کا خمیازہ تمھیں سپاہ صحابہ کی قیادت کی جانب سے خود پر قتل کے جھوٹے مقدمات قائم کئے جانے کی صورت میں ملا۔ قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قید ھوئے اور آخر کار ملک چھوڑ کر پردیس آنا پڑا۔ تم یہاں بھی باز نہیں آرھے تمھارا قلم پھر چل رھا ھے اور تم آئندہ بھی اپنی مشکلات میں اضافہ ھی کرنے پر تلے بیٹھے ھو۔

یہ ھیں وہ نصحتیں ھدائیتیں مشورے جو مسلسل چالیس سالوں سے میرے خیر خواہ مجھے دیتے چلے آرھے ھیں مگر قارئین آپ بتائیے جس کے اجداد کو مدینے کی گلیوں میں گھسیٹا گیا ھو۔جس کی جدہ کہے کہ بابا اگر یہ ظلم سفید دنوں پر پڑتے تو وہ سیاہ ھو جاتے۔ جس کے بڑے کربلا میں شہید کر دیئے گئے ھوں۔ جس کے آباء کی لاشیں کبھی زندان میں اور کبھی نہر کے پل پر بے یار و مددگار پڑی ملی ھوں۔جس کے بزرگوں کو مسلسل صدیوں جلاوطنی پر مجبور کیا گیا ھو۔ وہ مدینہ چھوڑ کر جان بچانے کے لئے صعوبتیں برداشت کرتے ثمر قند بخارہ جیسے دور دراز سرد خطوں میں پہنچے ھوں اور وھاں سے بھی آگے ھندوستان آ گئے ھوں تو وہ کیا کرے۔اگر یہیں پر بس ھو جاتا تو شاید آج اسکا قلم رک جاتا مگر 1947 میں تشدد کے نتیجے میں پھر اسکے والدین کو بھرا گھر بار چھوڑ کر فقط تین کپڑوں میں پاکستان آنا پڑا اور انکی ھجرت کے فقط انتالیس سال بعد ھی اسے مذھبی جنونیوں کے ھاتھوں مجبور ھو کر پاکستان چھوڑنا پڑا جنکی پشت پناھی پاکستان کی حکومتیں مسلسل اندرون کھاتا کرتی چلی جا رھی ھوں۔ اب جلا وطن ھو کر اسے واپسی کا کوئی امکان نظر نہ آرھا ھو۔ وطن کے حالات سدھرنے کی بجائے دن بدن اور خراب ھوتے جا رھے ھوں۔ انصاف اور امن کی بجائے بسوں سے شیعہ اتار کر قتل کئے جائیں اور قاتل وزیر اور سینیٹر بن جائیں تو وہ گلشن کی ویرانی پر بلبلِ نوحہ خواں نہ بنے تو کیا بنے۔ قارئین میری تحریریں ھر اس کو بری ضرور لگتی ھونگی جو پیپلز پارٹی ن لیگ یا پی ٹی آئی سے ھمدردی رکھتا ھو گا مگر مجھے یقین ھے جو پاکستان سے ھمدردی رکھتا ھو گا وہ میری طرح ضرور آہ و زاری کر تا ھو گا اور سب کو سمجھاتا ھو گا کہ پاکستان ھے تو ھم ھیں ورنہ ھندوستان ھندوؤں کا ھے اور یورپ گوروں کا۔اس بات کا اندازہ کشمیریوں سے یا ان لوگوں سے زیادہ کس کو ھو گا جو بیرون وطن رھتے ھیں سب کچھ ھونے کے باوجود بھی پاکی کہلاتے ھیں یا پھر بلڈی امیگرینٹس۔۔۔۔۔

علی شان

SHARE

LEAVE A REPLY