وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی سپیکر اور گورنر پنجاب رفیق رجوانہ سمیت دیگر رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں آئینی ترامیم اور موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ آئینی ترامیم پیپلز پارٹی کی مدد کے بغیر منظور نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ رابطوں اور گفتگو کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آصف زرداری نئی آئینی ترامیم میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ کوئی پارٹی رکاوٹ بنے گی تو تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا ہے۔ برسوں پہلے ختم ہونے والا حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کا مقصد سمجھ سے بالاتر ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ وہ وقت آئے، جب سب کو ٹرک میں بیٹھنا پڑے، پاکستان میں ووٹ کے ذریعے ہی تبدیلی آنی چاہئے۔ ن لیگ کا یہ اہم اجلاس 3 گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
ایاز صادق سے ملاقات سے قبل وزیر اعظم نے اسلام آباد سے لاہور آمد پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شباز شریف سے بھی طویل ملاقات کی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY